مسئلہ کشمیر پر منقعدہ ’’آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ کا مشترکہ اعلامیہ جاری ،کر دیا گیا

مسئلہ کشمیر پر منقعدہ ’’آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ کا مشترکہ اعلامیہ جاری ،کر ...
مسئلہ کشمیر پر منقعدہ ’’آل پارٹیز کانفرنس ‘‘ کا مشترکہ اعلامیہ جاری ،کر دیا گیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جماعت اسلامی کے زیراہتمام منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں متفقہ طور پر منظور کیے گئے مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیاہے کہ آل پارٹیز کانفرنس، مقبوضہ جموں وکشمیر کے طول وعرض میں بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خلاف اور اپنے مسلمہ حق خودارادیت کے حصول کے لیے جدوجہد میں مصروف عوام اور قائدین کو ان کی استقامت پر سلام پیش کرتی ہے، راہ حق میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے سرفروشوں کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہے اور شہداء، زخمیوں اور محبوسین کے گھرانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔

 کانفرنس کشمیری عوام کو ریاست پاکستان کی طرف سے یقین دلاتی ہے کہ وہ ان کی مبنی برحق جدوجہد میں ان کے ساتھ ہے اور اس امر کا اعلان کرتی ہے کہ کشمیر ہماری ترجیح اول ہے اور اسی لیے مسئلہ کشمیر پر حمایت یامخالفت اقوام عالم کے ساتھ ہماری دوستی اور دشمنی کا ایک پیمانہ ہے۔ ہم یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل ہے۔ یہ دوطرفہ مذاکرات کا موضوع نہیں بلکہ اقوام متحدہ اپنی قرارداد نمبر 47مجریہ 1948ءکے تحت کشمیر میں رائے شماری کی پابند ہے۔

 کانفرنس کے نزدیک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جموں وکشمیر میں رائے شماری سے متعلق قراردادوں کے نفاذ اور بھارت کے اس سلسلے میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے کشمیری عوام کی جائز جدوجہد کو بھارت کی جانب سے علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کانام دینا ریاستی دہشت گردی سے اقوام عالم کی توجہ ہٹانے کی ایک مذموم بھارتی کوشش ہے جس کاجارحانہ سفارت کاری کے ذریعے پردہ چاک کرنا وقت کا اہم ترین تقاضا ہے۔

 کانفرنس قابض فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کے استعمال کی مذمت کرتی ہے۔ اس ہتھیار نے کشمیری نوجوانوں، بچوں اور بچیوں کو بینائی سے محروم اور ہزاروں کوزخمی کر دیا ہے۔ بھارت کا مسلسل کرفیوں کے ذریعے کشمیری عوام کو مستقل عذاب میں مبتلارکھنا، اخبارات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پرپابندی عائد کرکے دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بے خبر رکھ کر ظلم وستم کے پہاڑ توڑنا ایسے گھناﺅنے جرائم ہیں جن کی بنیاد پر بھارت کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سلسلے میں ٹھوس اور ضروری اقدامات کرے۔ ہم بھارتی مظالم کی تصاویر کو فیس بک سے ہٹادینے کے اقدام کو فیس بک انتظامیہ کی جانبداری قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ فیس بک اپنے دوہرے معیار اور جانبدارانہ رویے کو فوری طور پر ختم کرے۔

 کانفرنس بھارتی وزیر خارجہ سُشماسوراج کے جموں وکشمیر سے متعلق بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کرتی ہے کہ ریاست بھارت کاحصہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے جس کے مستقبل کا فیصلہ اسی ریاستی عوام کو کرنا ہے۔

 کانفرنس پاکستانی حکومت،فوج ، سیاسی ومذہبی جماعتوں،میڈیا اور سول سوسائٹی کی طر ف سے مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ کیے گئے یکجہتی کے اظہار کی تحسین کرتے ہوئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے اور جموں وکشمیر کی موجودہ صورت حال پر بحث اور متفقہ قرارداد کے ذریعے مقبوضہ خطے کے عوام کو ایک مثبت پیغام بھیجنے کی ضرورت کا احسا س دلاتی ہے۔

 کانفرنس مسئلہ کشمیر کے پائیداراور منصفانہ حل کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کو بنیادی فریم ورک سمجھتی ہے اور ہر مسلط کردہ حل کو مستردکرتے ہوئے صرف اس حل پر اصرار کرتی ہے جو کشمیری عوام کو قابل قبول ہو۔

 کانفرنس OIC سیکرٹری جنرل کے کشمیر سے متعلق بیان کا خیرمقدم کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ مقبوضہ خطے میں انسانی حقوق کی پامالی اور کرفیو سے پیداشدہ صورت حال (غذائی اجناس کی قلت اور جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی) سے نمٹنے کے لیے OIC کاہنگامی اجلاس بلایاجائے۔

 ہم جماعتِ اسلامی پنجاب کی طرف سے 31 جولائی 2016ءکو ناصر باغ سے واہگہ تک کشمیر مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہیں، اور اس مارچ میں اپنے کارکنوں سمیت بھرپور شرکت کا یقین دلاتے ہیں

مزید :

قومی -