لگتا ہے حکومت ڈاکٹروں کو جرائم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے،سینٹرل انڈکشن پالیسی کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

لگتا ہے حکومت ڈاکٹروں کو جرائم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے،سینٹرل انڈکشن پالیسی ...
لگتا ہے حکومت ڈاکٹروں کو جرائم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے،سینٹرل انڈکشن پالیسی کیس میں ہائی کورٹ کے ریمارکس

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ لگتا ہے حکومت ڈاکٹرز کوبھی جرائم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔محکمہ صحت نے ڈاکٹرز کے آگے دیوار کھڑی کردی ہے جولوگ 2010سے پرائیوٹ ہسپتالوں میں نوکری کررہے ہیں ان کاکیا قصور ہے؟ یہ ریمارکس جسٹس شاہد جمیل نے محکمہ صحت کی سنٹرل انڈکشن پالیسی پر ڈاکٹروں کو اعتماد میں لینے کے احکامات جاری کرتے ہوئے دیئے۔عدالت نے ڈاکٹر اونعمان سمیت دیگر ڈاکٹرز کی درخواستوں پر سماعت شروع کی تودرخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سنٹرل انڈکشن پالیسی کے تحت نجی ہسپتالوں میں جاب کرنے والے ڈاکٹرز پرسرکاری ہسپتالوں میں نوکری کرنے پر پابندی لگادی گئی،حکومت کی یہ پالیسی ڈاکٹرز کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔محکمہ صحت کی جانب سے جواب داخل کرایا گیاجس میں دعوی کیا گیا ہے کہ نئی پالیسی سے ڈاکٹرزکوفائدہ ہوگا۔سنٹرل انڈکشن پالیسی عوام کو بہتر اور بروقت علاج معالجے کی سہولیات دینے کے لئے متعارف کرائی گئی، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ آپ نے ڈاکٹرز کے آگے دیوار کھڑی کردی ہے جولوگ 2010سے پرائیوٹ ہسپتالوں میں نوکری کررہے ہیں ان کاکیا قصور ہے؟ عدالت نے محکمہ صحت کے افسران سے کہا کہ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹرز بھی جرائم کی طرف جائیں۔عدالت نے فریقین کے دلائل کے بعد سیکرٹری صحت کو ڈاکٹرز کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کا حل نکانے کا حکم دیا اور درخواست پر مزید سماعت 4اگست تک ملتوی کردی ہے۔

مزید :

لاہور -