محترم رجب طیب اردوان کے نام

محترم رجب طیب اردوان کے نام
 محترم رجب طیب اردوان کے نام

  

جناب رجب طیب اردوان ! آپ بغاوت کی ایک ناکام کوشش کے بعد ترکی کے جائز اور بااختیار حاکم کے طور پر مستحکم ہو رہے ہیں، بغاوت کے وائرس کو کچلنے کے نام پرپندرہ جولائی کے بعد سے آپ کی حکومت کی طرف سے کریک ڈاون جاری ہے، آپ تین ماہ کے لئے ہنگامی حالت کا نفاذ کر چکے جس کے تحت آپ کو پارلیمان کو بائی پاس کرنے اور بعض شہری حقوق معطل کرنے کابھی اختیار مل چکا ، اب تک کی اطلاعات کے مطا بق حکومتی کریک ڈاؤن کا نشانہ بنانے والوں میں محکمہ تعلیم کے 37 ہزار 777 ملازمین، آٹھ ہزار پولیس اہلکار، چھ ہزار فوجی، تین ہزار 450 دیگر سرکاری ملازمین اور دو ہزار 745 جج بھی شامل ہیں۔ایک اطلاع کے مطابق ساٹھ ہزار سرکاری ملازمین کو مجموعی طور پر یا تو گرفتار کیا جا چکا ہے یا معطل،بدھ کی رات آپ کی طرف سے 16 نیوز چینل، تین نیوز ایجنسیاں اور 15 اخباربندکرنے کا حکم بھی جار ی کیا گیا۔ وہ ایک ہزار نجی سکول اور 12 ہزار تنظیمیں ان کے علاوہ ہیں جن کو بند کرنے کا آرڈر بہت روز پہلے جاری کر دیا گیا تھا، ہاں،باغی جرنیلوں کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، سب کو نظر آ رہاہے۔

پاکستان میں دو طرح کے طبقات نے بغاوت کی ناکامی اور آپ کی کامیابی کو خوش آمدید کہا، ان میں جمہوریت پسند بھی شامل تھے جو آئین اور قانون کی بالادستی کے خواہاں ہیں اور دوسرے وہ اسلام پسند ہیں جو اتاترک کی لادین پالیسیوں کے مقابلے میں آپ کے اسلامی شناخت والے ترکی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر رفتہ رفتہ آپ کی حمایت کرنے والے دونوں طبقوں کے لئے ہی آپ کی غصے اور انتقام سے بھری ہوئی پالیسیوں کا دفاع کرنا مشکل ہوتاچلا جا رہا ہے۔ فتح اللہ گولن کو آپ لادین طبقے میں شامل نہیں کر سکتے لہٰذا ترکی کی لڑائی اب اسلام پسندوں کے درمیان ہے۔ لادین طبقہ، ترکی کے مذہب پسندوں کے درمیان جوتم پیزار سے اطمینان محسوس کر رہا ہے اور دوسری طرف جمہوریت پسند یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر آمریت کس کو کہتے ہیں۔ بہرحال ایک فاتح کے طور پر موجود ہیں، آپ اس وقت اپنے دارلحکومت میں داخل ہوئے جب آپ کے حمایتی سڑکوں پر دوڑنے والے ٹینکوں اور فضاؤں میں نیچی پروازیں کرنے والے جہازوں کو شکست دے چکے تھے۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ فاتحین کو مشورے نہیں صرف مبارکبادیں ہی پسند آتی ہیں، لہٰذا میں آپ کو کوئی مشورہ دوں، یہ لازمی طور پر ناگوار گزرے گا مگر یہ کوئی مشورہ نہیں، ہماری تاریخ کے کچھ سنہری اوراق ہیں جو پیشِ خدمت ہیں۔

حضرت محمد ﷺ جب مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے، یہ میرے آقا، پیغمبر اسلام کی سیرت کی کتاب کا اہم باب ہے،جب اسلامی لشکر مکہ کے اطراف پر کامیابی کے ساتھ قبضہ کر چکا تھا، میرے آقا نے حضرت ابوسفیان کو مامور فرمایا کہ وہ مکہ میں جا کر یہ اعلان کروا دیں، اعلان کے الفاظ تھے، ’ اہل مکہ نے چونکہ معاہدہ حدیبیہ کو توڑا ہے، وہ شریعت کے مطابق مستوجب قتل ہیں اور ان کا مال مسلمانوں پر حلا ل ہے لیکن ہر وہ شخص جو خانہ کعبہ میں پناہ لے گا، قتل نہیں کیا جائے گا اور کوئی اس کی جائیداد پر تصرف نہیں کرے گا۔ اسی طرح ہر وہ شخص جو ابو سفیان کے گھر میں پناہ لے گا، اس کی جان و مال کو امان ہو گی اور اسی طرح ہر وہ شخص جو اپنے گھر سے باہر نہیں نکلے گا وہ اسلام کی پناہ میں ہو گا، اس سے کوئی تعرض نہیں کرے گا۔ ابوسفیان نے خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا اور ابھی زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ اسلامی لشکر کے منادی کرنے والے بھی پہنچ گئے اور اسی اعلان کی تکرار کی، جو لوگ گلی کوچوں میں تھے وہ پناہ لینے کے لئے دوڑے اور جلد ہی مکہ کے گلی کوچے خالی ہوگئے۔ اسلامی لشکر کا پہلا دستہ جو مکہ میں داخل ہوا وہ حضرت علیؓ ابن ابی طالب کی کمان میں تھا،وہ پیغمبراسلام کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے، وہ مکہ کے سب سے بڑے دروازے سے داخل ہونے کے بعد اپنے دستے کے ساتھ خانہ کعبہ کی طرف بڑھ گئے، دوسرا دستہ حضرت زبیرؓ کی قیادت میں مغرب کی طرف سے جبکہ تیسرا دستہ سعد بن عبادہ انصاری کی قیادت میں مشرق سے مکہ میں داخل ہونا تھا۔ لشکر اسلام کا چوتھا دستہ خالد بن ولیدؓ کی کمان میں تھا اور انہیں جنوب سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم تھا۔ رسول اکرمﷺ نے ان چاروں سرداروں سے فرمایا، ’ جب تم مکہ میں داخل ہو گے تو اپنی تلواروں کو نیاموں سے مت نکالنا۔ کسی سے جنگ نہ کرنا الا یہ کہ کوئی تم پر حملہ آور ہو اوریہ مت بھولنا کہ جو لوگ خانہ کعبہ، ابو سفیان کے گھر یا اپنے گھروں میں ہیں وہ امان میں ہیں‘ ،لیکن سعد بن ابی عبادہ انصاری جونہی مکہ میں داخل ہوئے تو پکارے، ’ الیوم یوم الملحمہ الیوم تستحل الحرمہ‘ یعنی ’آج کا دن جنگ کا دن ہے اور آج کے دن کے لئے حرمت اٹھ گئی‘،یہ خبر میرے آقا کوملی تو بلاتاخیر انہیں شہر کی مشرقی سمت سے داخل ہونے والے دستے کی قیادت سے معزول کر دیا اور اس دستے کو بھی حضرت علیؓ کی کمان میں دے دیا تاکہ سعد بن عبادہ اپنے جنگی عزائم پورے نہ کر سکیں۔ کسی بھی دستے کو مزاحمت کا سامنا نہ ہو ا البتہ حضرت خالدؓ کے دستے پر جنوبی طرف سے داخل ہوتے ہوئے جنوبی محلہ کے کچھ افراد، قریش اوراس کے اتحادی قبیلے احابیش کے کچھ لوگوں نے حملہ کر دیا، خالد سیف اللہؓ نے پکا رکر کہا’’ اپنا خون فضول مت بہاؤ‘‘ اس لئے کہ تم مکہ کے سقوط کو نہیں روک سکتے، رسول اللہ نے آج مکہ کو تسخیر کرنے کا ارادہ کیا ہے اور وہ ہو کر رہے گا‘ مگر انہوں نے اس پکار کا کوئی اثر نہ لیا اور حملہ جاری رکھا، تھوڑی ہی دیر میں پندرہ افراد قتل ہو گئے جن میں دو مسلمان اور تیرہ مشرک تھے،باقیوں نے بھاگنے کو ترجیح دی۔

مکہ میں داخل ہونے کے بعدمیرے آقا خانہ کعبہ میں تشریف لے گئے، وہاں طواف کیا اور خانہ کعبہ کے کلید بردارعثمان بن طلحہؓ کو حکم دیا کہ خانہ کعبہ کا دروازہ کھول دیں، ان کی والدہ نے مزاحمت کی مگر عثمان بن طلحہؓ نے اپنی والدہ کو سمجھایا۔ خانہ کعبہ میں پناہ لینے والے خوفزدہ ہوئے کہ محمد ﷺ ان کو قتل کرنے ان کے اموال پر قبضہ کرنے اور ان کے بیوی بچوں کو قیدی بنانے آئے ہیں۔ واضح رہے کہ مکے والے اس وقت تک کافرتھے،معاہدہ حدیبیہ توڑ چکے تھے، وہ حربی تھے یعنی مسلمانوں سے جنگ کر چکے تھے، خالد بن ولیدؓ کے دستے کی مزاحمت کر کے دو مسلمانوں کو شہید کر چکے تھے لہذا قانون کے مطابق میرے آقا کو حق پہنچتا تھا کہ وہ مکہ والوں کو قتل کر دیں یا غلام بنا لیں اور ان کی عورتوں کو کنیزیں ، مگر میرے آقا نے حضرت یوسف ؑ کے اقتدارمیں آنے کے بعد اپنے بھائیوں کو معاف کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا، ’ میں بھی تم سے کہتا ہوں کہ خدا تمہیں معاف فرمائے،تم آزاد ہواور کوئی تمہاری جان سے تعرض نہیں کرے گا ، نہ کوئی تمہاری عورتوں کو کنیزیں بنائے گا۔ا سی بنا پر اہل مکہ کوعربی زبان میں طلقاء کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے یعنی آزاد کئے گئے غلام،محمد ﷺ اس اعلان سے فارغ ہوئے اور خانہ کعبہ کے ایک بت کواپنے ہاتھوں سے گراکر توڑا اور باقی بت توڑنے کا حکم حضر ت علی کرم اللہ وجہہ کو دیا۔

پندرہ رمضان المبارک کو تسخیر مکہ سے پہلے کے حاکم عتاب بن سید نے خانہ کعبہ کی چھت پر اذان دینے والے حضرت بلال سے بدکلامی کی، اذان سے روکااور درشتی سے نیچے اترنے کا حکم دیا ،اس کی شکایت کی گئی مگر رسول اکرمؐ نے اسے کوئی سزا نہ دی ۔ بدترین دشمن عکرمہ بن ابوجہل جان کے خوف سے مفرور ہو چکا تھا، عکرمہ کی بیوی نے امان مانگی تو بخش دی گئی۔ہند زوجہ ابوسفیان جو میرے آقا ﷺکے چچا حضرت حمزہؓ کوقتل کروانے کے بعد کلیجہ چبانے کی وجہ سے ہند جگر خور مشہور تھی، وہ بھی معاف کر دی گئی اور زندگی بھر اسے کسی مسلمان نے آزارنہیں پہنچایا۔صفوان بن امیہ وہ شخص تھا جو ایک وقت میں میرے آقاکو قتل کروانا چاہتا تھا اوراس کام کے لئے کرائے کا قاتل بھی حاصل کیا تھا، اس نے انکار کیا کہ وہ اسلام قبول نہیں کرے گا اور وہ اس کے باوجود معافی پا گیا تاہم معافی کے پانچ دن بعد صفوان بن امیہ نے اسلامی لشکر کو ایک سو زرہیں اور پانچ ہزار درہم نقد پیش کئے، چند ماہ بعد ہونے والی جنگ حنین کے بعد وہ بھی مسلمان ہو گیا۔قرآن کہتا ہے کہ رسول اللہ کی زندگی ہی تو ہمارے لئے سب سے بہترین نمونہ ہے۔

بہت محترم رجب طیب اردوان !فتح کے بعد پیغمبر اسلام ﷺ نے پندرہ روز تک مکہ میں قیام کیا اور ان دو ہفتوں میں تقریباً پورا مکہ ہی مسلمان ہو گیا، شراب پینے والوں نے شراب اور سور کھانے والوں نے اس کا گوشت چھوڑ دیا۔ میں نہیں جانتا کہ آپ کے سفیر اسے ترجمہ کر کے آپ تک بھیجیں گے یا نہیں مگر ایک دوست کی طرف سے آپ کے لئے آج فتح کے چودہ،پندرہ روز بعد اس سے بہتر کوئی پیغام نہیں ہو سکتا۔

مزید :

کالم -