ایران میں 7ماہ کے دوران 250افراد کو پھانسی دے دی گئی

ایران میں 7ماہ کے دوران 250افراد کو پھانسی دے دی گئی

  

تہران(آن لائن)ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے بتایا ہے کہ ملک میں سرکاری سطح پر قیدیوں کو معمولی جرائم میں پھانسیاں دینے کا عمل جاری ہے۔ گذشتہ سات ماہ میں اڑھائی سو افراد کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی انسانی حقوق گروپ نے تازہ اعداد وشمار اپنی آفیشل ویب سائیٹ پر پوسٹ کیے ہیں اور بتایا ہے کہ قیدیوں کی سزائے موت پرعمل درآمد کا یہ رواں سال کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔ سال 2015ء کے سوا اس سے قبل سات ماہ میں اتنے زیادہ افراد کو پھانسی دینے کا کوئی واقعہ موجود نہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ برس ایرانی عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی موت کی سزاؤں پر عمل درآمد کرتے ہوئے 700 ملزمان کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ گذشتہ برس مجموعی طور پر 969 ملزمان کو پھانسی دی گئی جو 25 سال کی نسبت ایک نیا ریکارڈ ہے۔ایرانی انسانی حقوق کونسل کے ترجمان محمود امیری مقدم کا کہنا ہے کہ ایران قیدیوں کو پھانسی دینے کے اعتبار سے اب بھی دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جہاں معمولی جرائم میں قید افراد کو بھی اندھا دھند موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ایرانی انسانی حقوق گروپ کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے ملک میں سزائے موت کے رحجان میں کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے مگر عملا عدالتوں سے سزائے موت سنائے جانے اور انتظامیہ کی جانب سے ان پر عمل درآمد کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

رواں سال فروری میں ہونے والے پارلیمانی اور خبرگان کونسل کے انتخابات کے دوران پھانسی دیے جانے کے واقعات میں معمولی کمی آئی بھی ہے تو وہ انتخابی مصروفیات کا نتیجہ تھی حکومت کی پالیسی میں تبدیلی کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔امیری مقدم نے بتایا کہ گذشتہ تین ہفتوں کے دوران 40 افراد کو دی گئی موت کی سزاؤں پرعمل درآمد کیا گیا۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ایران میں قیدیوں کو دی جانے والی موت کی سزاؤں پر صدائے احتجاج بلند کریں اور بے گناہ افراد کی زندگیاں بچانے کے لیے ٹھوس کردار ادا کریں۔

مزید :

عالمی منظر -