عید پر اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں،شوبز شخصیات

عید پر اپنی سرگرمیاں محدود کر دیں،شوبز شخصیات

  

لاہور (فلم رپورٹر)شوبز کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے کورونا سے بچنے کیلئے عید کے موقع پر اپنی سرگرمیوں کو محدود کردیا ہے۔دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس سے مذہبی اجتماعات، تہوار، تعلیمی ادارے، مارکیٹیں اور کھیل سمیت دیگر تمام شعبے 5اگست تک ہیں۔ پابندیوں کے باعث پاکستان بھر میں لاکھوں لوگ پریشان ہیں تھیٹر فنکار ڈرامہ نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل احتجاج میں مصروف ہیں۔فلم،ٹی وی اور سٹیج کے فنکاروں کی اکثریت لاہور میں عید منائے گی جبکہ چند فنکار اپنے اپنے آبائی علاقوں میں عید منانے کیلئے روانہ ہوچکے ہیں شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس نے بہت سارے لوگوں کو لقمہ اجل بنا لیاہے ہمیں اسے پاکستان میں روکنے کے لئے ہنگامی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ یہ پھل پھول نہ سکے۔ اس وائرس سے سب کو بچانے کے لئے ہمیں ان حفاظتی تدابیر کو سب سے پہلے اپنے گھروں اور خود سے شروع کرنا ہو گا تاکہ ہم سب محفوظ رہ سکیں۔ پنجاب حکومت کو سب سے زیادہ سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کو بڑھانا ہوگا کیونکہ دیگر ہسپتال اسے کمائی کا ذریعہ بنا رہے ہیں اورلوگ اسے مہنگا علاج سمجھ کر چپ کر جاتے ہیں۔ کرونا وائرس کے خلاف پاکستان میں موجود این جی اوز کو بھی آگے بڑھنا ہو گا جو عوامی آگاہی کے ساتھ ساتھ مفت ماسک اور گلوز عوام میں بانٹیں تاکہ جو لوگ اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھ سکتے وہ اسے حاصل کرکے اس موذی وائرس سے خود کو بچاسکیں ہم سب کو ایک قوم ہوکر کرونا وائرس کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

حکومت اس سے بچاؤ کی چیزیں سستی کرنے میں معاونت کرے اور اس کو زخیرہ کرنے والوں کو قانون کی گرفت میں لائے۔ ابھی بھی دیہاتی علاقوں میں کرونا وائرس بارے بہت کم علم ہے اس لئے حکومت اور ادارے مل کر سب میں زیادہ سے زیادہ آگاہی پھیلائیں۔

تاکہ ہر شخص کو اس کے بارے میں پتہ چل سکے۔ کرونا وائرس سے عوام کو ڈرانے کی بجائے اس سے بچاؤ کے زیادہ سے زیادہ طریقے بتائے جائیں تاکہ لوگ اس کا شکار ہونے سے بچ سکیں۔ اس سے پہلے بھی ہم پاکستانی بہت سارے موذی امراض کا سامنا کرچکے ہیں کرونا وائرس خطرناک ضرور ہے مگر اس سے احتیاط کرکے بچا جاسکتا ہے۔ ہم پاکستانیوں کو کرونا وائرس بارے ایک ایجنڈے پر کام کرنا ہوگا کیونکہ ہم اسے صرف متحد ہوکر ہی شکست دے سکتے ہیں۔ شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ ہمیں حکومت اور محکمہ صحت کے بنائے گئے ایس او پی کو فالو کرنا ہوگا کیونکہ انہیں نے حفاظتی تدابیر واضح کر دی ہیں اس لئے ہمیں ان پر سختی سے عمل پیرا ہونا پڑے گا۔ سب فنکار کرونا وائرس کے خلاف حکومت کے ساتھ ہیں اور عوام کو آگاہی دینے کے لئے بھی تیار ہیں۔لاہور میں عید منانے والوں میں سید نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،ماہ نور،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن،بشریٰ انصاری، حنا دلپذیر، نیلم منیر، مدیحہ شاہ، مائرہ خان، فرزانہ تھیم، سعدیہ امام اور جویریہ عباسی،ظفر اقبال نیویارکر،عذرا آفتاب،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی،،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ رحمان،ظفر عباس کھچی،سٹار میکر جرار رضوی،ملک طارق،مجید ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اللہ خان،مایا سونو خان،مختار چن،آشا چوہدری،اسد مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،حاجی عبد الرزاق،حسن ملک،عتیق الرحمن،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ،مجاہد عباس،حمیرا چنا،اچھی خان،شبنم چوہدری،محمد سلیم بزمی،سفیان،انوسنٹ اشفاق،استاد رفیق حسین،فیاض علی خاں،اسلم پھلروان،روینہ خان،حمیرا،عروج،عینی رباب،پریسہ،پروڈیوسر شوکت چنگیزی،ظفر عباس کھچی،ڈی او پی راشد عباس،پرویز کلیم اور نجیبہ بی جی کے نام نمایاں ہیں۔شوبز شخصیات کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موسیقی کے کنسرٹس، ٹی وی شوز اور فلموں کی ریلیز میں تاخیر و منسوخی کے باعث فلم انڈسٹری سے جڑے افراد اب اپنے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہورہے ہیں۔ امریکا میں فلموں اور سنیما سے جڑے ملازمین کورونا کے باعث کافی پریشان ہیں۔ ڈیلی ویجز پر کام کرنے والوں کو کام نہ ہونے کی وجہ سے پیسوں کی ادائیگی رک چکی ہے۔ فلم انڈسٹری سے جڑے افراد کا کہنا ہے کہ کورونا کے باعث پابندیوں کی وجہ سے شوز اور کام کی بندش یا منسوخی کی وجہ سے انہیں گھریلو مسائل کا سامنا ہے۔

مزید :

کلچر -