صوبائی دارالحکومت سے بچوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں 7گروہوں کا انکشاف

صوبائی دارالحکومت سے بچوں کے اغوا کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں 7گروہوں کا ...

  

لا ہور (اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے ) صوبائی دارالحکومت سے بچوں کے اغوا کی بڑ ھتی ہو ئی وارداتو ں میں 7گرو ہو ں کاا نکشاف ہواہے ۔ ذرا ئع کے مطابق پولیس کی تفتیش میں 7ایسے گروہ سامنے آئے جوبچوں کے اغوا میں ملوث ہیں ، ان میں سے 5گروہ افغانیوں کے ہیں جبکہ باقی جنوبی پنجاب ، لاہور اور دیگر شہروں سے تعلق رکھنے والے جرائم پیشہ افراد کے ہیں۔ان کے کارندوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے، یہ کارندے مختلف علاقوں سے بچوں کو اغوا کرکے اپنے بڑوں کی بتائی ہوئی جگہوں پر پہنچا دیتے ہیں جس کے بعد ان بچوں کو تاوان یا دیگرمعاملات کیلئے استعمال کیا جاتاہے۔ اغوا کار گروپوں میں سے 4پکڑے بھی گئے مگر مقدمات کی عدم پیروی پر جیلوں سے رہا ہوچکے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ لوہامارکیٹ بادامی باغ ، شادمان اور گلبرگ سے تعلق رکھنے والے معروف تاجروں کے بیٹوں کواغوا کیا گیا تو انہوں نے بھاری تاوان ادا کیا لیکن پولیس کی مدد نہیں کی تھی۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ زیادہ بچے ان علاقوں سے اغوا ہورہے ہیں جہاں مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے جبکہ اغوا ہونیوالے 25فیصد بچے ڈیفنس ، ماڈل ٹاؤن ، شادمان سمیت لاہور کے پوش علاقوں کے رہنے والے تھے۔ کچھ بچے تو تاوان یا بردہ پوشی کیلئے اغوا کئے جارہے ہیں جبکہ بہت سے بچے گھروں سے ناراض ہوکر ایسی سوسائٹی میں چلے جاتے ہیں جہاں وہ نشہ اور دیگر سماجی برائیوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، بہت سے بچے سنوکر کلب اور ویڈیو گیم کی دکانوں سے بھی غلط لوگوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔اغوا اور لاپتہ ہونے والے بہت سے بچوں کو باقاعدہ ایک مافیا داتادربار، ریلوے سٹیشن، لاری اڈا ، نیازی اڈا،نواں کوٹ کے باہر بنے ہوئے ہوٹلوں میں لے جاتے ہیں وہاں انہیں فحش فلمیں دکھانے سمیت نشہ آور چائے ،صمد بونڈ اور دیگر نشہ آور چیزیں دی جاتی ہیں یوں بچوں کو ان چیزوں کا عادی بنایا جاتا ہے اورپھر وہ اس ماحول میں ایسے پھنس جاتے ہیں کہ ان کی گھروں کوواپسی مشکل ہوجاتی ہے۔ داتا دربار لاری اڈا اور بھاٹی گیٹ کے باہر ایسے کئی ہوٹل ہیں، متعدد بار این جی اوز نے یہاں سے بچوں کو بازیاب بھی کرایا مگر اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔ادھر ریلوے سٹیشن لکشمی چوک اور رائل پارک میں صمد بونڈ سونگتھے اور گاڑیوں کو صاف کرتے بچوں میں سے اکثریت ان کی ہے جو گھروں سے بھاگے ہوتے ہیں اور نشہ کی لت میں پڑجانے اور گھروالوں کے خوف کی وجہ سے واپسی کا رخ نہیں کرتے۔ذرا ئع کے مطابق ایسی 3این جی اوز کیخلاف باقاعدہ کارروائی بھی کی گئی، تھانہ لوئرمال، تھانہ بھاٹی گیٹ، اور پولیس چوکی داتادربار میں اس کا ریکارڈ بھی موجود ہے۔ دوسری جانب معصوم بچوں کے حوالے سے بتایاگیا حکومتی ادارہ، چائلڈ پروٹیکشن بیورو نہ ہونے کے برابر کام کررہاہے۔

مزید :

علاقائی -