بیرونی رقوم سے پاکستان میں انتشار!

بیرونی رقوم سے پاکستان میں انتشار!
بیرونی رقوم سے پاکستان میں انتشار!

  

ایوان بالا (سینیٹ) کی ’’انسانی حقوق کمیٹی‘‘ کے روبرو، کراچی کے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے رینجرز حکام نے بتایا کہ ’’کراچی کے حالات بگاڑنے میں بیرون مُلک سے آنے والی رقوم کا بہت بڑا ہاتھ ہے، کراچی کے ٹارگٹ کلرز کو برطانیہ جنوبی افریقہ اور تھائی لینڈ سے پیسے مل رہے ہیں‘‘۔

رینجرز حکام نے کراچی کے حالات کے بگاڑ میں صرف تین ملکوں کا نام لیا ہے، جبکہ کئی حلقے اور متعدد شخصیات کھل کر، کراچی کے حالات کی ’’تباہی‘‘ اور قتل و غارت‘‘ میں بھارت اور اس کی ایجنسی ’’را‘‘ کا نام لے چکے ہیں اور اِس ضمن میں ’’ایم کیو ایم کی لندن قیادت‘‘ کے بارے میں واضح طور پر ’’را‘‘ سے بہت بڑی رقوم حاصل کرنے کی باتیں کر چکے ہیں۔

کسی بھی مُلک میں بیرونی مداخلت، سیاسی، سماجی، معاشرتی اور مذہبی طبقوں میں، دوسرے ملکوں کے اثرو رسوخ سے دُنیا کا کوئی مُلک اور کوئی طاقت انکار نہیں کر سکتی۔ چھوٹا مُلک ہو یا بڑا، اس مداخلت اور اثر انگیزی سے محفوظ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ آج ہی کے اخبارات میں ایک طرف یہی سرخی جمی تھی جس میں رینجرز حکام کے حوالے سے برطانیہ، جنوبی افریقہ اور تھائی لینڈ سے آنے والی رقوم سے کراچی کے خلفشار اور قتل و غارت کو جوڑا گیا ہے تو دوسری طرف ایم کیو ایم کے سینئر رہنما اور کراچی کے میئر کے عہدہ کے لئے اعلان کردہ،وسیم اختر کا بیان بھی شائع ہوا ہے، جس میں ’’12مئی کی قتل و غارت کو الطاف حسین کے احکامات اور الطاف حسین کو بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی ’’محکومیت‘‘ سے متعلق کیا گیا ہے‘‘۔ انہی سرخیوں اور شہ سرخیوں کے ساتھ دُنیا کی واحد سپرپاور سمجھے جانے والے مُلک امریکہ کے صدر اوباما کا بیان بھی جلی سرخی سے شائع ہوا کہ ’’روس امریکہ کے صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہو رہا ہے اور جب تک گنتی نہ ہو جائے، محتاط رہنا چاہئے‘‘۔۔۔ صدر اوباما کی طرح ہیلری کلنٹن کے مدمقابل ڈونلڈ ٹرمپ نے کھل کر روس سے اپیل کی ہے کہ وہ’’ہیلری کلنٹن کی ای ملز کو ہیک کر لے‘‘۔

اس صورتِ حال کے بعد کون ہے جو کسی بھی مُلک میں، کسی دوسرے مُلک کی اثر اندازی سے انکار کر سکتا ہے۔ اگر امریکہ جیسی بڑی طاقت کی ’’بے چارگی‘‘ کا یہ عالم ہے کہ اس کے ’’صدارتی انتخابات‘‘ تک دشمن مُلک کے اثرات سے بچے نہیں، تو چھوٹے اور غریب ممالک کی ’’حالتِ زار‘‘ کا عالم کیا ہو گا؟

ہم تو ہر ہر معاملے میں باہر ہی کی طرف دیکھتے ہیں صرف کراچی کی حالتِ زار ہی، بیرونی سرمائے سے پلنے والے ٹارگٹ کلرز کی قتل و غارت کے ہاتھوں تباہ نہیں، ہماری اقتصادیات و معاشیات اور مذہب و معاشریات تک بیرونی سرمائے کے ہاتھوں یرغمال ہے، ہمارے پٹرول، بجلی اور پانی کی قیمتوں کا تعین تک بیرونی امداد کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے، یعنی معاشی قتل و غارت کے پیچھے بھی بیرونی مالی معاملات ہی کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔ ہم تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ ’’نئے ڈیموں کی کتنی زیادہ ضرورت ہے‘‘ ہم محض بیرونی مداخلت کے باعث انہیں بنا نہیں پا رہے۔ اب ہماری ساری امیدیں چین کے تعاون سے بننے والی اقتصادی راہداری سے بندھی ہیں، مگر خود اس کی راہ میں جو بڑی بڑی رکاوٹیں موجود ہیں اور ان کے پسِ پردہ غیر ملکی اثرات و مداخلت اور بیرونی جبر، جس طرح کار فرما ہیں ان سے کون واقف نہیں۔۔۔؟

بیرونی رقوم کی اثر اندازی، زندگی کے (قریباً) ہر ہر شعبے میں موجود ہے۔ کراچی کے ٹارگٹ کلرز ہی نہیں، بے شمار بڑے بڑے ناموں اور بڑے بڑے عہدوں پر متمکن رہنے والے بھی بیرونی رقوم کے سامنے صرف دستِ سوال ہی دراز نہیں کرتے، خود بھی(دل و جان سے) بچھ بچھ جاتے ہیں، بڑے اور ذمہ دار عہدوں پر متمکن رہنے والوں نے ’’غیر ملکی مفادات‘‘ پورا کرنے کی خاطر، جو ذاتی مفادات حاصل کئے وہ کوئی راز تو نہیں رہے۔ ڈالروں کو عوض اپنے لوگوں کو غیروں کے حوالے کرنے سے لے کر اپنی سرحدوں اور اپنی زمین(حتیٰ کہ ہوائیں تک) دوسروں کے سپرد کر دینے تک کے کئی ابواب ہماری تاریخ میں رقم ہیں۔ دوسروں کے ایما اور ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے اپنوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے، ہمارے اردگرد، بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ دوسرے ملکوں کی لڑایاں ہمارے مُلک میں لڑی جاتی اور ہر طرف آگ خون کا کھیل دکھاتی رہی ہیں۔۔۔

بیرونی رقوم کے لالچ نے ہماری مشرقی روایات کے حسن کو بری طرح پامال کر کے رکھ دیا ہے۔ سیاسی حلقوں سے لے کر مذہبی طبقات تک، ہر طرف’’بیرونی رقوم‘‘ کی کارستانیاں (بلکہ تخریب کاریاں) عام ہیں انہی کی وجہ سے اخلاص اور صلاحیتوں کا قتل عام اور نفسا نفسی کا دور دورہ ہے۔

علم و تحقیق اور تعلیم و تدریس کا بھی اگر خون ہو رہا ہے تو وہ بھی تو بیرون ملک کی رقوم کے حصول ہی کی خاطر بیرونی رقوم کے لالچ میں بننے والی بے شمار ’’این جی اوز‘‘ ملک و قوم کی بدنامی کا باعث بن رہی ہیں تو وہ بھی ’’بیرونی مالی امداد و تعاون‘‘ ہی کی خاطر۔۔۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ مملکتِ خدا داد میں، دین و مذہب میں بھی شدت پسندی ، فرقہ واریت، باہمی آویزش کے پس پردہ ’’بیرونی تعاون‘‘ بھی کار فرما ہے۔ مَیں خود(بہت حد تک) مذہبی دُنیا سے آگاہ ہوں، وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بیان کرتے ہوئے بھی کلیجہ مُنہ کو آتا ہے۔ دل چاہتا ہے اس کو کھل کر بیان کیا جائے اور دُنیا کو بتایا جائے کہ ’’اس کوچہ کے رنگ و نور کے پیچھے کیا کچھ ہے‘‘۔

(بیان کرنے سے زیادہ ضرورت ہے،مخلص لوگوں کو ساتھ ملا کر تحریک برپا کی جائے اور للہیت کی فضا پیدا کی جائے)۔۔۔ مگر کیا کروں۔۔۔

افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی

خوفِ فساد خلق سے ناگفتہ رہ گئے

رینجرز حکام نے اپنے فرضِ منصبی کے عین مطابق صرف پوچھے گئے معاملات کے بارے میں آگاہ کیا ہے، بات چونکہ صرف کراچی کے حالات کی تھی تو انہوں نے صرف تین ملکوں کی بات کی۔۔۔ اے کاش! ملک و ملت کی تابناکیوں کو بحال کرنے کی خاطر ہر ہر حلقے اور ہرہر شعبے میں پراگندگی پیدا کرنے والی بیرونی مالی مراعات اور مختلف طبقات کو ملنے والی بیرونی امداد کا حساب و احتساب ہو۔۔۔ پھر عوام دیکھیں، کہ کیا کیا کچھ ہو رہا ہے؟ اور کون کون، اصل میں میں کیا کیا ہے۔۔۔؟

مزید :

کالم -