خیبرپختونخوا،احتجاج، مظاہروں کی زد میں،شاہراہیں بند، ٹریفک جام

خیبرپختونخوا،احتجاج، مظاہروں کی زد میں،شاہراہیں بند، ٹریفک جام

  

خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان آج کل احتجاج، مظاہروں اور امن دشمن کارروائیوں کی زد میں ہیں جبکہ صوبائی حکمران ترقیاتی منصوبوں کی تشکیل، ترویج اور تکمیل کے لئے ڈنڈا تھامے دکھائی دے رہے ہیں، مختلف سکیموں کے سنگ بنیاد سے افتتاح تک کے معاملات عروج پر ہیں۔ احتجاجی سیزن کے دوران پاک افغان ٹریڈ روٹ پر طورخم لنڈی کوتل ہائی وے کئی روز سے بند ہے گڈز ٹرانسپورٹرز نے اپنے مطالبات کے حق میں ٹریفک کی آمد و رفت کا پہیہ جام کر رکھا ہے، کرک میں بجلی بحران اور برقی رو کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے کی وجہ سے انڈس ہائی وے گزشتہ دو روز سے بند ہے، نوشہرہ میں شہریوں کی بڑی تعداد نے کرپشن، بھرتیوں میں اقربا پروری، بیروز گاری اور کسٹم اہلکاروں کی سمگلروں کے ساتھ ملی بھگت کے خلاف احتجاج شروع کر رکھا ہے جس وجہ سے جی ٹی روڈ کئی گھنٹے بلاک رہنے کے بعد اب کھلی ہے جبکہ پارا چنار میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال کے خلاف ہزاروں افراد دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔ یہاں دہشت گردی کی نئی لہر کے دوران کم و بیش 20 افراد زخمی ہوئے جن میں سے دو تین کی حالت تشویشناک ہے، اوپر تلے ہونے والے واقعات کے بعد ہزاروں مقامی افراد دھرنا دیئے ہوئے ہیں، کئی سرکاری وفود نے ان سے ملاقاتیں کیں لیکن بے سود، قانون نافذ کرنے والے ایک ادارے کے ریزرو دستے نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آپریشن کرنے کی کوشش بھی کی لیکن مظاہرین نے ان پر پتھروں کی بارش کی جس کے بعد اہلکاروں کو پسپا ہونا پڑا۔ ضلع کرک کے سرحدی علاقے میں بارودی سرنگ کے دو دھماکوں میں چار سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے، اس طرح کی کئی دیگر امن دشمن کارروائیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں، اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ افغانستان میں دوحہ امن مذاکرات پر من و عن عمل نہ کئے جانے کے بعد افغانستان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے اثرات ہمارے ہاں سرحد پار بھی دکھائی دے رہے ہیں۔

جہاں تک صوبائی حکومت کی کارکردگی کا تعلق ہے تو دو سال گزرنے کے بعد ترقیاتی سکیموں کا سلسلہ تیزی سے شروع ہو گیا ہے، پی ٹی آئی کے گزشتہ دور حکومت میں شہریوں کو سستی اور برق رفتار سفری سہولیات کی فراہمی کے لئے شروع کئے گئے بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل کے لئے متعلقہ محکموں پر خاصی سختی کی جا رہی ہے اگرچہ بعض مقامات پر چھوٹے موٹے کام جاری ہیں تاہم انتظامیہ نے میٹرو سروس کا آغاز کر دیا ہے اور تجرباتی رن ڈاؤن کے دوران میٹرو سٹاف کو خوب سیر کروائی جا رہی ہے۔ اب انتظار صرف اس میگا پراجیکٹ کے باقاعدہ افتتاح کا ہے جس کے لئے وزیر اعظم عمران خان کو وزیر اعلیٰ محمود خان نے باقاعدہ دعوت ارسال کر دی ہے، اس امر کا غالب امکان ہے کہ یوم آزادی پر 14 اگست یا اس کے آگے پیچھے کسی بھی دن پشاور میٹرو سروس کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے نے دیر سے چترال تک 40 کلومیٹر کیبل کار منصوبے کی فزیبلٹی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے اور یہ منصوبہ بھی جلد شروع ہونے والا ہے، کچرے سے ایل پی جی کی تیاری کا مہنگا پراجیکٹ بھی زیر غور ہے جس کا اعلان بھی جلد متوقع ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے پن بجلی کے266 چھوٹے منصوبے مکمل کرلیے ہیں جس سے 15 ہزار125 کلو واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق موجودہ حکومت میں پن بجلی کے356 چھوٹے منصوبے شروع کیے تھے جن میں 266 منصوبے مکمل کیے گئے ہیں، ایبٹ آباد میں 15 منصوبوں سے670 کلو واٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے، بٹگرام میں 58میں سے53منصوبے مکمل،بجلی کی پیداواری صلاحیت 2ہزار775 ہے۔چترال میں 55 منصوبوں میں سے50منصوبے مکمل ہیں۔4 ہزار525 بجلی پیداوار جاری ہے۔ سوات میں چالیس منصوبے مکمل ہونے کے بعد دو ہزار245کلو،کوہستان میں 28 منصوبوں سے15 سو کلوواٹ، شانگلہ میں 21 منصوبوں کی تکمیل کے بعد1070 کلوواٹ بجلی پیداکی جارہی ہے۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جلوزئی اکنامک زون کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ 257 ایکڑ اراضی پر محیط اس اکنامک زون میں آٹھ ارب روپے کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

خیبرپختونخوا کی آمدن کے بڑے ذریعے سیاحت پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے لیکن گزشتہ دنوں ایک ایسا معاملہ دیکھنے میں آیا جس سے اس شعبے کو نقصان پہنچے کا اندیشہ ہے، انتظامیہ کی جانب سے عید الضحیٰ سے قبل سوات، کالام، مالم جبہ، کاغان، ناران اور شوگران سمیت دیگر مقامات کو سیاحوں کے لئے اچانک بند کر دیا گیا، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور گیسٹ ہاؤسز کے خلاف کارروائی شروع کر نے سے سیاحوں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان دنوں پنجاب، کے پی کے اور گلگت وغیرہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں لیکن اچانک سرکاری کارروائی نے سیاحوں پر دروازے بند کر کے معاملہ بگاڑ دیا۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے جمعہ کے روز مانسہرہ کے سیاحتی مقام شوگران کا دورہ کیا، جہاں پر اْنہوں نے سیاحتی مقامات تک سیاحوں کی رسائی کو آسان بنانے کیلئے تین مختلف رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا، جن میں 15 کلومیٹر وادی مانور روڈ، 11 کلومیٹر وادی شوگران روڈاور9 کلومیٹر وادی پابرنگ روڈ شامل ہیں۔ رابطہ سڑکوں کے ان منصوبوں پر14 کروڑ روپے سے زائد کی مجموعی لاگت آئے گی۔

وزیراعلیٰ نے گزشتہ روز پاک افغان پارلیمنٹری فرینڈ شپ گروپ کی ایگزیکٹیو کمیٹی سے ملاقات کے دوران افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کو موجودہ حکومت کے ویژن کا اہم حصہ قرار دیا اور کہا کہ صوبائی حکومت افغانستان کے ساتھ باہمی تجارت کے فروغ کے ساتھ ساتھ افغان ٹرانزٹ کے سلسلے میں درکار ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کررہی ہے

مزید :

ایڈیشن 1 -