’’ظالموں‘‘ قادری آگیا ہے ، 31جولائی کو بڑا فیصلہ کرے گا ، کیا متحدہ اپوزیشن برقرار رہے گی ؟

’’ظالموں‘‘ قادری آگیا ہے ، 31جولائی کو بڑا فیصلہ کرے گا ، کیا متحدہ اپوزیشن ...

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین 

فرزند راولپنڈی لال حویلی کے مکین شیخ رشید معروضی حالات سے بھی استفادہ نہیں کرتے اور پھر سے تاریخیں دیئے چلے جاتے ہیں اور اب ہر پیشگوئی میں ناکامی کا سامنا کرنے کے بعد ایک اور تاریخ دے دی ہے، ان کے مطابق اگلے 70دنوں میں یہاں بہت کچھ ہونے والا ہے، اس مرتبہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کیا ہونے والا ہے، بہر حال وہ کوئی ایسی بات بھی کر ہی دیں گے جس سے ان کی خواہشات کا اظہار ہو، ویسے معروضی حالات میں تو ایسا کچھ نظر نہیں آرہا، آزاد کشمیر کے انتخابات اتنے پر امن ہوئے کہ پیپلز پارٹی کے سوا سب نے شفاف مان لئے، الیکشن کمیشن کے اراکین وسیع تر مشاورت کے ساتھ نامزد ہو کر حلف بھی اٹھا چکے اور الیکشن کمیشن نے مکمل ہونے کے بعد کام بھی شروع کردیا ہے،البتہ تبدیلی سندھ میں آگئی جہاں ایک سنیئر وزیر اعلیٰ تبدیل ہوگیا، ان کی جگہ مراد علی شاہ نے لی، آج انتخاب اور کل حلف برداری بھی ہو جائے گی اور یوں سائیں قائم علی شاہ کا دور ختم ہو جائے گا اس وقت وہ عبوری دور کے لئے وزیر اعلیٰ ہیں کہ پارلیمانی روائت کے مطابق گورنر عشرت العباد نے استعفےٰ منظور کرتے ہوئے ان کو نئے وزیر اعلیٰ کی حلف برداری تک کام جاری رکھنے کی ہدائت کی ہے، ان حالات میں واضح ہوگیا کہ مجموعی طور پر سیاسی استحکام ہے یا پیدا ہوا ہے اسے متاثر کرنے کے لئے عمران خان پاناما لیکس کے حوالے سے کمیشن قائم کرنے اور اس کے لئے پسندیدہ ٹی۔او۔آر بنوانے کے لئے اگلے ماہ سے تحریک شروع کررہے ہیں، اس سے پہلے جب الیکشن کمیشن کے اراکین کی نامزدگی ہوئی اور پارلیمانی کمیٹی نے چاروں ناموں کی منظوری دے دی تو تحریک انصاف کے چہرے عمران خان نے پنجاب کے رکن کی نامزدگی پر اعتراض کردیا تھا تاہم جماعت کے ترجمان نعیم الحق کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف الیکشن کمیشن پر اب کوئی اعتراض نہیں کرے گی یہ شاید اس لئے کہ الیکشن کمیشن نے کام بھی شروع کردیا اور تحریک انصاف نے ریفرنس دائر کئے ہوئے ہیں، بہرحال مجموعی طور پر حالات کا رخ بہتری کی طرف نظر آتا ہے۔

ادھر پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری برطانیہ سے واپس پہنچ گئے وہ لاہور کے ہوائی اڈے پر اترے تو ان کی صحت بھی اچھی اور ہشاش بشاش بھی تھے،ان کو کمر کی تکلیف پرانی ہے لیکن اب یہ بھی بہت زیادہ بہتر ہے وہ بالکل سیدھے چلتے ہوئے کارکنوں کے درمیان سے ہوتے باہر آئے، ڈاکٹر طاہر القادری کا انداز فکر ہمیشہ اپنا ہوتا ہے، اب بھی انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذکر کیا اور ساتھ ہی کہا کہ آئندہ لائحہ عمل کا اعلان 31جولائی کی میٹنگ کے بعد کریں گے، یہ اجلاس ڈاکٹر طاہر القادری نے دعوت دے کر رکھوایا تھا اور اس میں قومی سطح پر اپوزیشن کی تمام جماعتوں کومدعو کیا گیا ہے، عوامی تحریک کے سہ رکنی وفد نے اسلام آباد میں 19جولائی کو ہونے والے متحدہ اپوزیشن کے اجلاس میں شرکت بھی کی تھی۔

وہ خود تو باہر چلے گئے دعوت نامے ان کی جماعت کے سیکرٹری جنرل تقسیم کرتے رہے تھے، تاہم ان کی عدم موجودگی میں پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی نکل چکا،اپوزیشن کی جماعتوں میں اختلاف رائے ہوا، عمران خان تحریک کے لئے گئے تو پیپلز پارٹی نے پارلیمنٹ کا راستہ اختیار کیا، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی تحریک کے حق میں ہیں، دلچسپ صورت حال تو یہ ہے کہ اب عمران خان استعفے کا ذکر نہیں کرتے پاناما لیکس، کمیشن اور ٹی۔او۔آر کی بات کرتے ہیں، جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے تحریک کے حق میں ہیں،یوں 31جولائی کو منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں اجلاس کی صورت حال کیا ہوگی کچھ نہیں کہا جاسکتا، اول تو ایک آدھ روز میں یہ معلوم ہوگا کہ کون کون سی جماعت اور کون کون شرکت کررہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن جو ابھی تک کچے دھاگے سے بندھی ہے رہتی بھی ہے یا نہیں، کہ یہ کچا دھاگا ٹوٹ جاتا ہے، 31جولائی زیادہ دور نہیں پرسوں ہی تو ہے۔

یہ تو ملکی صورت حال ہے، کچھ ذرا بڑے ملک اور عالمی تھانیدار کی بھی بات کریں، سابق صدر بل کلنٹن کی اہلیہ ہیلری کلنٹن نے ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہونے کا اعزازحاصل کرلیا ہے، وہ امریکہ کی تاریخ میں پہلی خاتون ہیں جیت گئیں تو ان کا یہ اعزاز مستقل ہوگا، بہر حال ہمارے ایڈیٹر عمر شامی صاحب کے تجزیئے کے مطابق فی الحال ٹرمپ کو ( سروے کے مطابق) دو تین فی صد کی برتری حاصل ہے، تاہم ابھی تو نامزد گیاں ہوئی ہیں، انتخابی مہم تو خاصی طویل ہے نومبر تک جاری رہے گی، اس عرصہ میں رائے عامہ میں کئی تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی، بہر حال پاکستان میں ہیلری کے لئے ہمدردی پائی جاتی ہے کہ ٹرمپ نے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف محاذ کی سی کیفیت پیدا کررکھی، امریکی صدر کا انتخاب پوری دنیا کی سیاست پر اثر انداز ہوتا ہے۔

مزید :

تجزیہ -