غازی بروتھا نہر میں ڈوبنے والی تیسری خاتون کی لاش برآمد

غازی بروتھا نہر میں ڈوبنے والی تیسری خاتون کی لاش برآمد

  

ہری پور(نامہ نگار) غازی بروتھا نہر میں گرنے والی گاڑی کے ساتھ ڈوب جانے والی تیسری خاتون کی لاش ساتویں روز مل گئی تاہم باقی دو بچیوں کی تلاش کا کام آٹھویں روز بھی جاری رہا، درجنوں غوطہ خوروں نے 52کلو میٹر طویل، 300فٹ چوڑی اور 30 فٹ گہری جھیل کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن تمام تر کاوشوں اور وسائل کے استعمال کے باوجود سات روز تک ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا تھا جبکہ نہر سے نکال لیے جانے والے ڈرائیور کی حالت بھی بتدریج بہتر ہوتی جا رہی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ بدھ کے روز غازی کے مقام پر غازی بروتھا پراجیکٹ کی نہر میں گرنے والی گاڑی نمبر LHZ-2288 سوزوکی کیری جس میں دو بچیوں اور تین خواتین سمیت سات افراد سوار تھے غازی سے سریکوٹ جاتے ہوئے راستے میں غازی بروتھا نہر میں گر گئی تھی تو گاڑی میں سوار افراد میں سے دو خواتین سمیت چار افراد کو نہر سے نکال لیا گیا تھا جن میں سے دونوں خواتین نے ہسپتال پہنچ کر دم توڑ دیا تھا جبکہ دو بچیاں ، ایک خاتون اور گاڑی ڈوب گئی تھی جن کو نہر سے نکالنے کے لئے کئی روزتک مسلسل کاروائیاں جاری رہیں جس میں مقامی افراد کے علاوہ پاکستان آرمی، پشاور سے آئے ہوئے غوطہ خوروں اور ریسکیو 1122کی امدادی ٹیموں نے بھی حصہ لیا۔ تلاش کی مسلسل کاروائیوں میں اس حد تک کامیابی حاصل ہوئی کہ ایک خاتون صوبیہ بی بی دختر غلام محمد ساکن عیسیٰ غازی کی لاش ڈوبنے کے مقام سے تقریباَ 50کلو میٹر تک نہر میں بہہ جانے کے بعد غازی بروتھا پراجیکٹ کی 52کلو میٹر لمبی نہر کے اختتام پر بروتھا کے مقام پر ساتویں روز گذشتہ منگل کی رات مل گئی جس کا جنازہ فوری طور پر رات 1بجے کے لگ بھگ ادا کر کے سپرد خاک کر دیا گیا۔ باقی دو بچیوں اور گاڑی کی تلاش کا کام ابھی تک جاری ھے ۔ ادھر بتایا جاتا ھے کہ گاڑی کا ڈرائیور بیل گراں سری کوٹ کا رہائشی شبیر احمد ولد فضل الرحمن جسے نہر سے نکال لیا گیا تھا کئی روز تشویشناک حالت میں رہنے کے بعد بہتر ہو رہا ہے اور اس کی حالت اب خطر ے سے باھر ہے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -