’یہ کام کرکے امریکہ نے اعلان جنگ کردیا، اب ہم بھی تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار ہیں‘ بڑے ملک نے انتہائی تشویشناک اعلان کردیا، امریکہ کو پریشان کردیا

’یہ کام کرکے امریکہ نے اعلان جنگ کردیا، اب ہم بھی تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار ...
’یہ کام کرکے امریکہ نے اعلان جنگ کردیا، اب ہم بھی تیسری جنگ عظیم کیلئے تیار ہیں‘ بڑے ملک نے انتہائی تشویشناک اعلان کردیا، امریکہ کو پریشان کردیا

  

پیانگ یانگ(مانیٹرنگ ڈیسک) شمالی کوریاکی طرف سے امریکہ اور جنوبی کوریا سمیت دیگر مخالف ممالک کو دھمکیاں تو ملتی رہتی ہیں مگر اب اس نے ایک ایسا تشویشناک اعلان کر دیا ہے کہ امریکہ کی نیندیں اڑ گئی ہیں۔ برطانوی اخبار ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا کے شعبہ تعلقات امریکہ کے ڈائریکٹرجنرل ہان سونگ ریول نے کہا ہے کہ ”امریکہ ریڈ لائن عبور کر چکا ہے اور اس نے ہمارے حکمران کم جونگ ان پر براہ راست پابندیاں لگا کر ہمارے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔ اب ہم بھی تیسری عالمی جنگ کے لیے تیار ہیں۔امریکہ اور جنوبی کوریا کی ہمارے بارڈر کے قریب مشقیں معمول سے بہت زیادہ تجاوز کر چکی ہے۔ان کے ایسے اقدامات کے باعث تیسری عالمی جنگ کا خدشہ بڑھ گیا ہے اور اب ہم بھی اس کے لیے تیار ہیں۔“

’یہ ایک کام ہر صورت کر گزرو‘ چین نے مسلمانوں سے اپیل کردی

ہان سونگ ریول کا کہنا تھا کہ ”امریکہ اور جنوبی کوریا کی یہ جنگی مشقیں انتہائی اشتعال انگیز ہیں۔مجھے یقین ہے کہ امریکہ اپنے فوجیوں کو سبز بتی دکھارہا ہے اور انہیں شمالی کوریا پر حملے کے لیے تیار کر رہا ہے۔“ انہوں نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ ”امریکہ کم جونگ ان اور شمالی کوریا کی اعلیٰ قیادت کو قتل کرنے کے لیے محدود حملوں کی منصوبہ بندی بھی کرتا رہا ہے۔اس کے علاوہ اس نے جنوبی کوریا میں ایٹمی میزائل نصب کرکے بھی شمالی کوریا کو اشتعال دلایا۔امریکہ کی فوجی بلیک میلنگ،ہم پر دباﺅ ڈالنے اور ہمیں دنیا میں تنہاءکرنے کی کوششیں روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے یہ تمام اقدامات ہمارے خلاف اعلان جنگ ہیں۔ “

انہوں نے کہا کہ ”پہلے ایٹم بم ہم نے نہیں بنایا، امریکہ نے بنایا تھا، امریکہ ہی نے سب سے پہلے ایٹم بم نصب کیا اور اسی نے سب سے پہلے انسانیت کے خلاف اس کا استعمال کیا۔جہاں تک ایٹم بم لیجانے والے میزائلوں اور راکٹوں کی بات ہے تو وہ بھی سب سے پہلے امریکہ ہی نے بنائے اورانسانوں کے خلاف استعمال کیے۔ اب ہم پر دباﺅ ڈال کر اپنے ایٹمی پروگرام سے کیسے باز رکھا جا سکتا ہے۔“

مزید :

بین الاقوامی -