"آرڈر 24 گھنٹوں کے دوران واپس نہ لیے گئے تو دما دم مست قلندرہوگا" مسلم لیگ ن نے حکومت کو الٹی میٹم دیدیا

"آرڈر 24 گھنٹوں کے دوران واپس نہ لیے گئے تو دما دم مست قلندرہوگا" مسلم لیگ ن نے ...

  


لاہور(ویب ڈیسک پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پنجاب حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہےکہ 260 ایم پی ایز اور کارکنوں کے خلاف گرفتاری کے آرڈر 24 گھنٹوں کے دوران واپس نہ لیے گئے تو دما دم مست قلندرہوگا۔ماڈل ٹاؤن میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا مشہود احمد نے عظمیٰ بخاری اور عطاء تارڑ و دیگر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی تاریخ کا بد ترین میڈیا بلیک آؤٹ دیکھنے میں آرہا ہے، 25 جولائی کو عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا، عوام نے مہنگائی اور بری پالیسیز کے خلاف بھر پور احتجاج کیا۔ایکسپریس کے  مطابق ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں جو ہوا اس کی مثال نہیں ملتی قید و بند راستے بند کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، قانونی طریقے سے اجازت لینے گئے، مگرافسران کا بد ترین رویہ سامنے آیا، ہم نے لسٹیں بنالیں ہیں، ان تمام سول افسران کی جو حکومت کے آلہ کار بنے ہیں ان کے خلاف ریفرنسر دائر کر رہے ہیں، افسران کو آئین اور اپنے حلف کی پامالی کا جواب دینا ہوگا۔لیگی رہنما نے کہا کہ عمران خان کا جانا طے پاچکا ہے اور یہ وہی عمران خان تھا جو کہتا تھا سو لوگ نکلے تو میں استعفیٰ دے دوں گا اب تو جھولیاں اٹھا اٹھا کر پاکستان کی عوام بد دعائیں دے رہے ہیں، آپ نے ملک کی پاک فوج کو امریکا میں جا کر بدنام کروایا، آپ نے آئی ایس آئی پر الزام لگایا جس کا بھارت نے فائدہ اٹھایا، آپ پر تو غداری کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔رانا مشہود نے مزید کہا کہ 260 لوگوں پر لاہور میں آپ نے مقدمات درج کروائے لیکن ایسے مسلم لیگ (ن) کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، کل تک اگر مقدمات ختم نہیں کرتے تو ہم اپنا اگلا لائحہ عمل دیں گے، اپ خود اس ملک میں توڑ پھوڑ کرتے رہے آپ کو اب قانون بھی سکھائیں گے اور سب بتائیں گے۔رانا مشہود نے پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ شیخ رشید اپنا محکمہ نہیں چلا سکا وہ سیکڑوں لوگوں کا قاتل ہے، ہم شیخ رشید کے خلاف بھی پرچہ دینے کا سوچ رہے ہیں، ریلوے چلتی پھرتی قتل گاہ بن چکی ہے، شیخ رشید کو قاتل وزیر کے نام سے جانا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جتنا کام کیا پنجاب میں اس کی مثال انٹرنیشنل میڈیا نے بھی دی اور اپنی رپورٹ میں کہا کہ پنجاب کا مقابلہ دنیا کے بڑے ملکوں کے شہروں سے تھا لیکن انہوں نے آکر ریورس گیئر لگا دیا۔لیگی رہنما عظمٰی بخاری نے کہا کہ میں نے سنا تھا حکومتیں احتجاج سے گھبراتیں ہیں مگر اتنا گھبراتے ہیں پہلی بار دیکھا ہے، گھروں پر چھاپے مار کر روکنے کی کوشش کی گئی پھر بھی کام نہیں بنا تو راستے روکے گئے، اگر 24 گھنٹے میں ڈیٹینشن آرڈر واپس نہیں لیے تو ہم پنجاب حکومت اور لاہور افسران کو کام نہیں کرنے دیں گے، ہم سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا بھی دیں گے اور ہر طرح کے احتجاج کریں گے جو ہمارا حق ہے، یا تو یا ڈیٹینشن آرڈر واپس ہوں گے یا ہم سب کو گرفتار کریں۔عطا اللہ تارڑ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اگر یہ ڈیٹینشن آرڈر واپس نہ لیے گئے تو ہم کار سرکار بند کر دیں گے، وکلا کی ٹیم یہاں موجود ہے ہم ہر قانونی راستہ اختیار کریں گے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈی جی اینٹی کرپشن کو بھی بتا رہے ہیں کہ اگر یہ کارروائیاں بند نہ ہوئیں تو پھر ان کے خلاف اور باقی تمام افسران کے خلاف بھی قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

مزید : قومی /سیاست