پیسے دے کر بھی شفاف پانی کی بوتل دستیاب نہیں ہے،سپریم کورٹ

پیسے دے کر بھی شفاف پانی کی بوتل دستیاب نہیں ہے،سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ نے قراردیا ہے کہ پیسے دے کر بھی شفاف پانی کی بوتل دستیاب نہیں ہے،اگریہی صوتحال رہی توآئندہ دو سالوں میں پاکستان کا ہر شہری ہیپاٹائیٹس سی جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گا جو لمحہ فکریہ ہے، سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹرجسٹس میاں ثاقب نثار اورمسٹر جسٹس اقبال حمیدالرحمن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ ریمارکس مضر صحت دودھ، ناقص منرل واٹر، بھینسوں کو لگائے جانے والے مصنوعی ٹیکوں کے استعمال اور پولٹری کی ناقص خوراک پر دائر درخواست کو از خود نوٹس کیس میں تبدیل کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے تفصیلی رپوٹس طلب کر تے ہوئے دیئے ۔عدالت نے وطن پارٹی کے سربراہ بیرسٹر ظفراللہ کی ناقص دودھ کے خلاف دائر اپیل پر سماعت شروع کی تو درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ کھلے دودھ کے علاوہ ڈبہ بند دودھ میں ڈیٹرنٹ پوڈراور کیمیائی مادے استعمال کئے جاتے ہیں جس سے شہری موذی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں، ناقص دودھ اور پانی کے معیار کو جانچنے کے لئے ملک میں معیاری لیبارٹری موجود ہی نہیں ہے، انہوں نے بتایا کہ لاہور ہائیکورٹ میں مضر صحت منرل واٹر کے خلاف مقدمہ 8 برسوں سے زیر التواء ہے جس پر آج تک فیصلہ نہیں ہوا، عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پیسے دے کر بھی شفاف پانی کی بوتل دستیاب نہیں ہے،اگریہی صوتحال رہی توآئندہ دو سالوں میں پاکسان کا ہر شہری ہیپاٹائیٹس سی جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو گا جو لمحہ فکریہ ہے، عدالت کو بتایا گیا کہ ٹیکے لگا کر بھینسوں سے حاصل کئے گئے دودھ اور برائلر گوشت کی آڑ میں عوام کو زہر کھلایا جا رہا ہے، عدالت نے شہریوں کو ناقص غذا کی فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام صورتحال پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت کو حکم دیا کہ مضر صحت دودھ، مضر صحت پانی، بھینسوں کو لگائے جانے والے ٹیکوں اور پولٹری کی ناقص خوراک پر الگ الگ رپورٹس دو ہفتوں میں پیش کی جائیں، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کہ لاہور ہائیکورٹ میں 8 برسوں سے زیر التواء منرل واٹر کی فروخت کے خلاف مقدمے کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا جائے۔

مزید :

صفحہ آخر -