دختران بلوچستان تعلیم کے لئے بے تاب

دختران بلوچستان تعلیم کے لئے بے تاب
دختران بلوچستان تعلیم کے لئے بے تاب

  

پاکستان کے قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ بلوچستان خواتین اور بچیوں کو قبائلی پابندیوں سمیت متعدد سماجی مشکلات کا سامنا ہے جن میں سے چند ایک کم عمری میں شادی اور حصول تعلیم سے دوری ہیں۔ بلوچستان میں صرف چند ہزار بچیاں دسویں جماعت تک پہنچ پاتی ہے جبکہ ہائی سکول کالج اور یونیورسٹی تک گنی چنی بچیاں ہی پہنچتی ہیں۔بلوچستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے ساتھ اگر صلاحیتوں میں نکھار پیدا کرنے اور پیشہ وارانہ مہارت سکھانے پر اب تک توجہ نہیں دی گئی تو اس نقصان کی تلافی مستقبل میں نہیں ہو پائے گی۔ بلوچستان حکومت نے لڑکیوں میں شرح تعلیم بہتر بنانے کی کوشش کے طور پر صوبے کے تمام پرائمری اسکولوں میں مخلوط طرز تعلیم شروع کرنے کا فیصلہ کر لیاتھا جو ناکامی کی طرف جا رہا ہے ۔

بلوچستان میں کل سکول دس ہزار سات سو اٹھاسی ہیں جن میں پندرہ سو سکولوں کا پتہ ہی نہیں چل رہا ہے جو باعث عبرت ہے ۔ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد بلوچستان کے پاس ایک بہت ہی بڑا موقع تھا کہ وہ اپنا تعلیمی پلان ایمرجنسی میں بناتا مگر افسوس کہ مسلسل پانچ سالوں سے بلوچستان میں تعلیمی ایمرجنسی کا صرف نام چل رہا ہے۔

بلوچستان حکومت کو چاہیے کہ قومی سطح پر جو قوانین، آرڈیننس، پلان اور جو پالیسیاں بنائی گئیں ۔ غربت کے باعث لوگ اپنی بچیوں کو دور دراز علاقوں میں بھیجنے کی استطاعت نہیں رکھتے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ صوبے کے دیہاتوں میں پرائمری اور مڈل سطح کے اسکول قائم کرنے کے لیے صوبائی حکومت کی معاونت کی جائے۔

بلوچستان میں تعلیم کی بہت زیادہ خواہش پائی جاتی ہے۔ پہاڑوں پر رہنے والے بھی تعلیمی اور صحت کے سہولیات مانگتے ہیں۔ یہ بنیادی انسانی حقوق کا بھی حصہ ہے۔ اب ہر بلوچی چاہتاہے کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں۔ اگر بلوچستان کا موازنہ دوسرے صوبوں سے کیا جائے تو یہاں چیلنجز مختلف ہیں ۔یہاں پر آ بادی کم اور دور دراز کے علاقوں پر پھیلی ہوئی آبادی ہے۔ ان سارے علاقوں تک پہنچنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے

ایک پرائمری سکول کے ماسٹر جی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں خواتین کا تناسب 51 فیصد سے زیادہ ہے۔خاص طور پر بلوچستان میں بچیوں کے لئے ہمیں مڈل اسکولز کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم پرائمری اور مڈل کے درمیان دیکھیں تو وہ ہر دس سے بارہ اسکولوں کے اوپر آپ کو ایک مڈل اسکول نظر آئے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسکول ایک پرائمری اسکول سے 30 یا پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر بھی ہو سکتا ہے ہماری تو بہت ساری ایسی تحصیلیں ہیں جہاں پر کوئی مڈل اسکول گرلز موجود نہیں ہے۔ملک کو ترقی دینی ،گوادر آباد اور محفوظ کرنا ہے تو بلوچ بچیوں پرجگہ جگہ تعلیم کے دروازے کھولنے ہوں گے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -