ڈینگی کی طرح ہیپاٹائٹس کیخلاف بھی جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا: سلمان رفیق

ڈینگی کی طرح ہیپاٹائٹس کیخلاف بھی جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا: سلمان رفیق

  

لاہور( جنرل رپورٹر) ہیپا ٹائیٹس ایک ایسا طوفان اور سیلابی ریلا ہے جس کو روکنے کے لئے ابھی سے بند نہ باندھا گیا تو یہ آنے والی نسلوں کو بھی بہا کر لیجائے گا اس کے خلاف جنگی بنیادوں پر پوری قوم کو ملکر جہاد کرنا ہو گا تمام ٹی وی چینلز پابند ہیں کہ وہ پبلک سروس کے پیغامات مفت چلائیں اور پرنٹ میڈیا کوبھی اس پر حکومت کو پیمرا سے عمل درآمد کروانے کے لئے رجوع کرنا ہو گا۔ ہیپاٹائٹس سو فیصد قابل علاج مرض ہے وہ اسباب جو اس مہلک مرض کا باعث بنتے ہیں ان سے پرہیز کرکے اس سے بچا جا سکتا ہے ۔اس امر کا اظہار مقررین نے ہیپاٹائٹس کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (PKLI) کے زیر اہتمام 90 شاہراہ قائداعظم پر ایک آگاہی سیمینار اور ہیپاٹائٹس پری وینشن پروگرام لانچ کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مقررین میں مشیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق‘ روز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی‘ پی کے ایل آئی کے صدر پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر ‘ اخوت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب‘ معروف اور ممتاز ماہر امراض جگر و معدہ پروفیسر غیاث النبی طیب‘ٹیکساس یونیورسٹی امریکہ کے اسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد عمران کے نام شامل ہیں جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ٹی وی اینکر فرح خان نے سر انجام دئیے تقریب کے اختتام پر پی کے ایل آئی (ٹرسٹ)نوے شاہراہ پر رکھے گئے عمارت کے ماڈل کی نقاب کشائی کی گئی ۔نقاب کشائی خواجہ سلمان رفیق‘ مجیب الرحمن شامی‘ پروفیسر ڈاکٹر سعید اختر ‘ ڈاکٹر امجد ثاقب‘ پروفیسر غیاث النبی طیب نے کی ۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مشیر وزیراعلی پنجاب برائے صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ صوبے سے غیر قانونی ،غیر معیاری بلڈ بنکوں اور غیر شفاف خون کے کاروبار کے خاتمے کے لئے سیف بلڈ ٹرانسفیوژن ایکٹ 2016 کے نام سے قانون سازی کی جارہی ہے اور مسودہ قانون پنجاب اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا ہے۔کمیٹی نے مسودہ قانون کی سکرونٹی شروع کر د ی ہے جو اگست تک مکمل کر لی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے سلسلہ میں مذکورہ قانون بنیادی کردا ر ادا کرے گا کیونکہ اس کے تحت صوبے سے مناسب سہولیات کے بغیر کام کرنے والے بلڈ بنک بند کر دئیے جائیں گے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ گردے اور جگر کی بیماریوں کی روک تھام ،علاج،پیوند کاری اور ہیپاٹائٹس کے علاج کے لئے لاہور میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کیا جارہا ہے۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا ادارہ ہے جہاں ان بیماریوں کے علاج کے ساتھ ریسرچ پر بھی کام ہو گا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے بیدیاں روڈ پر 50 ایکڑ زمین دی تھی ،ادارے کی تعمیر کا کام شروع ہو چکا ہے جس پر تقریبا15 ارب روپے خرچ ہوں گے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کا مرض جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس پر قابو پانے کے لئے حکومت، نجی شعبہ اور سو ل سوسائٹی کو مل کر Prevention پر توجہ دینا ہو گی تاکہ بیماری کے آگے بند باندھا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت نے صحت کا بجٹ 200 ارب روپے تک پہنچا دیا ہے لیکن اگر بیماریوں کی روک تھام کے لئے آگاہی پر توجہ نہ دی گئی تو یہ بجٹ بھی Peanutثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ بیماریوں کے علاج پر توجہ دینے کے ساتھ اصل کام بیماریوں کے پھیلاؤں کو روکنا ہے۔خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ جس طرح ڈینگی کے خلاف پوری سوسائٹی مل کر کام کررہی ہے اسی طرح جنگی بنیادوں پر ہیپاٹائٹس کے خلاف بھی کا م کر ناہو گا۔حکومت ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لئے PKLIسے مل کر بھرپور اقدامات کرے گی۔ر وز نامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پیمرا قوانین کے مطابق تمام ٹی وی چینلز پبلک سروس کے پیغامات مفت نشر کرنے کے پابند ہیں اور اسی طرح پرنٹ میڈیا پربھی یہی قوانین لاگو ہوتے ہیں حکومت کو ہیپاٹائٹس کے خلاف پبلک سروس پیغامات کو زیادہ سے زیادہ نشر کروانے کے لئے پیمرا سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے لاہور میں پی کے ایل آئی جیسا ادارہ قائم کرنے کے لئے پچاس ایکڑ زمین اور اربوں روپے کے فنڈز فراہم کرنے پر وزیراعلی محمد شہباز شریف کی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ پروفیسر سعید اختر دکھی انسانیت کے جس جذبے کے ساتھ یہ ادارہ بنانے کے لئے میدان عمل میں اترے ہیں وہ ضرور کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی کے ایل آئی ایک سرکاری نہیں بلکہ قومی ادارہ بنایا جارہا ہے پوری قوم کو وزیراعلی پنجاب شہباز شریف ‘مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق اور پروفیسر سعید اختر کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ انہوں نے ہیپا ٹائٹس جیسے مرض جس میں لاکھوں لوگ مبتلا ہیں اس کے علاج معالجہ کے لئے ایک قومی ادارہ بنانے کا نہ صرف بیڑہ اٹھائے بلکہ عملی طور پر میدان میں بھی آ گئے پوری قوم کو ان کے ساتھ کھڑا ہو جانا چاہئے حکمران ہوں یا عام آدمی ہر ایک کو دوسروں کے مسائل حل کرنے کے لئے بڑھ چڑھ کا حصہ لینا چاہئے اسی میں خوشی اور نجات ہے ۔مجیب الرحمن شامی نے کہا کہ پروفیسر سعید ایک رول ماڈل ہیں امریکہ میں ان کے پاس دھن دولت سب کچھ تھا مگر وہ اسے چھوڑ کر اپنے ہم وطنوں کی خدمت اور علاج معالجہ کے لئے پاکستان آ گئے انہوں نے کہا کہ خوشی اپنے لئے نہیں بلکہ دوسروں کے لئے سوچنے کا نام ہے اللہ کے رسول ﷺ نے بھی یہی فرمایا ہے جو دوسروں کے مسائل حل کرتے ہیں اللہ ان کے مسائل حل کرتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ خوشی اس بات کی ہے کہ پروفیسر سعید اختر نے اعلان کیا ہے کہ پی کے ایل آئی امیروں کا نہیں بلکہ غریبوں کا ہسپتال ہو گا اور یہاں ہر غریب کا علاج ہو گا شوکت خانم کے لئے عطیات دینے والوں کو اس ہسپتال کے لئے بھی فنڈز دینا ہو گا ان کا دیا ہوا پیسہ غریبوں کے کام آئے گا ہم سب کو ملکر اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالنا چاہئے۔ قبل ازیں پی کے ایل آئی ٹرسٹ کے صدر پروفیسر سعید اختر نے وزیراعلی محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ محمد شہباز شریف نے غریبوں کے درد کو محسوس کرتے ہوئے امراض گردہ اور جگر کے علاج،اس کی روک تھام اور ریسرچ کا ایک اسٹیٹ آف دی آرٹ ادارہ بنانے کے لئے نہ صرف پچاس ایکڑ اراضی مختص کی بلکہ اربوں روپے اس کی تعمیر کے لئے فراہم کئے ہیں۔ڈاکٹر سعید اختر نے کہا کہ پی کے ایل آئی دسمبر2016 تک ہیپاٹائٹس کلینک کا آغاز کردے گا تاکہ ایک ڈیٹا بنک بھی تیار کیا جا سکے جس کی بنیاد پر مستقبل کی منصوبہ بندی ہو سکے گی۔پروفیسر سعید اختر نے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ حکومت پنجاب اورسول سوسائٹی سے مل کر اس مرض پر قابو پانے کے لئے بھرپور مہم چلائیں گے جس میں اولین ترجیح بیماری کے بارے میں آگاہی اور روک تھام پر ہوگی۔اخوت فاؤنڈیش کے چیئرمین ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا کہ ہم ایک آتش فشاں کے کنارے کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام کے لئے اپنی فاؤنڈیشن کے دس لاکھ ممبران کو آگاہی فراہم کرنے کے لئے متحرک کریں گے۔سیمینار سے پروفیسر غیاث النبی طیب نے بھی خطاب کیا ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہرخاندان میں کم از کم ایک مریض ہیپاٹائٹس کا موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ بار بار انجکشن لگوانے ،زیادہ مقدار میں ادویات کا استعمال ،غیر شفاف اور آلودہ آلات سے آپریشن، دانت نکلوانے،کان اور ناک چھدوانے اور غیر مصفہ انتقال خون سے یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جس میں سرنج کے ذریعے نشہ کرنے والے افرادسرفہرست ہیں۔ اس موقع پر ٹیکساس امریکہ کی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر احمد عمران نے کہا کہ ہیپا ٹائٹس سو فیصد قابل علاج مرض ہے جتنی جلدی اس کی تشخیص ہو کر علاج شروع ہو جائے اتنے ہی اچھے رزلٹ آتے ہیں دنیا میں ہیا ٹائٹس کے ایسے مریض جن کا جگر شرنگ ہو جانے سے انہیں سوروسز ہو جاتا ہے ان کی زندگی پاکستان میں ماہریں دو سال تک قرار دیتے ہیں مگر دنیا اس کو بڑھا کر دس سال تک لے گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکماء ہیپا ٹائٹس کے مریض کو موت کے قریب تر لے جاتے ہیں اس مرض کے خلاف شعور بیدا ر کرکے اس کو ختم کیا جا سکتا ہے خصوصا ڈینٹسٹ ‘ بیوٹیشن حجام اور انتقال خون کے وقت احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔

مزید :

صفحہ آخر -