جندول ،ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے باعث نوجوان جاں بحق

جندول ،ڈاکٹر کی عدم موجودگی کے باعث نوجوان جاں بحق

  

جندول(نمائندہ پاکستان ) تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ثمر باغ کے ایمر جنسی میں ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان جانبحق ، تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز بتیس سالہ نوجوان حشمت خان ساکن کوٹکی معیار کو تکلیف کے باعث تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال ثمر باغ لایا گیا تھا تاہم سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی میں ڈاکٹر موجود نہ ہونے کی وجہ سے مریض کو سرجن ڈاکٹر ہمایون کے پاس لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرنے کچھ ٹیسٹ تجویز کئے تاہم مریض کو جو ہی ہسپتال کے سامنے ایک پرائیویٹ لیبارٹری میں ٹیسٹ کی غرض سے بٹھایا گیا تو اس کی حالت اچانک خراب ہو گئی جس کے بعد اسے ہنگامی طور پر ایک مرتبہ پھر سرکاری ہسپتال کے ایمرجنسی لے جایاگیا تاہم پھر بھی وہاں ڈاکٹر موجود تھا اور نہ ہی آکسیجن کا موزون انتظام جس کی وجہ سے مریض نے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دیدی ، علاقائی لوگوں کے مطابق کیٹگری ڈی ہسپتال ثمر باغ میں گذشتہ کافی عرصہ سے درجنوں سپیشلسٹ ڈاکٹروں ،میڈیکل آفیسرز ،سینئر میڈیکل آفیسر ز وغیرہ کی آسامیاں خالی پڑی ہیں جس کی وجہ سے سرجیکل یونٹ کے علاوہ دیگر تمام وارڈ غیر فعال ہو چکے ہیں اور ایمرجنسی میں زیادہ تر مریضوں کی تشخیص کا بیڑا پیرامیڈیکل ،نرسنگ اور کلاس فور ملازمین نے اٹھا رکھا ہیں جو کہ نیم حکیم خطرہ جان کے مصداق مریضوں کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے ، مرحوم نوجوان کے ورثاء کے مطابق آئندہ چند دنوں میں مرحوم کے چھوٹے بھائی کی شادی ہونے والی تھی تاہم ان کے جانبحق ہونے سے شادی کے گھر میں ماتم مچھ گئی ، اہلیان علاقہ نے محکمہ صحت کو سانحہ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا اگر جلد از جلد حکومت نے مذکورہ ہسپتال میں سٹاف کی کمی کا نوٹس نہ لیا تو عوام لا ئحہ عمل طے کرنے پر مجبور ہونگے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -