خیبرپختونخوا حکومت کا پشاور میں قائم پاک ترک سکولز بند نہ کرنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت کا پشاور میں قائم پاک ترک سکولز بند نہ کرنے کا فیصلہ
خیبرپختونخوا حکومت کا پشاور میں قائم پاک ترک سکولز بند نہ کرنے کا فیصلہ

  

پشاور (ویب ڈیسک) خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی دارالحکومت پشاور میں قائم پاک ترک سکولز برانچز بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ملک بھر میں 20 پاک ترک سکولز اینڈ کالج برانچز میں زیر تعلیم 14000 طلباءوطالبات کے بیشتر والدین نے واضح کیا ہے کہ وہ بندش کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے میں ملوث ہزاروں سرکاری و نیم سرکاری اداروں کے ملازمین اور اہلکاروں کو برطرف اور گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ ترکی کی حکومت نے بغاوت میں فتح اللہ گولن کو ملوث قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں ان کے سکولز و کالجز بند کردئیے ہیں اور وفاقی حکومت سے بھی سفارش کی ہے کہ وہ ملک بھر میں پاک ترک سکولز فوری طور پر بند کردیں۔وفاقی حکومت نے اس حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا ہے البتہ فیڈرل ایجوکیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک ترج سکولوں کی بندش زیر غور ضرور ہے مگر اس بارتے میں باقاعدہ کوئی اعلامیہ جاری نہیں ہوا ہے۔

روزنامہ ایکسپریس کے مطابق فتح اللہ گولن ایک وقت میں ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے تاہم انتخابات کے بعد دونوں میں اختلافات شدت اختیار کرگئے، فتح اللہ گولن اس وقت امریکہ میں مقیم ہیں۔ ترکی حکومت نے ان پر الزام لگایا ہے کہ ترکی میں بغاوت کے پیچھے فتح اللہ گولن کا ہی ہاتھ ہے۔ اس لئے ترکی حکومت نے نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ دیگر ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے میں ان کے قائم کردہ پاک ترک سکولز چین بند کرنے کی سفارش کی ہے۔ خیبرپختونخوا میں اس وقت صرف صوبائی دارالحکومت پشاور میں دو برانچز جونیئر اور سینٹر برانچز شامل ہیں۔

اس کے علاوہ صوبے کے کسی ضلع میں پاک ترک برانچز نہیں ہیں۔ خیبرپختونخوا حکومت نے ترکی کی سفارش پر واضح کیا ہے کہ وہ ترک سکولز بند نہیں کریں گے۔ واضح رہے کہ پاک ترک سکولز سسٹم میں زیر تعلیم پاکستانی طلبا وطالبات کئی سال سے بیرون ممالک میں ایجوکیشن کے حوالے سے منعقدہ مقابلوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے آرہے ہیں، پاک ترک سکولوں کی بندش کی سفارش پر والدین اور بچوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

مزید :

پشاور -