بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی،چناب میں نچلے درجہ کے سیلاب کا خطرہ

بارشوں کے باعث دریاؤں میں طغیانی،چناب میں نچلے درجہ کے سیلاب کا خطرہ

  

ملتان،دائرہ دین پناہ(سپیشل رپورٹر،نامہ نگار)ملک بھر میں حالیہ مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی ملک کے چار بڑے دریاؤں میں طغیانی آنا شروع ہوگئی ہے جس کے نتیجہ میں دریائے سندھ ،چناب ،راوی اور جہلم کے مختلف ہیڈ ورکس پر پانی کی آمد میں اضافے کے باعث(بقیہ نمبر41صفحہ12پر )

سطح بتدریج بلند ہو رہی ہے اس ضمن میں پانی کی آمد میں اضافے کے باعث دریائے چناب میں نچلے درجہ کا سیلاب آنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے جبکہ دریائے جہلم میں پانی سطح معمول پر آنا شروع ہوگئی ہے اس ضمن میں محکمہ آبپاشی کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ روز دریائے سند ھ میں تربیلا کے مقام پر پانی کی آمد242200کیوسک ،کالا باغ کے مقام پر 317272کیوسک،چشمہ کے مقا م پر 270510کیوسک جبکہ تونسہ کے مقام پر 236548کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے اسی طرح دریائے چناب میں مرالہ ہیڈورکس پر پانی کی آمد143878کیوسک ،خانکی کے مقام پر148805کیوسک ،قادر آباد کے مقام پر 124907کیوسک جبکہ تریموں کے مقام پر 30559کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے ۔دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 43230کیوسک جبکہ رسول کے مقام پر 13083کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ اسی طرح دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر پانی کی آمد35060 ریکارڈ کی گئی ہے مذکورہ اعدادوشمار کے کے نتیجہ میں دریائے چناب میں نچلے درجے کا سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ دریائے سندھ اور راوی میں بھی پانی کی سطح بتدریج بلند ہورہی ہے تاہم دریائے جہلم میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ہے۔علاوہ ازیں ہیڈتونسہ بیراج کے مقام پردریائے سندھ میں شدیدطغیانی سے حسن کریک کے مقام پرحفاظتی بندٹوٹنے سے کروڑوں کی لاگت سے بننے والا ہاکی سپرپل بہہ گیا جس سے کچے کے3مواضعات چھجڑے والا،نشان والا نہ صرف صفحہ ہستی سے مٹ گئے بلکہ ہزاروں نفوس کازمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا ۔ہاکی سپرپل دریامیں بہہ جانے سے نقل مکانی میں شدیدمشکلات کا سامنا ہے کشتی اورلانچ مالکان نے نرخ دوگنا کردیے ہیں بیسیووں جانورہلاک ہوچکے ہیں لومڑوالا کی170گھروں پرمشتمل بستی گیدڑی کوبھی شدیدخطرات لاحق ہیں چارہ کی قلت کے باعث بیشترجانوروں کابھوک سے براحال ہے سروے میں متاثرہ لوگوں غلام حسن گاڈی،غلام مرتضیٰ،لعل احمد،نذیراحمد،زبیر،طالب حسین،غلام حسین المعروف صدر،غلام فرید،غلام صدیق،محمدعثمان،فیض بخش ہوت کے مطابق بستی ہوت،چانڈیہ،غزیلا،جان محمد،سنجرانی،بروہی،منجوٹھہ وغیرہ کے علاوہ کچے کے لوگ بے یارومددگارکھلے آسمان تلے غیبی امدادکے منتظرہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ متاثرین کومتبادل کے طورپرسرکاری زمین الاٹ کرے علاوہ ازیں صوبائی قومی اسمبلی ملک احمدیارہنجرا،چیئرمین یوسی ہنجرائی جاویداخترہنجراکے ہمراہ ہاکی سپرپل پرپہنچ گئے پینے کے پانی کی عدم دستیابی کے باعث خیمے اور3ہینڈپمپ لگوادیے جبکہ صوبائی رکن اسمبلی ملک احمدیارہنجرانے محکمہ محال کوفوری سیلاب متاثرین کاسروے کرنے کے علاوہ سیلاب متاثرین کوسرکاری زمین کی الاٹ منٹ کے لیے فوری درخواستیں جمع کرانے کی تلقین کی احمدیارہنجرانے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ حالیہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں سیلاب متاثرین کی صورتحال اورتباہ کاریوں سے وزیراعلیٰ پنجاب کونہ صرف آگاہ کروں گا بلکہ متبادل زمین اورگھروں کی الاٹ منٹ کے لیے بھرپورکرداراداکرونگا۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -