نالہ ڈیگ میں شگاف پڑنے سے 4دیہات زیر آب، فصلیں ڈوب گئیں

نالہ ڈیگ میں شگاف پڑنے سے 4دیہات زیر آب، فصلیں ڈوب گئیں

  

فیروز والہ (نمائندہ پاکستان) جی ٹی روڈ کی آبادی لدھیکے ورکاں (مریدکے) میں نالہ ڈیگ میں شگاف پڑ جانے سے چار دیہات کا رقبہ زیر آب آ گیا فصلیں پانی میں ڈوب گئیں۔ شگاف پڑنے کی اطلاع ملنے کے باوجود ضلعی انتظامیہ اور محکمہ اریگیشن کا عملہ نہ پہنچا گاؤں کے لوگوں اور پولیس اہلکاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی گھنٹے کی جدوجہد کر کے شگاف کو پر کیا۔ بتایا گیا ہے کہ گذشتہ روز الصبح نالہ ڈیگ میں پانی کا بہاؤ بڑھ جانے سے 25فٹ چوڑا شگاف پڑگیا جس سے پانی لدھیکے ورکاں، راجپورہ، نگل عیسیٰ، اور مغلاں والاکے دیہات میں پانی داخل ہو گیا جس سے کھڑی فصلیں ، دھان، مکی اور چارہ پانی میں ڈوب گیا جس پر علاقہ بھر کے لوگوں کی بڑی تعداد برساتی نالہ ڈیگ پر پہنچ گئی جنہوں نے جدوجہد کر کے مٹی اورپتھر ڈال کر شگاف پر کیا ادھر انتظامیہ اس واقعہ سے لاعلمی کا اظہار کرتی رہی ۔ متاثرہ زمینداروں نے بتایا کہ نالہ ڈیگ کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے نالہ میں شگاف پڑا جس میں انتظامیہ نے کوئی دلچسپی نہ لی ۔ زمینداروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعہ میں غفلت کا مظاہرہ کرنے والے سرکاری محکمہ کے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے ۔

سیالکوٹ،ڈسکہ،بڈیانہ،کامونکے(بیورورپورٹ ،نامہ نگار،تحصیل رپورٹر)حالیہ ہونے والی بارشوں سے برساتی نالوں میں طغیانی کی صورتِ حال ، ڈسکہ سے گزرنے والے نالہ ایک میں تین مقامات پر شگاف پڑنے سے متعدد دیہات اور ہزاروں ایکڑ آراضی زیرِ آب آگئے لاکھوں رو پے مالیت کی فصل تباہ تفصیلات کے مطابق مقامی حکومت کی جانب سے بر وقت نالوں کی صفائی نہ کر نے اور حالی بارشوں کی وجہ سے نالہ ایک اور نالہ ڈیک میں پانی کا بڑھاؤ بڑھ جانے سے طغیانی کی صورت حال پید اہو گئی نالہ ایک میں پانی کا بہاؤ تقریبا28ہزار کیوسک ہو نے کی وجہ نالہ ایک کا بند تین جگہ سے ٹوٹ گیا موضع کوٹ کرم بخش ،موضع نگور کے قریب بند ٹوٹنے سے متعدد دیہات زیر آب آگئے اور ہزاروں ایکڑ فصل بھی تباہ ہو گئی اور سیلابی پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہو گیا جس کے باعث لوگ نقل مکانی کر نے پر مجبور ہو گئے یاد رہے کہ پچھلے سال بھی موضع نگور میں اسی جگہ سے نالہ ایک کا بند ٹوٹا تھا جس کا کو ئی مستقل حل نہ کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت نالہ ایک میں پانی کا بہاؤ 28ہزار کیوسک اور نالہ ڈیک میں پانی کا بہاؤ35ہزار کیوسک ہے علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہو ئے کہا کہ ابھی تک انتظامیہ یا سیاسی نمائندوں سے کوئی بھی نہ آیا ہے ۔جموں کشمیر سے پاکستان میں داخل ہونے والے برساتی نالوں میں طغیانی ،نالہ ڈیک اور نالہ حسری میں سیلاب ۔سیلابی پانی پسرور شہرکے مضافات اور قدیم شہر کلاسوالا میں داخل ہو گیا گزشتہ روز نالہ ڈیک میں مہتاب پور ہنجلی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 37ہزار کیوسک تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے 27اور28جولائی کی درمیانی رات کھیوا باجوہ کے قریب نالہ ڈیک کا بند ٹوٹ گیا بند ٹوٹنے سے کھیوا باجوہ ،بھرت ،چک دوبرجی مہار ، کوٹلی خواجہ ،مل پور ،بھلیر باجوہ ،چند پور ،نور پور اور دیگر دیہات زیرآب آ گئے جبکہ سیلابی پانی پسرور قلعہ کالر والا روڈ کے اوپر سے گزرتا رہا اور کئی گھنٹے پسرور سیالکوٹ روڈ ٹریفک کے لیئے بند رہی ۔قبل ازیں نالہ ڈیک کے کنارے پر موجود دیہات پینن کے ،بلے اور دریا ننگل میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت تمام رات کدالیں اور کسیاں اٹھائے ریت کی بوریاں بھر بھر کر نالہ ڈیک کے بند کو ٹوٹنے سے بچانے کی کوشش کرتے رہے رات گئے موضع دریا ننگل میں اپنی مدد آپ کے تحت بند کو ٹوٹنے سے بچانے والے دیہاتیوں کی حوصلہ افزائی کی ۔ادھر نالہ ڈیک کا پانی شہزادہ کے قریب کناروں سے باہر نکل آیا جس سے شہزادہ،وائیں ،امین شاہ ،چرونڈ ،چک راجہ ،کپور پور، ڈگری ،عیسیٰ،چاہیئے والی،ہرگن بلگن ،برہان پور ،نوکریاں مغلاں ،بھگت اور عمر پورہ زیرآب آ گئے دریں اثنا نالہ حسری کے بپھرنے سے دیہات مدوپور،وینس،جاجو پور،کپور پور ،ترکالیاں ،چوہڑ کے ،سبل پور ،لپے والی ،متیکے ،نواں پنڈ ،بھگت پورہ ، مالو پتیال ،بوڑیکے ،کوٹ گھمناں،کوٹ کرال ،موسیٰ پور اور کوٹلی حاجی پور متاثر ہوئے ۔تازہ اطلاعات کے مطابق نالہ ڈیک میں سیلابی پانی کی سطحکم ہو رہی ہے ۔نالہ ڈیک میں طغیانی او رشگاف پڑھنے سے متعدددیہات زیر آب آگئے ،ڈی سی او بھی موقع پر پہنچ گئے ، شگاف کو مرمت کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات جاری ،تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات کافی عرصہ سے 20 فیصد زائدمون سون بارشوں اور ممکنہ سیلاب کی دہائیاں دے رہاہے مگر افسوس کہ کامونکے میں اسسٹنٹ کمشنر نے اس پر کوئی کان نہ دھرے اور غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور یہی وجہ ہے کہ کامونکے شہر کے تمام برساتی نالے مکمل طور پر بندپڑے ہیں جبکہ اسی غیر زمہ داری کی وجہ سے گزشتہ روز نالہ ڈیک میں طغیانی کی وجہ سے واہنڈو کے علاقہ شینی والا کے قریب شگاف پڑھنے سے پانی قریبی دیہاتوں میں جن میں رانا،نٹھرانوالی ،تمبولی ،لدھیوالہ ،کوٹ قاضی سمیت دیگر شامل ہیں میں ڈیک کاپانی داخل ہوا اور وہ علاقے زیر آب آگئے ڈیک میں شگاف پڑھنے کی اطلاع ملنے پر ڈی سی او گوجرانوالہ اور دیگر افسران کے علاقہ رکن صوبائی اسمبلی چوہدری اخترعلی خاں موقع پرپہنچ گئے اور شگاف کو مرمت کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کردئیے ہیں ،اہل علاقہ کے مطابق انتظامیہ نے ڈیک کے کناروں کو عارضی طور پر مرمت کردیاتھا مگر اس کا مستقل کوئی حل نہیں نکالاگیا،واضع رہے کہ ڈیک کے علاوہ اگر شہر کے برساتی نالوں کی صفائی کرکے ان کو چالو نہ کیاگیا تو بارشوں سے شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہوجائے گی ۔گزشتہ روز کی بارش کے بعد سیالکوٹ شہر سے گزرنے والے نالوں میں پانی کی سطح بڑھ گئی اور نالہ ایک کا سیلابی پانی مختلف جگہوں ایمن آباد روڈ پکی کو ٹلی،محلہ شجاع آباد ،شفیع دا بھٹہ اور غازی چک نزد اگوکیکے مقام پر کناروں سے باہر آکر آبادیوں میں داخل ہو گیا جس کی وجہ سے شہری اپنے گھروں میں محصور ہو گئے اطلاع موصول ہونے پر ریسکیو1122کی ٹیمیں وہاں پہنچی اور 50کے لگ بھگ مردو خواتین اور بچوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقامات منتقل کر دیا۔پکی کو ٹلی سے 37افراد محمد فاروق،اللہ دتہ،عمر،حمزہ،محسن،مسکان،رضیہ سلطانہ ،کومل،سلمان،شمس،ذیشان،غزالہ بی بی ،محمد اکرم،سلیم،محمد فاروق،عصبراء،پھول،عامر،محمد رفیق،محمد انور،آسیہ،حلیمہ بی بی ،راشد،زہراء،شعیب،صفیہ،محمد رفیق،رخسار کوثر،صالح محمد،گوہر،محمد عمر،بلال،عامر،محمد صدیق،علی،شمس،نویدکے علاوہ 4عدد مور،50 بطخیں،50کبوتر،50طوطے اور ایک کتے کو بھی evacuateکیا گیا۔شفیع دابھٹہ سے 4افراد وسیم،آفتاب،عنائت اللہ اور دلدار غازی چک سے اعجاز احمد،شمع نورین،سیرت فاطمہ ،عبداللہ،ایمان فاطمہ،رحمان علی،رضوان احمد،حلیمہ بی بی ،صغریٰ بی بی ، اقراء بی بی اورشاہدہ بی بی کوسیالکب زدہ علاقے سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیاگیا۔اس تمام آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر سیدکمال عابد نے کی اور انکے ساتھ معاونت کے لئے کنٹرول روم انچارج عرفان یعقوب گل ،اسٹیشن کوآرڈینیٹر محمد رضا اور میڈیا کوآرڈینیٹر محمد اسد بھی موجود رہے۔

مزید :

صفحہ آخر -