حکومت دو سال پورے کر چکی کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کی تیاریاں،

حکومت دو سال پورے کر چکی کارکردگی رپورٹ پیش کرنے کی تیاریاں،

  

 مہنگائی سے پریشان لوگ مان لیں گے؟

ساون کا موسم اور وفاقی دارالحکومت کی سیاست دونوں بے اعتبار ہیں۔اگرچہ اسلام آباد میں بارشوں کے باعث درجہ حرارت میں تو کمی واقع ہوئی ہے،لیکن سیاسی درجہ حرارت میں کمی کے امکانات زیادہ نظر نہیں آ رہے،تاہم مون سون کے موسم میں حبس کا جو ماحول نظر آتا ہے ایسا ہی حبس سیاست میں بھی نظر آ رہا ہے۔اگرچہ حکومت اور اپوزیشن کے مابین نیب قانون میں ترمیم کے لئے پارلیمانی مذاکراتی کمیٹی کا قیام بظاہر خوش آئند نظر آ رہا ہے،لیکن اس پارلیمانی کمیٹی کی کامیابی کے امکانات کے بارے میں حتمی طور پر کوئی رائے قائم کرنا مشکل ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیریں رحمان کے بقول مجوزہ مسودے میں کئی نقائص ہیں۔اس مسودے میں ایف اے ٹی ایف اور صوبوں کے مابین مالیاتی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے بھی نکات شامل ہیں۔درحقیقت پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے جس احتساب کے ”نعرے“ پر حکوم قائم کی اور اپنے پیرو کاروں کو جس طرح اس کے سحر میں مبتلا کر رکھا ہے اب اس حکومت کے لئے نیب قانون میں ترمیم کا اقدام بہرحال سیاسی مضمرات کا حامل ہو گا۔تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے خواجہ برادران کیس میں تفصیلی فیصلہ سے جس طرح نیب کے بخیئے ادھیڑے گئے ہیں اس سے نہ صرف اپوزیشن کی جانب سے نیب کو سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کئے جانے کے الزام میں نہ صرف صداقت محسوس ہونے لگی ہے،بلکہ اس حوالے سے نیب قوانین میں ترامیم کے لئے حکومت کو بھی قدرے ڈھارس ملی ہے تاکہ حکومت کی اتحادی جماعتوں کو بھی اس میں شراکت دار بنایا جا سکے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں اہم ترین اتحادی جماعت کے سربراہان چودھری برادران بھی نیب کے حوالے سے شدید تحفظات رکھتے ہیں، اِس لئے اس میں مسلم لیگ(ق) کے طارق بشیر چیمہ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نیب قوانین پر ترمیم کے لئے پیش پیش ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اپوزیشن نے اس موقع سے فائدہ نہ اٹھایا تو یہ تاریخی غلطی ہو گی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے نیب کی ہیبت کے باعث بالخصوص بیورو کریسی کسی پہل سے گریزاں نظر آتی ہے، بس ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے۔ حکومت کی جانب سے موثر طرزِ حکمرانی کے عدم مظاہرے میں ایک بڑی وجہ نیب کا خوف ہے تاہم نیب قوانین کے حوالے سے بڑا الزام یہ ہے کہ انہیں سیاسی انجینئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اہم سوال یہ ہے کہ کیا نیب قوانین میں تبدیلی سے ملک میں سیاسی انجینئرنگ کا عمل رُک جائے گا،کیونکہ سیاسی انجینئرنگ ہمارے سیاسی کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ سیاسی انجینئرنگ کا مائنڈ سیٹ رکھنے والوں کے پاس اس کے سو راستے ہیں، نیب قوانین میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ سیاست دانوں پر فرض عائد ہے کہ وہ پہلے خود سیاسی انجینئرنگ کے مائنڈ سیٹ سے مکمل تائب ہو جائیں۔تاہم یہ طویل المدتی ٹاسک ہے،جبکہ نیب قوانین میں تبدیلی سے ملکی سیاست اور سیاسی نظام میں قدرے ٹھہراؤ تو آ سکتا ہے،جو اِس وقت انتہائی اہم ہے جبکہ دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے مابین پارلیمانی مباحثوں میں خوب لے دے ہو رہی ہے۔ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے اس شور شرابے میں عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہی، کبھی آٹا چینی اور کبھی پٹرول بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔

حکومت نے دو سال کی مدت مکمل کر لی ہے، جبکہ اگست کے پہلے ہفتے میں حکومت اپنی دو سالہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کرے گی۔حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت کو درست راستے پر گامزن کر دیا ہے، حکومتی دعوؤں کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ میں کمی واقع ہوئی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ ہفتے مہنگائی اور آٹے چینی کی صورت حال کے حوالے سے اہم اجلاس کی صدارت کی، جس میں ویڈیو لنک کے ذریعے چاروں چیف سیکرٹریوں نے بھی شرکت کی،لیکن ملک میں آٹے کا بحران جاری ہے۔دوسرا اہم اجلاس نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل کا ہوا، جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے شرکت کی اور ملک کی اقتصادی ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا، پاکستان نے بالآخر افغانستان کو بھارت سے براہِ راست تجارت کے لئے زمینی راستہ کھول دیا ہے، اس کا سہرا بظاہر پاکستان کے افغانستان کے لئے نمائندہ خصوصی سفیر محمد صادق کو جاتا ہے،جنہوں نے حال ہی میں عسکری قیادت کے ہمراہ افغانستان کا دورہ کیا تھا اور افغان قیادت سے اہم ملاقاتیں کی تھیں۔ سفیر محمد صادق اس پہل پر افغانستان اور ہندوستان پاکستان کو کیا رعایت دے گا اور اہم سوال اپنی جگہ قائم ہے،کیونکہ ہندوستان مسلسل کنٹرول لائن پر بلا اشتعال اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، بھارت کے ڈرون جاسوس طیارے مسلسل پاکستان کی حدود میں آ رہے ہیں، جنہیں پاک فوج اپنا نشانہ بنا لیتی ہے، ملک میں کورونا کی لہر قدرے قابو میں ہے، لیکن وزیراعظم عمران خان نے تنبیہہ کی ہے کہ عید پر حفاظتی اقدامات کی خلاف ورزی پر لہر بے قابو ہو سکتی ہے،جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے فیصلے کے خلاف راولپنڈی کے تاجر سراپا احتجاج ہیں اور حکومتی پابندی کو مسترد کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں۔جڑواں شہر میں خاندانی دشمنی پر 9 افراد کے بہیمانہ قتل سے فضا سوگوار ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -