کیاہیلری کلنٹن نے امریکی ووٹرز تک اپنا پیغام پہنچا دیا؟ ڈیموکریٹک کنونشن میں ہیلری کی تقریر انتخابات پر کتنی اثر انداز ہو گی ؟امریکی ووٹرز کیا سوچ رہے ہیں؟امریکہ سے عمر شامی کا تجزیہ‎

کیاہیلری کلنٹن نے امریکی ووٹرز تک اپنا پیغام پہنچا دیا؟ ڈیموکریٹک کنونشن ...
کیاہیلری کلنٹن نے امریکی ووٹرز تک اپنا پیغام پہنچا دیا؟ ڈیموکریٹک کنونشن میں ہیلری کی تقریر انتخابات پر کتنی اثر انداز ہو گی ؟امریکی ووٹرز کیا سوچ رہے ہیں؟امریکہ سے عمر شامی کا تجزیہ‎

  

فلاڈیلفیا (عمر شامی سے) ڈیموکریٹک کنونشن کا اختتام گزشتہ روز ہیلری کلنٹن کی زوردار تقریر کے ساتھ ہوگیا۔ اس کو ان کے سیاسی کیریئر کی سب سے اہم تقریر قرار دیا جارہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی اٹھان کو مات دینے کے لئے ہیلری کو اپنا مقدمہ زورار انداز میں لڑنا ضروری تھا۔ اپنی ایک گھنٹے سے زائد کی تقریر میں انہوں نے ٹرمپ کو آڑے ہاتھوں لیا، ٹرمپ کے سیاسی فلسفے کو امریکی معاشرے میں نفرت اور تقسیم بڑھانے کا سبب قرار دیا۔ اقلیتوں، عورتوں، مسلمانوں اور معذوروں کے بارے میں ہتک آمیز رویہ اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے انداز سیاست کو بچگانہ اور ناپختہ قرار دیا اور کہا کہ ایسے شخص کو جسے چھوٹی سی بات پر مشتعل کیا جاسکتا ہو اور کسی کے ذرا سے چھیڑنے پر بھڑک اٹھے، امریکہ کا صدر بناکر نیوکلیئر ہتھیاروں پر اختیار کیسے دیا جاسکتا ہے؟

ہیلری کلنٹن گزشتہ کچھ عرصے سے امریکی ووٹرز تک اپنا پیغام مطلوبہ شدت سے پہنچانے میں کامیاب نہیں تھیں۔ زیادہ تر لوگ ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی فلسفے کو پسند نہ کرنے کے باوجود بھی کم از کم انہیں تبدیلی کا نمائندہ سمجھنا شروع ہوگئے تھے۔ ہیلری کلنٹن کو اس جمود کو توڑنا ضروری تھا۔ ان میں تقریر کا وہ جوہر تو موجود نہیں جو صدر اوباما یا ان کے شوہر بل کلنٹن کے پاس ہے لیکن گزشتہ رات انہوں نے اپنی بات عمدگی اور مہارت سے کی۔ ان کا الفاظ کا چناﺅ نپاتلا اور لہجہ زوردار تھا۔ انہوں نے ان تمام سیاسی موضوعات کا احاطہ کیا جو امریکی ووٹر کے لئے اہم ہیں۔ معیشت میں نئی روح پھونکنے، عام آدمی کی آمدنی میں اضافے، کام کے نئے مواقع پیدا کرنے سے لے کر نوجوان طالب علموں کے لئے کالج ٹیوشن فیس میں کمی تک، داخلی امن وامان یقینی بنانے سے لے کر بین الاقوامی دہشت گردی خصوصاً ISIS کے مقابلے اور خاتمے تک عالمی ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے جامع حکمت عملی بنانے سے لے کر صاف توانائی کے نئے منصوبے بنانے اور لگانے تک۔ انہوں نے خصوصاً اس سفید فام ورکنگ کلاس طبقے کو بھی متوجہ کرنے کی کوشش کی جسے ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کا منبع قرار دیا جارہا ہے۔ ”مجھے پتا ہے آپ لوگ غصے میں ہیں، پریشان ہیں، حالات کو ایسے نہیں ہونا چاہیے جیسے ہیں لیکن ہم امیر ترین لوگوں اور اداروں کی جیبوں سے پیسے نکال کر آپ پر خرچ کریں گے، آپ کے لئے نوکریاں پیدا کریں گے۔“

انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں اس تاثر کو یکسر غلط قرار دیا کہ وہ کاروباری ہونے کی وجہ سے معیشت کو بڑھاوا دینے کی زیادہ صلاحیت رکھتے ہیں۔ ”انہوں نے پیسہ چھوٹے چھوٹے کاروباری افراد کا بیڑہ غرق کرکے بنایا ہے وہ کیسے ان کے مفاد کا سوچ سکتے ہیں۔“

ہیلری کلنٹن کی تقریر کے بعد آنے والے CNN پول نے ڈیمو کریٹک کیمپ میں زندگی کی ایک نئی لہر ضرور دوڑادی ہے۔ پولز کے مطابق تقریر سننے والے افراد میں سے 80 فیصد نے پسندیدگی کا اظہار کیا اور امریکہ کے مستقبل کے لئے دئیے وژن کو سراہا۔ چار روز ڈیموکریٹک کنونشن یقینا ریپبلکن کنونشن کے مقابلے میں بہت منفرد تھا۔ ایک دن پہلے اس کنونشن سے صدر اوباما نے بھی ایک نہایت زوردار خطاب کیا تھا۔ انہیں مبصرین ایسا مقرر قرار دیتے ہیں جو اپنی بات لوگوں کے دلوں میں اتارنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ صدر اوباما اس لحاظ سے بھی منفرد حیثیت رکھ رہے ہیں کہ وہ ایک غیر مقبول صدر نہیں۔ ان کی ریٹنگ اس وقت بھی 50 فیصد سے کچھ اوپر ہے جو عموماً صدور کی دوسری ٹرم کے خاتمے کے وقت دیکھنے میں نہیں آتی۔ انہوں نے اپنا پورا وزن ہیلری کلنٹن کے پلڑے میں ڈال دیا ہے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جس قسم کا امریکہ بنانا چاہتے ہیں وہ انہیں قبول نہیں۔ جس امریکہ کا خواب وہ دیکھتے ہیں وہاں ہر رنگ، نسل، قومیت اور مذہب کا فرد امریکن خواب کا حصہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے ہیلری کلنٹن کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک کو جس کمانڈر انچیف کی ضرورت ہے وہ صرف ہیلری کلنٹن ہیں۔ ان کی تقریر کے اختتام پر ہیلری کلنٹن بھی سٹیج پر آگئیں اور جذبات میں صدر اوباما سے بغلگیر ہوگئیں۔ وہ تصویر کیمرے کی آنکھ نے دنیا کے کونے کونے میں پہنچادی۔ کہا جارہا ہے کہ یہ تصویر 2016ءکی سب سے زیادہ شیئر کی جانے والی تصویر بن گئی ہے۔

ڈیموکریٹک کنونشن امریکی معاشرے میں جس اتحاد، یگانگت اور بھائی چارے کا پیغام دے رہا تھا اس کا عملی مظاہرہ ایک امریکی مسلمان فوجی کے والد کی کنونشن سے تقریر میں نظر آیا۔ کیپٹن ہمایوں خان عراق کی جنگ میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔پاکستانی نژادامریکی شہری خضر خان نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کو بڑے جذباتی انداز میں آڑے ہاتھوں لیا۔ ”ڈونلڈ ٹرمپ تم جو اٹھتے بیٹھتے امریکی مسلمانوں کو ہدف تنقید بناتے ہو، مجھے بتاﺅ کہ کیا تم نے امریکی آئین پڑھا ہے؟ تم نے اس ملک کے لئے کیا قربان کیا ہے؟ فوجیوں کے قبرستان جاﺅ تو تمہیں ہر نسل، مذہب اور قومیت کے لوگوں کی قبریں نظر آئیں گی، جو اس ملک کے لئے اپنی جانیں قربان کرچکے ہیں۔“

امریکی میڈیا اس تقریر کو ڈیموکریٹک کنونشن سے آنے والا سب سے جاندار پیغام قرار دے رہا ہے۔ دیکھنا اب یہ ہے جس اتحاد کا پیغام اس کنونشن نے دیا ہے، امریکی ووٹرز پر وہ کتنا اثر انداز ہوتا ہے۔

یہ بات بہرحال واضح ہے کہ امریکہ میں رہنے والی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے لئے ڈیموکریٹک پارٹی ایک نئی امید کی علمبردار بن کرابھری ہے۔

مزید :

تجزیہ -اہم خبریں -