حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس، کیا محمد شہباز شریف صدارت کریں گے؟ لاکھوں کا سوال

حزب اختلاف کی کل جماعتی کانفرنس، کیا محمد شہباز شریف صدارت کریں گے؟ لاکھوں ...

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

حزب اختلاف کی بڑی جماعتیں پریشانی سے دوچار ہیں اور ایک متحدہ اپوزیشن بنا کر جدوجہد کے تصور کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کچھ زیادہ متحرک ہین، وہ ایک ماہ میں دو بار لاہور آئے، یہاں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہبازشریف سے مواصلاتی رابطہ کیا اور ان کے ساتھ اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا، وہ اس سے قبل جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن سے مل چکے اور ہر دو میں اتفاق بھی ہے، قائد حزب اختلاف اور بلاول بھٹو کی بات چیت کے دوران بھی مسائل پر اتفاق اور اکٹھے چلنے کی خواہش موجود تھی، تاہم اس کی تکمیل ہنوز جواب طلب ہے، ان رابطوں کے نتیجے ہی میں مسلم لیگی وفد نے بھی بلاول سے ملاقات کی تھی اور میڈیا کو اتفاق رائے کا پیغام دیا گیا، لیکن عملی صورت یہ ہے کہ بلاول چاہتے ہیں کل جماعتی کانفرنس میں خود محمد شہبازشریف شامل ہو کر صدارت کریں اور جدوجہد میں بھی قیادت کریں، لیکن دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ محمد شہبازشریف اور ان کی جماعت نے اپنے قائد کی شرکت کو صحت مندی سے مشروط کر دیا ہے، مسلم لیگ(ن) کے مرکزی عہدیداران کے اجلاس میں شہبازشریف ہی کی صدارت میں یہ فیصلہ ہوا، اگرچہ کل جماعتی کانفرنس میں شرکت پر ہاں کر دی گئی، مگر اس میں محمد شہبازشریف کی شرکت مشکوک ہے کہ محترم عدالت عالیہ سے صحت ہی کی بنیاد پر عبوری ضمانت پر ہیں اور بقول خود نیب کی حراست سے بچے ہوئے ہیں۔نیب کی طرف سے بلاوے کی تلوار مسلسل لٹک رہی ہے اور عبوری ضمانت میں توسیع نہ ہونے پران کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور یوں ان کی شرکت شائد ممکن نہ ہو اور اگر ایسا ہوا تو کل جماعتی کانفرنس میں بھی تاخیر ہو گی کہ بلاول اپنے جماعتی عہدیداروں کے مشوروں کی روشنی میں یہ فیصلہ کئے ہوئے ہیں کہ قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے خود محمد شہبازشریف ہی حکومت مخالف جدوجہد کی قیادت کریں یہ صورت حال پیپلزپارٹی کے لئے پریشانی والی ہے۔ اسی لئے پارٹی نے حکومت مخالف جدوجہد کا اپنا پروگرام بھی طے کیا ہے۔ بلاول نے یہ ہدایت کی کہ عیدالاضحی کے بعد تحریک کی تیاریاں کی جائیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ نوجوانوں کو متحرک کریں اور ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی دوسری جماعتوں کے اکابرین سے بھی رابطے کرتے رہیں، بلاول یہ جدوجہد شروع کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

موسم برسات میں زیادہ بارش اور ندی نالوں میں طغیانی کے خدشہ کی اطلاع درست ثابت ہوئی ہے اور بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے ساتھ ہی بعض ندیوں اور نالوں میں طغیانی کے آثار کے علاوہ نشیبی مقامات پر پانی جمع ہونے کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہے، علاوہ ازیں کئی برسوں کے معمول کے مطابق برسات کا سلسلہ بھادوں جیسا ہی ہے کہ بادل آتے اور مختلف شہروں کے مختلف حصوں میں تیز بارش برسا کر لوٹ جاتے ہیں ساون والا سلسلہ لوٹ کر نہیں آیا اور برسات اسی انداز میں ہوتی ہے۔ لاہور میں بھی درمیان شہر اور متصل علاقوں میں تیز بارش ہو کر پانی بھی جمع ہوتا ہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں کم بارش ہوتی ہے، نکاسی آب کو بہتر اور بہترین بنانے کے اعلانات کے باوجود منصوبوں کی تکمیل تاحال نہیں ہوئی۔

عیدالاضحی کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایس او پیز جاری کئے۔ منڈیاں شہر سے باہر لگوائی گئیں لیکن سماجی دوری کا اہتمام نہیں ہو سکا، قربانی کے جانور فروخت کے لئے شہر میں لائے گئے اور قربانی کرنے والے حضرات نے خریداری کے بعد گھروں پر باندھ بھی لئے، چنانچہ اس حوالے سے ہدایات مسلسل نظر انداز ہوئیں اور اب وہی حالات ہیں، جو ماضی میں ہوتے تھے جب وباء (کورونا) نہیں تھی اور سب اچھا تھا، عید کے تینوں دنوں میں گلی محلوں میں قربانی حسب دستور ہو گی۔

عیدالاضحی کے موقع پر بازار بھی کھلے اور خریداروں کا بھی رش ہے، یہاں بھی حفاظتی انتظامات نظر انداز ہیں ، اسی بناء پر انتظامیہ کو سخت قدم اٹھانا پڑا اور لاک ڈاؤن کا فیصلہ کرکے نو دن کے لئے تمام مارکیٹیں بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، شہریوں کا عمومی تاثر ہے کہ وباء ختم ہو چکی، اسی طرح اشیاء خوردنی اور ضرورت کے نرخ بھی مسلسل بڑھے ہیں، سرکاری اعلانات ہوا میں معلق ہیں اور کوئی اثر نہیں ہوا ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -