چوری کے مقدمہ میں محبوس نیم برہنہ حالت میں برآمد،عبوری ضمانت پر رہا

چوری کے مقدمہ میں محبوس نیم برہنہ حالت میں برآمد،عبوری ضمانت پر رہا

  

ملتان (نمائندہ خصوصی) ہائیکورٹ ملتان بنچ کے مسٹر جسٹس مظہر اقبال سدھو نے چوری کے مقدمہ میں محبوس کے نیم برہنہ حالت میں برآمد ہونے پر محبوس کوعبوری ضمانت پر رہا کرتے ہوئے 10 اگست تک سماعت ملتوی کرنے کا حکم (بقیہ نمبر28صفحہ7پر )

دیا ہے۔فاضل عدالت نے پولیس افسران کو طلب کرکے ریمارکس دئیے کہ کہ پولیس کی تکنیکی غلطیاں نہ صرف مقدمہ میں شکوک وشبہات کو جنم دیتی ہیں بلکہ ملزموں کی رہائی کا سبب بھی بن جاتی ہیں ۔فاضل عدالت نے عدالت میں موجود پولیس افسران کوہدایت کی کہ شہادتیں اکٹھی کرنے کے لئے سورۃالنساء سے رہنمائی حاصل کریں اور پولیس رولز کو بھی ان آیات کی روشنی میں ترتیب دیناچاہیے۔ فاضل عدالت نے ایس پی محمدرضوان کو مخاطب کرتے ہوئے قرار دیا کہ وہ نوجوان اور قابل افسر ہیں لیکن محکمہ کے ایسے نااہل افسر ان کے مستقبل کے لئے دھبہ بن سکتے ہیں۔فاضل عدالت نے مزید قراردیا قیام پاکستان سے آج تک بنائے گئے سسٹم سے ا یک بھی ایس ایچ او کو ٹھیک نہیں کیاجاسکا ہے ۔فاضل عدالت نے پولیس افسران کو آگاہ کرتے ہوئے ہدایت کی کہ آئین کے آرٹیکل 10 کی کلاز وَن میں واضح ہدایت ہے کہ جس کسی کی گرفتاری مقصود ہوتو پہلے اس کے وارنٹ حاصل کریں اور پھر مطلوب شخص کو ٹھو س وجہ اور ثبوت سے آگاہ کریں فاضل عدالت نے یہ ریمارکس ملتان کی حسینہ بی بی نے درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیارکیا تھاکہ پولیس تھانہ مخدوم رشید نے اس کے خاوندکو غیر قانونی طورپر گرفتارکر کے محبوس کر لیا ہے اور اس کو کسی عدالت میں پیش کرنے کی بجائے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہاہے فاضل عدالت کے حکم پر بیلف نے رپورٹ پیش کی کہ ملزم کی چوری کے الزام ایک روز قبل گرفتاری ظاہر کی گئی تھی جبکہ محبوس ملزم تھانہ میں نیم برہنہ حالت میں موجود تھا جس کے جسم پر نیلگوں نشانات تھے اور ملزم اللہ رکھانے بتایا کہ تفتیشی آفیسر نے اس کے نازک اعضاء میں پائپ ڈال کرپٹرول بھی داخل کردیا تھا جس پر عدالت نے افسران کے فوری طورپر حاضر ہونے کا حکم جاری کیا تو ایس پی کینٹ ،ڈی ایس پی اور ایس ایچ او پیش ہوئے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -