پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بندوق، سمارٹ فون سے سستی

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بندوق، سمارٹ فون سے سستی
پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بندوق، سمارٹ فون سے سستی

  

درہ آدم خیل(ویب ڈیسک)پاکستان کے قبائلی علاقے میں بندوق ، سمارٹ فون سے سستی ہے۔تفصیلات کے مطابق،پاکستان کا شمال مغربی قبائلی قصبہ، درہ آدم خیل جو کہ پاکستان میں ہتھیاروں کی سب سے بڑی بلیک مارکیٹ سمجھا جاتا ہے۔یہاں کلاشنکوف ، سمارٹ فون سے سستی ہے۔یہاں غیر قانونی ہتھیاروں کی فروخت کو 1980 کی دہائی میں اس وقت فروغ حاصل ہوا جب افغان جنگ میں سوویت یونین کے خلاف مجاہدین نے یہاں سے اسلحہ خریدنا شروع کیا۔یہاں کے مقامی شخص خطیب گل جو کہ ترک اور بلغارین ایم پی 5 کی نقل بنانے میں مہارت رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ”نواز حکومت نے ہر جگہ چیک پوسٹ قائم کردیئے ہیں، جس کی وجہ سے کاروبار ختم ہوگیا ہے۔“عالمی بازار میں ایم پی 5 کی قیمت ہزاروں ڈالر ہے۔تاہم، میری بنائی ہوئی ایم پی 5 سات ہزار میں ایک سال کی گارنٹی کے ساتھ دستیاب ہے۔خطیب گل کے مطابق، درّے کی بنی ہوئی کلاشنکوف13 سے 14 ہزار میں باآسانی مل جاتی ہے جو کہ بہت سے سمارٹ فون سے بھی سستی ہے۔

اس کے مطابق، یہاں اسلحہ بنانے والے اپنے فن میں کمال مہارت رکھتے ہیں، یہاں تک کہ انہیں دنیا کا کوئی بھی اسلحہ دکھایا جائے وہ اس کی نقل تیار کرلیتے ہیں۔اس کے مطابق وہ پچھلے دس سالوں میں دس ہزار کے قریب گنیں فروخت کرچکا ہے، لیکن آج تک کسی نے اس میں خرابی کی شکایت نہیں کی۔درہ کا اہم بازار اسلحہ کی چھوٹی دکانوں سے بھرا ہوا ہے جو کہ بنا چھت کی ہیں، کیوں کہ وہاں اسلحہ خریدنے والے اسلحہ استعمال کرکے چیک کرتے ہیں۔اسلحہ کی تجارت غیر قانونی ہے، وہاں بغیر لائسنس کے اسلحہ فروخت ہوتا ہے کیوں کہ حکومت کی قبائلی علاقوں میں عمل داری بہت کم ہے۔تاہم، شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد سے یہاں اسلحہ کی فروخت اس آزادی کے ساتھ نہیں ہورہی، درہ کی ہر دوسرے تیسری دکان میں اب راشن اور الیکٹرونک کا سامان فروخت ہورہا ہے۔خطیب گل کے مطابق، آپریشن سے قبل اس کی دکان میں ہر روز دس مختلف نوعیت کی بندوقیں بنائی جاتی تھیں، لیکن اب صرف چار بنائی جاتی ہیں، اسلحہ کی مانگ میں کمی آئی ہے، خریدار خوف کا شکار ہیں۔اس کے مطابق، اس کی وجہ درہ کے راستے میں قائم کی جانے والی چیک پوسٹ ہیں، جب کہ غیر ملکیوں پر درہ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔

مقامی افراد کے مطابق، وہاں پر آپریشن سے قبل 7 ہزار اسلحہ کی دکانیں تھیں، جن کی تعداد اب آدھی رہ گئی ہے۔درہ کے مزدور رہنماءبادام اکبر نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہاں تقریباً اسلحہ کی تین ہزار دکانیں بند ہوچکی ہیں، یہاں کے اسلحہ بنانے کے ماہر بے روزگار ہوگئے ہیں اور ان کا رجحان دیگر ذرائع آمدن کی طرف ہوگیا ہے۔

مزید :

پشاور -