5لا پتہ بچے گھر واپس آ گئے ،والدین سے لڑ کر گئے تھے ،دو بہنیں بھی مرضی سے رحیم یار خاں گئیں

5لا پتہ بچے گھر واپس آ گئے ،والدین سے لڑ کر گئے تھے ،دو بہنیں بھی مرضی سے رحیم ...
 5لا پتہ بچے گھر واپس آ گئے ،والدین سے لڑ کر گئے تھے ،دو بہنیں بھی مرضی سے رحیم یار خاں گئیں

  

لا ہور(وقائع نگار،اپنے کرا ئم ر پو رٹر سے ) مختلف مقامات سے لاپتہ ہونے والے پانچ بچے خود ہی گھر پہنچ گئے، گھر والوں کی مارپیٹ سے تنگ آکر خود گھر سے بھاگے تھے ،لاپتہ ہونے والی دو بہنیں بھی اپنی مرضی سے دو لڑکوں کے ساتھ رحیم یارخان گئی تھیں۔تفصیلا ت کے مطا بق لیاقت آباد میں چوبیس جولائی کوعقیل نامی دس سالہ بچے کے اغوا کا مقدمہ اس کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا، جمعرات کے روز گھر پہنچ گیا۔بچے نے پولیس کو بتایا کہ وہ والدین کی مار پیٹ سے تنگ آکر اپنے دوست کے گھر چلا گیا تھا۔اسی طرح کوٹ لکھپت میں بھی چوبیس تاریخ کو ایک مقدمہ درج ہوا جس میں عمر نامی بچہ لاپتہ ہوا تھا جو خود ہی گھر پہنچ گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ بچے کو مدرسے میں استاد نے مارا اور وہ اپنی والدہ سے اسی بات پر لڑ کر گھر سے چلا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد سے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے مزید دو بچوں کا بھی پتہ چل چکا ہے جنہیں ملتان ریلوے پولیس نے ٹکٹ نہ ہونے کے باعث حراست میں لیا، انکے والدین نے لیاقت آباد میں اغوا کا مقدمہ درج کروا رکھا ہے۔ہربنس پورہ کے علاقہ سے لاپتہ ہونے والا نو سالہ مبشر بھی رات اڑھائی بجے پولیس کو بٹ چوک پر اکیلا بیٹھا مل گیا۔وہ گھر سے نان لینے نکلا اور لیٹ ہونے پر والدہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے ڈر سے خالہ کے گھر چلا گیا اور وہاں سے بھی خود ہی بھا گ گیا۔ رات اڑھائی بجے پولیس نے بٹ چوک میں اکیلے مبشر کو بیٹھے دیکھ کر پوچھ گچھ کی تو اس نے بتایا جس پر مساجد میں اعلانات کرائے گئے جنہیں سن کر مبشر کی خالہ آگئی جس کے ذریعے بچے کے والدین کو اطلاع دی گئی اور ایس پی کینٹ عبادت نثار نے بچے کو والدہ کے حوالے کر دیا۔اسی طرح عید کے روز دو بہنیں اچانک لاپتہ ہوئیں جن کے اغوا کا مقدمہ تھانہ رائے ونڈ سٹی میں والد محمد بشیر کی مدعیت میں درج کرایا گیا۔ ایس پی صدر عاطف نذیر کے مطابق دونوں بہنیں اپنی مرضی سے گھر کے ساتھ بننے والی عمارت میں کام کرنے والے دو مزدوروں کے ساتھ ان کے آبائی علاقہ رحیم یار خان چلی گئیں جہاں سے ان دونوں کو ڈھونڈ لیا گیا ہے۔

مزید :

علاقائی -