آج وزیر علیٰ سندھ کا دلچسپ انتخابات ؛ 3نشستوں والی تحریک انصاف بھی مقابلے میں شریک

آج وزیر علیٰ سندھ کا دلچسپ انتخابات ؛ 3نشستوں والی تحریک انصاف بھی مقابلے میں ...

  

تجزیہ : قدرت اللہ چودھری

سندھ کے 26 ویں وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کا انتخاب آج ہوگا اور آج شام ہی وہ اپنے عہدے کا حلف بھی اٹھا لیں گے لیکن الیکشن سے پہلے بعض دلچسپ مناظر دیکھنے کو مل رہے ہیں، جن میں کہیں کہیں لطیفے کی سی چاشنی بھی ہے۔ آپ بھی یہ سن کر لطف اندوز ہوں گے کہ پاکستان تحریک انصاف بھی وزیراعلیٰ کے مقابلے میں حصہ لے رہی ہے، جس کی سندھ اسمبلی میں تین نشستیں ہیں، یہ ہر کسی کا جمہوری حق ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے۔ تحریک انصاف کے اس حق کو بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا، وہ اگر تین نشستوں کے ساتھ مقابلے کو ’’کانٹے دار‘‘ بناسکتی ہے تو ضرور بنائے، لیکن ہمیں حیرت تو یہ ہے کہ وہ ’’متحدہ اپوزیشن‘‘ کہاں ہے جس کے چند روز پہلے تک بڑے چرچے تھے اور اس حوالے سے بلند بانگ دعوے بھی کئے جا رہے تھے۔ چودھری اعتزاز احسن تو مشترکہ کنٹینر کا تذکرہ بڑے رومانوی انداز میں کرتے تھے لیکن وہ بھی کہیں آزاد کشمیر کے انتخاب کی دھول میں گم ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف دونوں متحدہ اپوزیشن میں شامل ہیں، لیکن سندھ میں دونوں وزیراعلیٰ کے عہدے پر مقابلہ کریں گی گویا متحدہ اپوزیشن کے تصور کو رد کرکے سندھ کی حد تک دونوں ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف ایم کیو ایم مقابلے کی دوڑ میں سرے سے شامل ہی نہیں ہے جس کے اسمبلی میں پچاس ارکان ہیں۔ گویا پچاس ارکان کی جماعت تو مقابلے سے باہر ہے، رضاکارانہ طور پر مقابلہ نہیں کرنا چاہتی یا اس کا یہ خیال ہے کہ جیت تو ممکن نہیں اس لئے خواہ مخواہ وقت کیوں ضائع کیا جائے، لیکن ایم کیو ایم نے یہ شکایت ضرور کی ہے کہ نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے سلسلے میں اس کے ساتھ کسی نے رابطہ نہیں کیا۔ عین ممکن ہے کہ پیپلز پارٹی نے یہ سمجھا ہو کہ وہ اگر اپنی سادہ اکثریت کی بنیاد پر اپنا وزیراعلیٰ منتخب کرا سکتی ہے تو ایم کیو ایم کا ممنون احسان کیوں ہوا جائے۔ دونوں جماعتیں طویل عرصے تک نہ صرف سندھ حکومت میں بلکہ وفاق میں اکٹھی شریک حکومت رہی ہیں۔ ایم کیو ایم کے ایک ہنر کی ہمیشہ داد دینی چاہئے کہ وہ جب بھی شریک حکومت رہی وزارتیں اس نے اپنی پسند کے مطابق لیں، مثلاً پورٹ اینڈ شپنگ کی وزارت سے ایم کیو ایم کو خصوصی محبت رہی ہے۔ جب بھی ایم کیو ایم حکومت کا حصہ بنی، اس نے یہ وزارت لی اور پھر اس کے مزے بھی لوٹے اوراگر سینئر پارٹنر نے ایم کیو ایم کو پسند کی وزارتیں دینے میں ذرا سا پس و پیش کیا تو اس نے سیاسی دباؤ بڑھا کر اپنا مقصد حاصل کرلیا، لیکن اب وہ دور رخصت ہوچکا، اب دونوں جماعتوں کی قربتیں فاصلوں میں بدل چکی ہیں۔ ایم کیو ایم پر ایک طرح کا دباؤ بھی ہے غالباً اسی وجہ سے وہ وزیراعلیٰ کے انتخابات کے سلسلے میں متحرک نہیں ہے۔

سندھ اسمبلی کا ایوان 168 ارکان پر مشتمل ہے، وزیراعلیٰ کو منتخب ہونے کیلئے سادہ اکثریت (85 ارکان) درکار ہے، جو پیپلز پارٹی کے پاس موجود ہے لیکن اس کے بہت سے ارکان بیرون ملک گئے ہوئے ہیں جنہیں واپس طلب کیا گیا ہے، ان میں سے بعض تو کراچی پہنچ بھی گئے ہیں، آج بھی کئی ارکان کی واپسی متوقع ہے۔ اس لئے یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے ارکان کی سادہ اکثریت ووٹنگ کے وقت ایوان میں موجود ہوگی تاہم سندھ اسمبلی کے کئی ارکان پھر بھی اجلاس میں شریک نہ ہوسکیں گے۔

سابق وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے صاحبزادے حسنین مرزا بھی بیرون ملک ہیں، لیکن انہیں ووٹنگ کیلئے نہیں بلایا گیا کیونکہ ان کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ وہ سید مراد علی شاہ کے حق میں ووٹ ڈالیں گے، لیکن فرض کریں ان کا ووٹ پی ٹی آئی کے امیدوار کے حق میں بھی چلا جاتا ہے جس کا امکان نہیں تو بھی اس سے کیا فرق پڑے گا؟ اگر دونوں امیدواروں کے درمیان ووٹوں کا معمولی فرق ہوتا تو ایک ایک ووٹ کی قدر و قیمت ہوسکتی تھی، لیکن ایسا نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کے جو ارکان بیرون ملک گئے ہوئے ہیں ان میں میر نادر مگسی، میر ہزار خان بجارانی، سید علی نواز شاہ، شرجیل انعام میمن اور سید اویس مظفر ٹپی بیرون ملک ہیں۔ اول الذکر دو ارکان کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ پاکستان کیلئے روانہ ہوچکے ہیں اور ان سطور کے لکھے جانے کے وقت ان کی پاکستان آمد کا امکان تھا، سید علی نواز شاہ لندن میں بیمار ہیں ان کی آمد کا امکان نہیں، شرجیل انعام میمن اور سید اویس مظفر ٹپی واپس تو آسکتے ہیں، بس فلائٹ پکڑیں اور آ جائیں لیکن ان کی آمد کا امکان اس لئے نہیں کہ خدشہ ہے کہ اگر وہ آئے تو انہیں کسی نہ کسی مقدمے میں گرفتار نہ کرلیا جائے، وہ احتیاطاً بیرون ملک ہی رہیں گے۔ سندھ اسمبلی کے ایوان میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی کل تعداد 91 ہے تین یا چار ارکان غیر حاضر ہوسکتے ہیں، اس لئے باقی ماندہ ووٹوں سے بھی 85 کی سادہ اکثریت حاصل ہوسکتی ہے۔ ایم کیو ایم سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف ہے جس کے ارکان کی تعداد ویسے تو پچاس ہے، لیکن اس کے کئی ارکان بیرون ملک ہیں اور بعض مستعفی ہوکر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں تاہم فنی طور پر ان کے استعفے ابھی منظور نہیں ہوئے اور نشستیں خالی نہیں، ان میں دلاور خان اور بلقیس مختار شامل ہیں۔ یہ ارکان ووٹ ڈالنے بھی نہیں آئیں گے۔ ایم کیو ایم کے جو ارکان بیرون ملک ہیں وہ طویل عرصے سے واپس نہیں آئے، امکان ہے کہ ایم کیو ایم کے دس گیارہ ارکان ووٹنگ میں حصہ نہیں لے سکیں گے 39 کے لگ بھگ ارکان ووٹ ڈالیں گے۔ حیرت کی بات ہے کہ ایم کیو ایم نے اپنا امیدوار بھی کھڑا نہیں کیا اور نہ ہی متوقع وزیراعلیٰ کے حق میں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے، اس لئے یہ ارکان غیر حاضر رہیں گے کیونکہ وہ تحریک انصا ف کے امیدوار کو تو ووٹ نہیں دیں گے۔ مسلم لیگ فنکشنل کے تمام گیارہ ارکان اسمبلی میں حاضر ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے 9 میں سے 8 ارکان کی حاضری کا امکان ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ووٹ تو مراد علی شاہ کو ہی ملنے کا امکان ہے البتہ فنکشنل مسلم لیگ چونکہ سندھ کی سیاست میں حزب اختلاف ہے اس لئے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

مزید :

تجزیہ -