عرفان صدیقی کے بعد اب قانون کرایہ داری کے تحت مزید لوگ بھی گرفتار ہوں گے؟

عرفان صدیقی کے بعد اب قانون کرایہ داری کے تحت مزید لوگ بھی گرفتار ہوں گے؟

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

اپنے اس عجز کا ابتدا ہی سے اعتراف کرتا ہوں کہ میرے علم میں آج تک کوئی ایک بھی شخص ایسا نہیں آیا جس نے کبھی قانون کرایہ داری کی مخالفت کی ہو۔ پہلی بار اگر کوئی شخص اس جرم کا ارتکاب کرتا ہوا پایا گیا تو یہ بزرگ پروفیسر اور ممتاز کالم نگار عرفان صدیقی ہے۔ اگرچہ ان کا یہ موقف بھی سامنے آیا ہے کہ جو مکان کرائے پر دیا گیا ہے وہ ان کے بیٹے کی ملکیت ہے۔ تاہم قصوروار انہیں ہی گردانا گیا کہ مکان بھلے ان کا نہیں تھا، بیٹا تو انہی کا ہے اس لئے وہ اس جرم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس قانون کی بنیادی بات یہ ہے کہ جو کوئی مالک مکان کسی کو کرائے پر مکان دے وہ اس کے بارے میں پولیس کو اطلاع کرے۔ عموماً لوگ اس بارے میں کوتاہی برتتے ہیں لیکن کبھی سنا نہیں کہ کسی کو اس قانون کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا ہو اور گرفتار کرکے 14دن کے لئے جیل بھی بھیج دیا گیا ہو۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہوتا ہے کہ پولیس کے علم میں آئے تو وہ خود کرائے دار کے کوائف حاصل کرلیتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو بھی کوئی نہ کوئی راستہ بہرحال نکال لیا جاتا ہے، گرفتاری کی نوبت نہیں آتی اور اگر آئے تو سمجھئے وجہ کچھ اور ہے، اس قانون کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ بنیادی طور پر اس کا مقصد یہ تھا کہ لوگ مشکوک افراد کو مکان کرائے پر نہ دیں، لیکن اس کے باوجود اس قانون پر کبھی اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا۔ اگر ہوا تو اس کی زد میں ایک شریف النفس آدمی آگیا جس کی سیاست اور سیاسی نظریات سے اختلاف کرنے والے تو بہت ہوں گے لیکن ایسا شاید ہی کوئی ہو جو اسے ہتھکڑیوں میں دیکھ کر خوش ہوا ہو اور چونکہ وہ اپنی ایک پختہ سیاسی رائے بھی رکھتا ہے اور اتفاق سے یہ رائے نواز شریف کی رائے سے مل جاتی ہے اور نواز شریف کی حکومت میں وہ ان کے مشیر کے منصب پر بھی فائز تھا۔ اس لئے سیاسی نظریات کی اس ہم آہنگی کی سزا اگر چودہ روزہ ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی شکل میں ملی تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ ظاہر ہے قانون کرایہ داری میں اس کی گنجائش ہوگی تبھی تو انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا، حالانکہ اس معاملے کا ایک آسان حل بھی تھا اور اس سے قانون کا کچھ زیادہ بگڑتا بھی نہیں تھا کہ کرائے دار کے بارے میں مطلوبہ معلومات پولیس کو دے دی جاتیں اور معاملہ ختم کر دیا جاتا۔ اب اگر ایک مثال قائم ہوگئی ہے تو ضروری ہے کہ فوری طور پر ایک سروے کیا جائے جس کے ذریعے یہ معلوم کیا جائے کہ کتنے مالکان مکانات ہیں جنہوں نے اپنے فالتو گھر کرائے پر اٹھا رکھے ہیں اور ان میں سے کتنے وہ ہیں جنہوں نے قانون کے مطابق پولیس کو اپنے کرائے داروں کے بارے میں معلومات دے رکھی ہیں جنہوں نے ایسا نہیں کیا وہ سب اس بات کے مستحق ہیں کہ ان سب کو گرفتار کیا جائے، ہتھکڑیاں لگائی جائیں اور کم از کم چودہ روزہ ریمانڈ پر جیلوں میں بھیجا جائے کیونکہ حکومت کا کہنا ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں ہے، بالکل بجا ہے اگر کوئی ایک مالک مکان اس جرم کی پاداش میں جیل جاسکتا ہے تو پھر باقی سب کو بھی جانا چاہئے، لیکن ہمارا خیال ہے کہ اب اس قانون کے تحت کوئی دوسری گرفتاری شاید ہی ہو، کیونکہ کسی کو نہ تو کرائے داروں کے بارے میں معلومات مطلوب ہیں اور نہ ہی کسی کو قانون کا احترام درکار ہے۔ مقصد تو ایک ایسے شخص کی گرفتاری تھی جس کا نواز شریف کے ساتھ تعلق ہو اور اب بھی وہ اس تعلق کا دم بھرتا ہو۔ عرفان صدیقی نے کالم نگاری اس وقت ترک کر دی تھی جب وہ وزیراعظم کے مشیر مقرر ہوئے تھے، اگرچہ نواز شریف حکومت کی برطرفی کے بعد وہ اپنی کالم نگاری کا آغاز دوبارہ کرسکتے تھے، لیکن وہ بوجوہ تاحال اس جانب نہیں آئے، اگر وہ کالم باقاعدگی سے لکھ رہے ہوتے تو شاید یہ سمجھا جاتا کہ کسی تحریر کی وجہ سے کسی جبین پر شکن پڑ گئے ہیں، لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ گرفتاری کے لئے قانون کرایہ داری کا سہارا کیوں لیا گیا اور اگر ایسا کرلیا گیا ہے تو کیا یہ ضروری نہیں ہوگیا کہ قانون کا ہر کسی پر یکساں اطلاق کرایا جائے۔ اب عرفان صدیقی ضمانت پر رہا ہوچکے ہیں، شاید یہ رہائی بھی اتنی جلدی نہ ہوتی اگر اس گرفتاری پر احتجاج کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع نہ ہو جاتا لیکن اس گرفتاری اور رہائی نے ہمارے قوانین کا کھوکھلا پن بیچ چوراہے کے بے نقاب کر دیا ہے کہ لاکھوں نہیں تو ہزاروں لوگ اس کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں، لیکن کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا۔ البتہ جس کی گرفتاری مقصود ہو اسے چشم زدن میں ہتھکڑیاں لگا کر دھر لیا جاتا ہے۔

عرفان صدیقی کے بعد

مزید : تجزیہ