قاتل

قاتل
 قاتل

  

میں شہر لا ہور کی سب سے بڑی جیل میں تھا، میرے اطراف میں مسجد سے جوتے چوری کر نے والے سے لے کر انسانوں کو قتل کر نے والے قیدی بکھرے ہو ئے تھے اور میں انہیں اِس نظر سے دیکھ رہا تھا کہ کس طرح یہ جرم کر تے ہیں، تمام جرائم تو کسی حد تک ہضم ہو جاتے ہیں، لیکن کسی زندہ انسان کو مو ت کے گھاٹ اتار دینا یہ عمل ہر لحاظ سے نا قابل قبول ہے، کسی کو قتل کر دینا اُس سے اُس کی زندگی چھین لینا یہ میرے اور سب کے لئے نا قابل قبول ہے، لیکن ہر روز ٹی وی چینل اور اخبارات قتل کی ہو لناک خبروں سے بھرے نظر آتے ہیں، ہم الحمدللہ مسلم ملک میں رہتے ہیں، ہمیں بچپن سے بتا یا جاتا ہے کہ ایک انسان کو قتل کرنا پو ری انسانیت کو قتل کر نے کے برابر ہے دنیا کے ہر معاشرے کی اخلا قیا ت میں جرم اور قتل کو نا پسندیدہ ترین عمل قرار دیا جاتا ہے، لیکن پھر بھی انسان یا قاتل کی زندگی میں ایسا کو ن سا لمحہ آجاتا ہے کہ وہ کسی کی جان لے لیتا ہے، یہ سوال میری طرح ہر انسان کو تنگ کر تا ہے، اِسی سوال کے جواب کے لئے اب میں نے سپرنٹنڈنٹ صاحب سے درخواست کی کہ اب میں قاتلوں کو دیکھنا چاہتا ہوں، ان کے بار ے میں جاننا چاہتا ہوں کہ وہ قتل کر نے کے بعد پچھتا تے ہیں یا اپنے عمل پر مطمئن اور خوش رہتے ہیں تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے میری طرف مسکرا کر دیکھتے ہوئے کہا کہ جنا ب زیا دہ تر قاتل قتل کر نے کے بعد مطمئن اور خوش ہی رہتے ہیں کہ ہم نے قتل کر کے ٹھیک کیا۔

مجھے سپرنٹنڈنٹ صاحب کی یہ با ت ہضم نہ ہو ئی میں نے کسی خوش اورمطمئن قاتل سے ملنے کی خوا ہش کا اظہا ر کیا کہ میں اپنی آنکھوں سے یہ مشا ہدہ کر نا چاہتا ہوں کہ کسی دوسرے کی جان لے کر کسی کی سانسیں چھین کر بھی کوئی کس طرح خو ش رہ سکتا ہے تو سپرنٹنڈنٹ صاحب نے اپنے عملے سے کہا کہ فلاں قیدی کو لے آؤ ساتھ ہی میری طرف دیکھ کر کہا، جناب زیا دہ تر قتل مجبو ری میں کئے جاتے ہیں، جب کسی کو مجبو ر کر دیا جاتا ہے کہ وہ قا تل بنے ‘میں حیرت سے اُن کی با تیں سن رہا تھا کہ انسان جو کسی کیڑے مکو ڑے یا پرندے کو بھی ما رنے سے گریز کر تا ہے آخر انسان کو قتل کر نے پر کیوں تیا ر ہو جاتا ہے، اِسی دوران ایک قاتل قیدی کو میرے سامنے لا کر بیٹھا دیا گیا، قیدی کی عمر 25سال کے لگ بھگ تھی، اُس نے چھو ٹی چھو ٹی دا ڑھی رکھی ہو ئی تھی بالکل بھی نہیں لگ رہاتھا کہ یہ چار زندہ انسانوں کو گا جر مولی کی طرح کا ٹ کر آیا ہے، ابتدائی سلام دعا کے بعد میں نے اپنی حیرت کا اظہا ر قیدی سے کیا کہ تم نے آخر کیسے زندہ انسانوں سے اُن کی زندگیاں چھین لیں تو وہ میری طرف دیکھ کر مسکرایا سر میری جگہ کو ئی بھی ہو تا تو وہ یقیناًیہی عمل کر تا ۔

سر میرا تعلق معا شرے کے غریب اور پسما ندہ طبقے سے ہے، جس کو مزارع کمی کمین کہا جاتا ہے، ہم نسل در نسل و ڈیروں کی غلا می میں جی رہے تھے، ہمیں انسان نہیں جا نور سمجھا جا تا ہے، میرے گھر میں علم کی شمع روشن ہو ئی، میں نے کسی نہ کسی طرح گریجوایشن کر لی علم کے نو ر سے مجھے انسان ہو نے کا احساس ہوا کہ میں بھی آزاد اسلامی ملک کا شہر ی ہو ں، جس کو سر اٹھا کر جینے کا پورا حق ہے اور یہی میری غلطی تھی میں نے ٹیو شن پڑھا کر غلا می کی زنجیریں تو ڑنی چاہیں، کیو نکہ میں حلال کی کمائی کے لئے ٹیو شن پڑھا تا تھا، اِس لئے گا ؤں کے زمیندار کی بیٹی کوبھی پڑھاتا تھا، میری قسمت بری کہ زمیندار کی بیٹی میری محبت میں گرفتار ہو گئی مجھے اپنی اوقات کا اچھی طرح احساس تھا، کہ صدیوں کی غلا می رگوں میں خو ن کی جگہ دوڑ رہی ہے اور ہما را پاکستانی معا شرہ ابھی اِس قابل نہیں ہوا کہ ذات پا ت کی دیوار چین کو گرا سکے، میں نے فوری طو رپر اُس کو ٹیو شن پڑھا نا بند کر دی میرے اِس عمل سے لڑکی مجھ سے دور نہ ہو ئی، بلکہ وہ میرے عشق کے جنون میں اندھی ہو گئی۔

اب اُس نے میرا تعا قب کر نا شروع کر دیا، مجھے پیغامات بھیجنے شروع کر دئیے جب وہ اِس میں کا میاب نہ ہوئی تو زبر دستی میرے گھر آنا شروع کرد یا اور بر ملا میرے ساتھ عشق کا اظہا ر کر نا شروع کر دیا میں اُس سے جتنا بھا گ رہا تھا، اُس کے پا گل پن میں اتنا ہی اضا فہ ہو تا جارہاتھا، جب وہ میرے ہزار با ر روکنے پر بھی با ز نہ آئی تو میں نے اُس سے مل کر اُس کو سمجھا نا چاہا، میں نے گا ؤں کے با ہر جگہ پر اُس کو بلا یا تا کہ اُس کو سمجھا سکوں کیو نکہ وہ پاگلوں کی طرح میری کھو ج میں تھی، فوری مقررہ جگہ پر آگئی، میں نے اُس کو سمجھا نے کی بہت کو شش کی، لیکن اُس کے سر پر جو عشق کا بھو ت سوا ر تھا ،وہ نہ اُتراوہ اپنی ضد پر قائم تھی، لیکن میں نے صاف انکا رکر دیا اور وہا ں سے چلا آیا، لیکن ہم دونوں کو وہا ں اکٹھے بیٹھے کسی نے دیکھ لیا، اُس نے جا کر زمیندار کو بتا یا کہ تمہا ری بیٹی سر عام کمی کے بیٹے سے ملتی ہے لڑکی کو بہت ما را گیا تو اُس نے میرے عشق کا اقرار کر لیا بلکہ بضد ہوئی کہ میں اُس کے ساتھ بھا گ جا ؤں گی، اُس کو کبھی نہیں چھو ڑوں گی لڑکی نے یہ بھی بتا یا کہ اِس میں اُس کا کو ئی قصور نہیں یہ یکطرفہ عشق ہے اب زمیندار نے سازش تیا ر کی چند دنوں میں ہی اپنی بیٹی کی شادی ملک کے دور دراز علاقے میں کر دی اب اُس نے اپنی سازش پر عمل کر نے کا ارادہ کیا مجھے اپنے ڈیرے پر بلا یا اور اپنے بد معاش نو کر وں کے حوا لے کر دیا، انہوں نے مار مار کر میری حالت بگاڑ دی۔ اب میری سزا کا اعلان ہوا کہ آج رات ہی گاؤں چھو ڑ کر بھا گ جاؤں اس ساری کار روائی کا انچارج زمیندار کا اوبا ش بیٹا اور اُس کے عیاش دوست تھے، میرے کپڑے اتا ر کر میرے جسم کو جگہ جگہ سے داغا گیا اور پھر مجھے رسیوں سے با ندھا گیا میرے اوپر پیشاب کیا گیا، ڈنڈوں سے مارا گیا ڈنڈوں پر کپڑا با ند ھ کر آگ لگا کر میرے جسم کو جلا یا گیا۔

جب اُن کا ظلم حد سے بڑھ گیا تو میں نے ظلم کی وجہ پو چھی تو کہا گیا تم نے میری بہن کو غلط نظر سے دیکھا ہے میں نے احتجاج کیا کہ میں نے کچھ نہیں کیا وہ میرے پیچھے پڑی ہوئی تھی، اِس با ت پر وہ آگ بگو لا ہو گیا گو لیاں مار کر مارنے پر تیا ر ہو گیا تو اُس کے دوست نے کہا اِس طرح تو یہ مر جائے گا، اِس نے جو بکواس کی ہے، اِس کی سزا زیا دہ ہے جو جلدی اِس کو دے دی جا ئے گی، اُس نے کان میں کچھ کہا اور پھر مجھے چھو ڑ دیا گیا میں زخموں سے چور واپس گھر آگیا کہ میر ی سزا کا باب ختم ہو گیا، لیکن اصل سزاتو رات کو شروع ہوئی، جب آدھی رات کے بعد زمیندار کا بیٹا اپنے تین اوباش دوستوں کے ساتھ میرے گھر پر آیا مجھے اور میرے باپ کو رسیوں سے باندھ کر میرے سامنے میری بہن کی آبرور یزی کر تے رہے، میرے بو ڑھے باپ نے رو رو کر ترلے ڈالے، منتیں کیں، میری بوڑھی ماں کتوں کے قدموں سے لپٹی، لیکن وحشی درندوں کو رحم نہ آیا، ظلم و جبر وحشت کا شیطانی عمل کرکے میری بہن کو نیم مردہ حالت میں میرے منہ پر تھوک کرچلے گئے، جاتے جاتے یہ حکم دے گئے کہ رات کے اندھیرے میں نکل جاؤ ورنہ کل رات پھر یہی عمل دہرایا جائے گا اور پھر رات اندھیرے میں ہم زندہ لاشیں، اُس گاؤں سے نکل آئے،کیا عدالت کیا وکیل یہ سب زمیندار کے غلام تھے، پیسہ میرے پاس نہ تھا میں گھٹ گھٹ کر مر رہا تھا، میری سانسیں روز بہن کو دیکھ کر گھٹتی تھیں، جب کرب میری برداشت سے باہر ہوا تو میں اشتہاری مجرموں کے گروپ میں شامل ہوگیا، انہوں نے میرا دکھ سنا تو بدلے کا فیصلہ کیا اُن چاروں کو جال میں پھنسانے کا فیصلہ کیا، ایک زمیندار جو اشتہاریوں کا دوست تھا، اُس کے اڈے پر اُن کو مُجرے کے لئے بلایا گیا۔ وہاں راستے میں اُن کو اغوا کر کے اُن کے ساتھ وہی عمل دہرایا گیا، جو انہوں نے میرے ساتھ کیا تھا، پھر اُن کے سینوں میں گولیاں اتار کر میں نے سکون کا سانس لیا، خودکو پولیس کے حوالے کر دیا اُس دن سے آج تک میں سکون کی نیند سوتا ہوں، مجھے اپنے کئے پر کوئی ندامت نہیں ہے، اب میں کمی نہیں غیرت مند بیٹا بھائی ہوں۔ اب علاقے میں میری شہرت کے ڈنکے بجتے ہیں، اب لوگ میرے نام سے کانپتے ہیں، اگر ملک میں تھانہ عدالت انصاف پر قائم ہو جائیں تو کبھی کوئی جرم نہ کر ے، جب تک تھانے عدالتیں بااثر لوگوں کی لونڈیاں ہیں، اُس وقت تک ہر روز میرے جیسے قاتل قانون کو ہا تھ میں لیتے رہیں گے۔

مزید :

کالم -