کوٹ لکھپت ،نوجوان نسل جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں تباہ ہونے لگی ،پولیس پر سرپرستی کا الزام

کوٹ لکھپت ،نوجوان نسل جرائم پیشہ عناصر کے ہاتھوں تباہ ہونے لگی ،پولیس پر ...

  

لاہور(وقائع نگار) کوٹ لکھپت کو "اشتہاریوں "نے پرسکون پناہ گاہ قرار دے دیا، جرائم پیشہ افراد پورے علاقے کو جرائم کا گڑھ بنا کر منشیات فروشی،جوئے خانے،پرچی جوا،قمار بازی اور قحبہ خانوں کے اڈے کھول کر نئی نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا نے میں بازی لے جانے میں سرگرم جبکہ پولیس نے مبینہ طور پر "ماہانہ "باقاعدگی سے ملنے پر خاموشی اختیار کر نے کی پالیسی اپنا لی ۔پولیس کی بے حسی اور رشوت کی لالچ نے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کو سرعام دھندہ کرنے کی کھلی چھوٹ دے دی ،روزانہ درجنوں وارداتیں معمول بن گئیں تاہم پولیس اپنی اصل ڈیوٹی بھول کر نوٹو ں کی چمک کے سامنے بے بس ہوگئی ، شیر جوان چوروں اورڈاکوؤں سمیت جرائم پیشہ عناصر کو پکڑنے کی بجائے ہم پیالہ اور ہم نوالہ بن کر انہیں تحفظ فراہم کرنے کی ڈیوٹی سرانجام دینے میں مصروف ہوگئے ۔پولیس نے شریف شہریوں کی تھانے میں داخلے پر پابندی جبکہ نام نہاد اوررسہ گیرچودھریوں کو تھانے میں وی آئی پی پروٹوکول سے نوازنا اپنا وتیرہ بنا لیا۔نمائندہ ’’پاکستان ‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے کوٹ لکھپت کے مقامی رہائشیوں احمد خان،رشید،نوید ،اکرام اورانجم سمیت متعدد افراد نے کہا کہ پولیس میں بھرتی ہونے والا ہر شخص خود کو انڈر ورلڈکاڈان سمجھتا ہے ۔ جرائم پیشہ افراد پولیس کے تعاون کے بغیر علاقے میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے ہیں،چوری ڈکیتی ہونا تو بہت دور کی بات ہے لیکن یہاں پر سب الٹا ہے کیونکہ یہ کالی وردی میں نظر آنے والے محافظ صرف شریف شہریوں کو بہلا پھسلا کر مختلف حیلوں بہانوں سے اپناتیل پانی اکھٹا کرنے کے چکر میں سارا دن موٹرسائیکلوں پر مٹرگشت کرتے رہتے ہیں ۔عوام کا کہنا تھا کہ اگر پولیس جرائم پیشہ افراد کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے کوششیں برورکار لائیں تو جرائم پیشہ افراد کے ٹولوں کا قلع قمع ہو سکتا ہے ۔مقامی تاجروں نواز،زاہد ، نفیس ،طفیل ،راجہ عمران وغیرہ نے کہا کہ پولیس اہلکار جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں تحفظ فراہم کرنے میں کو کسر نہیں چھوڑتے ۔اس حوالے سے تھانہ کوٹ لکھپت میں رابطہ کیا گیا تو پولیس کا کہنا تھا کہ علاقہ میں جرائم پیشہ افراد کی لسٹیں بنوانا شروع کردی ہیں، جلد ہی تمام کریمنلز پولیس کی گرفت میں ہوں گے ۔ملزمان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنا ہی اولین فرائض میں شامل ہے ۔ پولیس سٹریٹ کرائم کی واردتیں روکنے کے لیے گشت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے پولیس افسران خود بھی ناکے پر کھڑے جوانوں کی نگرانی کریں گے۔

مزید :

علاقائی -