فیس بک کا پاکستان میں رجسٹریشن اور ٹیکس نیٹ میں آنے سے انکار

فیس بک کا پاکستان میں رجسٹریشن اور ٹیکس نیٹ میں آنے سے انکار
فیس بک کا پاکستان میں رجسٹریشن اور ٹیکس نیٹ میں آنے سے انکار

  

لاہور(ویب ڈیسک)بین الصوبائی کمپنی فیس بک کے منتظمین نے پنجاب ریونیو اتھارٹی(PRA)پر واضح کیا ہے کہ فیس بک بین الاقومی کمپنی ہے اور پاکستان سے باہر رہ کر صارفین کو سہولیات فراہم کرتے ہیں اس لئے پی آر اے میں رجسٹریشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پی آر اے کے ایک عہدیدار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ فیس بک منتظمین نے کہا ہے کہ کمپنی آئرلینڈ میں اپنی آن لائن سروسز فراہم کررہی ہے۔ کمپنی کو ٹیکس کی ادائیگی کے لئے پی آر اے میں رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہے۔منتظمین نے مزید کہا کہ پی آر اے نے ریورس چارج قانون کے تحت مقامی طور پر آن لائن شہری خدمات حاصل کرنے پر ٹیکس وصولی کی کوشش کی تھی۔ پی آر اے 2012ءکی سیکشن فور کی شق 5میں مختلف صورتحال میں ریورس چارج کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔پنجاب ریونیو اتھارٹی نے فیس بک، گوگل، ڈیلی موشن اور یو ٹیوب کو آن لائن تشہیری بزنس کیلئے ان کمپنیوں کو اپنی رجسٹریشن کیلئے نوٹسزجاری کئے تھے، تاہم صرف فیس بک منتظمین نے پی آر اے کے نوٹس کا جواب دیا ہے۔

پی آر اے کے عہدیدار نے بتایا کہ فیس بک انتظامیہ نے مثبت جواب دیا ہے جبکہ دیگر کمپنیاں اس معاملے پر تاحال خاموش ہیں اور اس معاملے کو دو ماہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلی موشن، گوگل اور یوٹیوب نے خاموشی برقرار رکھی اور نوٹسز کا جواب نہ دیا تو ہم ان وشل میڈیا کمپنیوں کو پی آ ر اے2012 ایکٹ کی شق27 کے تحت رجسٹرڈ کرنے کے مجاز ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کمپلسری رجسٹریشن کے بعد پی آر اے کو یہ اختیار مل جاتا ہے کہ وہ ٹیکس چھپانے اور ٹیکس ادائیگی سے بچنے والی کمپنیوں کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔ پی آر اے کا اپنی سرکاری ویب سائیٹ پر دعویٰ ہے کہ انہوں نے پنجاب میں دو سومقامی کاروباری کمپنیوں کو رجسٹرڈ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی آر اے میں ان کمپنیوںکی رجسٹریشن کے بعد ہم پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے رجوع کرکے ٹیکس چوری میں ملوث کمپنیوں کے خلاف ویب سائٹس بلاک کرنے سمیت دیگر قانونی اقدامات کی سفارش کریں گے۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ اس وقت ہم اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ بیرون ملک بیٹھ کر ٹیکس چوری کی مرتکب کمپنیوں کیخلاف کارروائی کر سکیں۔ اندرون ملک سہولیات فراہم کرنے والی سوشل میڈیا کمپنیوں کو ہم بند کر سکتے ہیں لیکن بیرون ملک کمپنیوں کے خلاف کارروائی کرنا ممکن نہیں۔ پی آر اے کے ایک اور عہدیدار نے کہا کہ مذکورہ چاروں سوشل میڈیا کمپنیوں کے پاکستان میں دفاتر نہیںہیں۔ صرف گوگل نے بھارت میں اپنے چار علاقائی دفاتر بنا رکھے ہیں جہاں سے پاکستان، بنگلہ دیش اور سری لنکا کے لئے یہ کمپنی آپریٹ کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس سے بچنے کیلئے یہ کمپنیاں پاکستان میں اپنے دفاتر قائم نہیں کرتیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی آر اے کو اس حوالے سے مزید بااختیار بنانے کے لئے قانون میں ترامیم کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پی ٹی اے سے مل کر پاکستان میں ان ویب سائٹس یا کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

پنجاب ریونیو اتھارٹی کے چیئرمین ڈاکٹر صدیق راحیل نے اس بات کی تصدیق کی کہ فیس بک کی طرف سے باضابطہ جواب موصول ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں فیس بک کی آن لائن تشہیری بزنس کے لئے خدمات قانون کے تحت قابل ٹیکس ہیں تاہم لیگل ونگ فیس بک کی طرف سے موصول ہونے والے اعتراضات اور وجوہات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے بعد مزید کوئی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان تمام سوشل میڈیا کمپنیوں کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (PTA) کے ترجمان خرم مہران نے بتایا کہ ٹیکس کی ادائیگی سے کترانے والی کمپنیوں کے خلاف کارروائی سے متعلق پی آر اے کی طرف سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم انہوں نے کہا کہ ایسی درخواست ملی تو قانون کے مطابق عمل درآمد کیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ پنجاب حکومت نے ایک آرڈیننس کے تحت پی آر اے کو پاکستان میں آن لائن تشہیری خدمات فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں سے 16فیصد ٹیکس لینے کا اختیار دیا گیا ہے۔ چند ماہ قبل پی آر اے حکام نے فیس بک، گوگل، یوٹیوب اور ڈیلی موشن کو پنجاب میں آن لائن تشہیری خدمات کے لئے 17جون 2016ءتک ٹیکس نیٹ میں آنے کے لئے نوٹسز ارسال کئے تھے۔

مزید :

لاہور -