ایم کیو ایم کا وزیر اعلٰی سندھ کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ

ایم کیو ایم کا وزیر اعلٰی سندھ کے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ

  

 کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ نے سندھ کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخابی عمل میں احتجاجاً غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے ۔یہ اعلان ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر سید سردار احمد ،قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن اور لائرونگ کے رہنما محفوظ یار خان نے جمعرات کو سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سید سردار احمد نے کہا کہ آج ہم نے پارلیمانی پارٹی اور پارٹی کی مرکزی قیادت سے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم وزیراعلیٰ سندھ کے انتخاب میں غیر جانبدار رہے گی ۔انہوں نے کہا کہ ہم شراکتی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں ۔ہم کنونشل جمہوریت کو نہیں مانتے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کی حمایت ،مخالفت اور غیر جانبداری پر غور کیا اور اس کے بعد فیصلہ کیا کہ ایم کیو ایم اس عمل میں غیر جانبدار رہے گی ۔ایم کیو ایم نہ کسی کی حمایت کرے گی اور نہ کسی کی مخالفت کرے گی ۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ماضی میں ہم نے سید قائم علی شاہ کو بلامقابلہ منتخب کرنے کے جو نتائج شہری علاقوں کو ملے ہیں ان نتائج کا بھی جائزہ لیا ہے ۔یہ نتائج افسوسناک ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس ایوان میں ایک ظالم اکثریت کی بناء پر فیصلے پر ہوتے ہیں ۔ہم حمایت کریں یا مخالفت اس سے سندھ کو کوئی فائدہ نہیں ملے گا ۔اس لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم احتجاجاً وزیراعلیٰ سندھ کے انتخاب سے لاتعلق رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ میں ہم تفریق کے خلاف ہیں ۔پیپلزپارٹی نے دیہی اور شہری کی تفریق پیدا کردی ہے ۔اگر سندھ کی تقسیم کی کوئی بات ہوتی ہے تو اس کی ذمہ دار پیپلزپارٹی ہوگی ۔ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ چہروں کے ساتھ پالیسیوں میں بھی تبدیلی آتی ہے یا نہیں لیکن اس کی امید نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کو ان کا حق دے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے ۔سندھ تباہ ہے ۔تھر میں آج بچے مررہے ہیں اور پورے صوبے میں لوٹ مار کا بازار گرم ہے ۔خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ ہم نے جو فیصلہ کیا ہے براہ راست ووٹ دینے والوں اور سندھ کے لوگوں کی آواز ہے۔جس انداز میں پیپلزپارٹی نے سید قائم علی شاہ کو وزیراعلیٰ کے عہدے سے سبکدوش کیا ہے وہ انتہائی افسوس ناک ہے۔قائم علی شاہ پہلے خود اعلان کرتے اور اس کے بعد پیپلزپارٹی اعلان کرتی تو بہتر ہوتا ۔تاہم یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 8سال میں صوبے میں جو تباہی ہوئی ہے مراد علی شاہ اس کے برابر ذمہ دار ہے کیونکہ وہ اس کے براہ راست ذمہ دار ہیں ۔ہم یہ دیکھیں گے کہ وہ 22ماہ میں کیا تبدیلی لائیں گے ۔ایک سوال کے جواب میں خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ سید مراد علی شاہ نے نامزد ہونے کے بعد ایم کیو ایم سے کوئی رابطہ نہیں کیا ہے ۔اگر اب وہ رابطہ کرتے ہیں تو ہم دعا ہی کرسکتے ہیں ۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اس وقت ایم کیو ایم انتہائی مشکل صورت حال سے گذر رہی ہے لیکن 22ماہ پیپلزپارٹی کے لیے بھی اچھے نہیں ہیں ۔میں نے اپنی بجٹ تقریر میں اس جانب اشارہ بھی کیا تھا ۔ہم صوبے سے کرپشن ،لوٹ ماراور بدامنی کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔رینجرز سمیت کسی بھی ادارے کو اختیار دینا ہے تو پورے صوبے تک دیا جائے ،صرف کراچی تک محدود کیوں ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پیپلزپارٹی اور سندھ کو الگ سمجھتی ہے ۔محفوظ یار خان نے کہا کہ ہمارے ساتھ جو کچھ عدالتوں میں ہورہا ہے اس کے خلاف ہمارا یہ احتجاج ہے ۔انتظامیہ اس کو ہماری کمزوری نہ سمجھے ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نہیں چاہتی ہے کہ گلی گلی فساد ہو ۔اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے لاپتہ لوگوں کو بازیاب کرایا جائے اور میئرکے عہدے کے لیے نامزد امیدوار وسیم اختر کو فوری رہا کیا جائے تاکہ وہ منتخب ہوسکیں ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -