مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟چیف جسٹس نے منصفوں کو حشر اٹھانے کی تلقین کردی

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟چیف جسٹس نے منصفوں کو حشر اٹھانے کی تلقین ...
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے؟چیف جسٹس نے منصفوں کو حشر اٹھانے کی تلقین کردی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ججز اللہ کو حاضر و ناظر جان کر میرٹ کے مطابق فیصلے کریں، پروفیشنلزم کو اپنائیں۔بس تھوڑا سا صبر کرلیں سسٹم کو درست کرکے دم لیں گے،پروفیشنلزم کو اختیار کرنے والے ججوں کے پیچھے چٹان کی مانند کھڑا ہوں، سائلین کو ریلیف دینا اور ضلعی عدالتوں کو فعال بنانا اولین ترجیح ہے۔ چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہارپہلے جوڈیشل آئی ٹی فیئر کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مسٹر جسٹس انوارالحق، مسٹر جسٹس سردار محمد شمیم احمد خان، مسٹرجسٹس کاظم رضا شمسی، مسٹر جسٹس محمود مقبول باجوہ اور مسز جسٹس عائشہ اے ملک سمیت دیگر فاضل ججز، وائس چیئرمین پنجاب بار کونسل چوہدری محمد حسین اور چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ ڈاکٹر عمر سیف بھی موجود تھے۔ قبل ازیں سینئر ترین جج شاہد حمید ڈار نے جسٹس فرخ عرفان خان اور جسٹس عائشہ اے ملک کے ہمراہ آئی ٹی فیئر کا افتتاح کیا اور تمام سٹالز کا دورہ کیا۔چیف جسٹس نے اپنے خطاب کا آغاز مشہور شعر " مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے،منصف اگر ہوتو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے" سے کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ضلعی عدلیہ نے ای جوڈیشری کی بنیاد رکھ دی ہے، ٹیکنالوجی سے ضلعی عدلیہ میں انقلاب آ جائے گا اور ہم اپنی آئندہ نسلوں کو بہترین سسٹم دے کر جائیں گے، ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ضلعی عدلیہ میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے اتنا ٹیلنٹ موجود ہے، جو چیزیں ہم نے ابھی بس سوچی تھیں، ضلعی عدلیہ نے آج ہمیں کر کے دکھا دی ہیں، ویڈیو لنک اور ای کورٹس کا آغاذ عدلیہ میں انقلابی تبدیلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بغیر ضلعی عدلیہ کا مستقبل تاریک ہے۔چیف جسٹس نے کامیاب آئی ٹی فیئر کے انعقاد پر جسٹس عائشہ اے ملک، ڈی جی اکیڈمی عظمیٰ اختر چغتائی اور لاہور ہائی کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی عبدالناصرکے کردار کو سراہا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پورے صوبے کی عدلیہ کیلئے انٹرپرائز لیول آئی ٹی سسٹم بنایا جارہا ہے، مشہور آئی ٹی کمپنیاں ٹیکنالوجکس اور سپیریڈین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کررہی ہیں اور سسٹم کا پائلٹ پروجیکٹ رواں دسمبر سے پہلے کام شروع کر دے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سارا میلہ صرف سائلین کی سہولیات کیلئے لگایا گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کئے بغیر ضلعی عدلیہ میں زیر التوائتیرہ لاکھ مقدمات کو نمٹانا نا ممکن ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت جلد انصاف کی فراہمی، نظام میں شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ممکن ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ مقدمات کو مختلف درجات میں تقسیم کر کے کیس مینجمنٹ پلان کے تحت بنچ بنائے جائیں گے تاکہ جس درجات میں مقدما ت کی تعداد زیادہ ہے اس میں زیادہ ججز کام کریں اور مقدمات کے جلد از جلد فیصلے ہو سکیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سائلین کو انکے مقدمات سے متعلق معلومات انکی دہلیز پر مہیا کر رہے ہیں، جس کے لئے ہیلپ لائن 1134، سہولت سنٹرز کا قیام، لاہورہائیکورٹ موبائل ایپلیکیشن کی لانچنگ اور جدید سہولیات سے آراستہ ہائی کورٹ کی ویب سائٹ صرف اور صرف سائلین کی سہولت کیلئے ہے۔ چیف جسٹس نے سرگودھا سیشن کورٹ کی جانب سے ہیلپ لائن نمبر1048 کے اجراکو بھی سراہا اور فون کال کر کے اس کا افتتاح کیا اور کہا کہ بہت جلد پورے پنجاب میں سہولت سنٹرزقائم کئے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری اولین ترجیح ضلعی عدلیہ کو مضبوط اور فعال بنانا ہے، ہم نے اگرپنجاب کی عدلیہ کو نمبر ایک عدلیہ بنانا ہے تو پرفیشنلز م کو پروموٹ کرنا ہوگا، وکلائرہنما بھی تعاون کریں اور پروفیشنل وکلائکو آگے لائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس سسٹم کے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنا ہے، سسٹم کو ڈسٹرب کر کے یا ہڑتالیں کر کے اس نظام کو بہتر نہیں کیا جا سکتا۔ ہمارے دماغ میں صرف یہ خیال ہونا چاہیے کہ ہم عام آدمی کو ریلیف دینے کیلئے کیا اقدامات اٹھانے ہیں۔ چیف جسٹس نے آئی ٹی فیئر میں سٹالز لگانے والے 36اضلاع کی سیشن عدالتوں، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی، محکمہ پولیس، محکمہ پراسیکیوشن، محکمہ جیل سمیت دیگر کمپنیوں کے فوکل پرسنز کو سرٹیفیکیٹس اور شیلڈز بھی دیں۔

مزید :

لاہور -