پنجاب میں کاروباری لاک ڈاؤن

پنجاب میں کاروباری لاک ڈاؤن

  

پنجاب حکومت کے فیصلے کی روشنی میں پورے صوبے میں نو روزہ لاک ڈاؤن کا آغاز ہو گیا، الیکٹرانک میڈیا پر اعلان ہوتے ہی لوگوں نے مارکیٹوں اور بازاروں کا رُخ کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ عالم تھا کہ رش کے باعث ٹریفک جام اور چلنا پھرنا محال ہو گیا۔یہ غالباً اچانک اعلان کا ردعمل تھا، بازاروں میں فوری طور پر جمع ہو جانے والے خریداروں کے جم ِ غفیر ہی سے اندازہ ہو گیا کہ فیصلہ اپنی جگہ درست ہے اور عیدالفطر سے قبل بازار کھلے رکھنے کے تجربے کی روشنی میں کیا گیا ہے، اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہ گیا کہ جون میں کورونا کیسز جس تیز رفتاری سے بڑھے ان میں اس ہجوم کا بہت کردار تھا،جو عیدالفطر کی شاپنگ کے لئے گھروں سے بلا روک ٹوک نکل کھڑا ہوا تھا، نتیجے کے طور پر ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ گیا،مریضوں میں روز بروز اضافہ ہونے لگا،اموات بھی بڑھنے لگیں تاہم جولائی کا مہینہ اِس لحاظ سے بہتر ثابت ہوا کہ کیسز کی تعداد کم ہونے کے ساتھ ساتھ اموات میں بھی کمی آ گئی اور پیر کے روز تین ماہ کے عرصے میں پہلی مرتبہ کسی کورونا مریض کی موت واقع نہیں ہوئی۔

کورونا کے مریضوں کی تعداد میں کمی کے اس امید افزا رجحان کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ عیدالاضحی پر احتیاطی تدابیر کا زیادہ لحاظ رکھا جائے،قربانی کی وجہ سے اس عید پر جانوروں کی خرید و فروخت ایک لازمی عنصر ہے،جہاں اگرچہ ایس او پیز نافذ کئے گئے ہیں،لیکن دیکھا یہی گیا ہے کہ ان منڈیوں میں ان کا خیال نہیں رکھا جا رہا،بڑی تعداد میں قربانی کے جانور خریدنے والے ماسک کے بغیر ہی منڈیوں میں پہنچ جاتے ہیں، ان حالات میں بازار بند کرنے کا فیصلہ بروقت ہی قرار دیا جائے گا۔اگرچہ تاجروں نے تو اسے مسترد کر دیا ہے اور خلاف ورزی کرتے ہوئے کاروبار جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا ہے،لیکن صحت ِ عامہ کے مفاد میں یہ ضروری ہے کہ تاجر کاروبار بند رکھیں۔اگرچہ اُنہیں مالی نقصان تو ہو گا کہ عید سے قبل ہونے والی شاپنگ، مہنگی ہونے کی وجہ سے اُن کی کمائی کا بڑا ذریعہ ہوتی ہے اسی لئے وہ دکانیں کھلی رکھنے پر زور دے رہے ہیں،لیکن وسیع تر مفاد کا تقاضا ہے کہ وہ مالی و ذاتی مفادات سے اوپر اُٹھ کر سوچیں اس لاک ڈاؤن پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو جائے، تو امید ِ واثق ہے کہ کورونا کیس مزید کم ہو جائیں گے احتیاط کامیاب رہی تو پھر اگلے دو تین ہفتوں میں نمایاں بہتری نظر آئے گی۔

دُنیا میں وائرس کا پھیلاؤ ابھی ختم نہیں ہوا اور عالمی ادارہئ صحت نے ایک نئی لہر سے پہلے ہی خبردار کر دیا ہے،اِس لئے پاکستان میں کم ہوتے ہوئے کیسز کو اُن کے صحیح تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔یہ تصور خام ہے کہ اگر کیسز کم ہو رہے ہیں تو اب احتیاط کی ضرورت ہی نہیں رہی،دیکھنا تو یہ ہو گا کہ کورونا کا پھیلاؤ اگر رُکا ہے تو اس کے عوامل کیا ہیں،اس وبا کے آگے احتیاطوں کے جو بند باندھنے کی ضرورت ہے اُن سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔ممکن ہے کم کیسز کی وجہ سے بے احتیاطی کے رجحان کو تقویت ملتی ہو،لیکن ایسا طرزِ فکر و عمل درست نہیں ہے اور لہر کی واپسی کا باعث بھی بن سکتا ہے، اِس لئے اگر ہم چاہتے ہیں کہ کیسنر کا گراف بدستور نیچے کی طرف آتا رہے تو لوگوں کو اپنے مفاد میں حکومت کے فیصلے کا احترام کرنا ہو گا، بہت سے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں، جہاں آغاز میں وائرس کو غیر سنجیدہ لے کر حفاظتی اقدامات سے گریز کیا گیا،پھر جب روزانہ ہزاروں اموات کا صدمہ برداشت کرنا پڑا تو جلد بازی میں اقدامات کئے گئے،اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی،انسانی جانوں کے اتلاف کی شکل میں اس مہنگے تجربے کو دہرانے کو سنگدلی ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ دُنیا بھر میں کورونا سے پھیلنے والی وبا سے محفوظ رہنے کے لئے ویکسین کے تجربات جنگی بنیادوں پر کئے جا رہے ہیں اور کامیابی کے امکانات بھی روز بروز روشن ہوتے چلے جا رہے ہیں، تاہم جب تک ویکسین دستیاب نہیں ہوتی اس وقت تک احتیاط ہی واحد راستہ ہے جسے تاویلات کر کے دھندلانا نہیں چاہئے۔اگرچہ کاروبار کی بندش سے معیشتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں، لیکن زندگیوں کو بچانے کے لئے یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے،پاکستان میں عید کی خریداری کا جو کلچر کچھ عرصے سے تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔وبا کی وجہ سے اگر اس میں رکاوٹیں آ رہی ہیں تو اُنہیں خوش دِلی سے برداشت کرنے کی ضرورت ہے اِس لئے جو تاجر کاروبار کھولنے پر اصرار کر رہے ہیں اُن سے گذارش ہے کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں یہ چند روزہ تکلیف برداشت کر لیں گے، تو پھر کاروبار بھی ہوتے رہیں گے اور خریداریاں بھی ہوں گی،اس سلسلے میں بے صبری اور بے تابی کے مظاہرے کی تائید نہیں کی جا سکتی،جو تاجر حکومت کے اعلان کو ناکام بنانے پر تُلے ہوئے ہیں ان سے ہماری دردمندانہ گذارش ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو پھر حکومت کو اپنے فیصلے پر عملدرآمد کے لئے سخت انتظامی اقدامات کرنے ہوں گے، پھر اُنہیں شکایت پیدا ہو گی، بہتر حکمت ِ عملی تو یہ ہے کہ ایسی صورتِ حال جنم نہ لینے پائے کہ حکومت فورس کا استعمال کر کے اپنے فیصلے کی پابندی کرائے، ویسے اگر گاہک خود بازاروں کا رُخ نہ کریں تو یہ زیادہ بہتر طریقہ ہو گا۔

وبا کی وجہ سے سعودی حکومت نے حج بہت ہی محدود کر دیا ہے اور جہاں لاکھوں لوگ حج کا فریضہ انجام دیتے تھے،وہاں اب ایک ہزار حاجیوں کو ہی اس کی اجازت دی گئی ہے اور اُن کے لئے بھی غیر معمولی احتیاطیں ملحوظ خاطر رکھی جا رہی ہیں۔میدانِ عرفات، مِنیٰ، مزدلفہ ہر جگہ پابندیوں کے ساتھ مناسک حج ادا کئے جائیں گے۔خانہ کعبہ میں خصوصی اہتمام کے ساتھ صفائی کی جا رہی ہے۔ طوافِ کعبہ اور مسجد الحرام میں نمازیوں کی تعداد بھی محدود کی گئی ہے،حاجیوں کو بہت ہی غیر معمولی پابندیوں کا لحاظ رکھنے کی ہدایت کی گئی،جب ایک فرض کی ادائیگی کے لئے ایسی پابندیوں کو قبول کیا جا رہا ہے تو محض مالی منفعت کی خاطر بازاروں کو کھلے رکھنے کے مطالبے پر ڈٹ جانا قابل ِ تائید نہیں ہے، حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اس پر خوش دِلی سے عملدرآمد ہو تو بہتر، بصورتِ دیگر انتظامی اقدامات بھی بروئے کار لانے میں مضائقہ نہیں ہے اس میں مُلک، معاشرے اور عوام کی بہتری پوشیدہ ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -