ہیں بکرے کچھ۔۔

ہیں بکرے کچھ۔۔
ہیں بکرے کچھ۔۔

  

بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ ہمیں کیا معلوم! نہ تو ہم خود بکرا ہیں نہ بکرے کی ماں سے کوئی تعلق۔ راہ ورسم تودور کی بات ہم نے تو اس سے کبھی سرسری دعاء و سلام بھی نہیں رکھی۔ ایک شریف آدمی کا یہی چلن ہونا چاہیے۔ اگر ایساکچھ ہو بھی تومشرقی روایات کا تقاضا یہی ہے کہ اس کا کھلم کھلا اعلان نہیں ہونا چاہئے کہ خلق خدا غائبانہ کہتی پھرے۔

ان کو بھی ترے عشق نے بے پردہ پھرایا

جو پردہ نشین بکریاں رسوا نہ ہوئی تھیں

رسوائی کا دھڑکا اپنی جگہ لیکن یوں بھی ہم حسیناؤں کے راز سر عام افشا کرنا محبت اور اخلاق کے سکہ بند اصولوں کے خلاف سمجھتے ہیں۔خاص کر جب وہ خود بھی پردہ کے بارے میں محتاط ہوں اور بقول شاعر:

گرچہ وہ بے پردہ آئے ہو ئے ہیں

چھپانے کی چیزیں چھپائے ہوئے ہیں

تو ان کی عزت و عصمت کی حفاظت ہمارا خلاقی ہی نہیں قانونی فرض بھی بن جاتا ہے۔ بکری کا تو ہمارے دل میں الگ ہی مقام ہے۔ اس سے محترم ہمارے لیے کون ہوگاجس نے اپنا لخت جگر یہ کہہ کہ ہمارے حوالے کر دیا کہ

اب جس کے جی میں آئے وہی کھائے پائے سری

ہم نے تو کلیجہ لا کے لبِ کام(و دہن) رکھ دیا

ایسا نہیں کہ ہم نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔ایک دو عیدوں پر قربانی سے کچھ قبل ہم نے بکروں سے کَن سَن میں دریافت بھی کیا لیکن کوئی ڈھنگ کی بات ہاتھ نہ لگ سکی، الٹی شکایتیں ہو ئیں احسان تو گیا کے مصداق بکرا برادری میں ہمارے ہی خلاف باتیں بننے لگیں۔ایک چگی داڑھی والے لکھنوی انداز کے بکرے سے ہم نے جب یہ سوال کیا کہ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی تو خشمگین نگاہوں سے دیکھتے ہوئے فرمایا یہ کیا طرز تکلّم ہے؟ ’منائے گی‘! ہماری اماں حضور کا نام ادب سے لیجئے اور ان کے لئے ’منائیں گی‘ کا صیغہ استعمال کیجئے۔ یہی سوال ایک پنجابی بکرے سے کیا تو جگت کے انداز میں بولا ’تینوں کیوں دساں توں میرا ماما لگنا ایں!‘۔ معلوم ہوا کہ فیصل آباد سے آنے والی ایک ٹولی سے تھا۔

.

خنجر سے نوکیلے سینگوں والے ایک پہاڑی بکرے سے یہ سوال کرنا بہت مہنگا پڑا۔ موصوف نے آؤ دیکھا نہ تاؤ بندہء ناچیز کو امریکی فوجی سمجھتے ہوئے فوراً حملہ کر دیا۔ قصائی اگر امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والی تازہ ترین جنگ بندی کا مسودہ پڑھ کر نہ سناتا تو آج ہماری پہلی برسی ہوتی۔ایک امریکہ پلٹ بکرے سے اس سلسلہ میں بات کرنے کی کوشش کی تو جگالی کرتے ہوئے غیر جذباتی لہجے میں تقریباًجھاڑتے ہوکہا’Can't you people mind your own business?‘ یعنی تم لوگ اپنے کام سے کام نہیں رکھ سکتے؟۔ ایک کشمیری بکرے سے بات کی تو جواب دینے کی بجائے بس خالی خالی نظروں سے ہمیں دیکھتا رہا!۔بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ اصل کہانی تو بکرے کی خریداری سی متعلق تھی۔ بکر منڈی پہنچے توبکروں کا ایک بحر بیکراں دیکھ کر بھارتی فلمی قوالی پردہ ہے پردہ یاد آ گئی۔یہاں پردہ وردہ تو کہیں نہیں تھا بس حد نگاہ تک بکرا ہے بکرااور بکرے کے پیچھے بکرا ہی بکرا والی صورتحال تھی۔بکروں کے سمندر میں کہیں کہیں اونٹوں اور گائیوں کے چھوٹے چھوٹے جزیرے بھی نظر آرہے تھے۔ تمام جانور مختلف ٹولیوں میں بٹے ہوئے تھے۔داخل ہوتے ہی دائیں جانب ایک بزرگ صورت بکرا بیس پچیس بکروں کی ٹولی کو قربانی کے فضائل سے آگاہ کر رہا تھا۔ تمام بکرے سر تسلیم خم کی عملی تصویر بنے جذباتی نعرے لگاتے جاتے تھے۔ایک دو بکرے جو دیکھنے میں کچھ زیادہ گناہگار معلوم ہوتے تھے فرط جذبات میں لپک کر آگے بڑھے اوربیان کرنیوالے کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ سر ہلاتے جاتے اورمونہہ میں کچھ کہتے جاتے۔ ساتھ والی ٹولی میں کھڑی دو بکریاں مسکراتے ہوئے آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگیں۔ سنائی تو نہیں دے رہا تھا لیکن ان کے تاثرات صاف بتا رہے تھے کہ گفتگو کا تعلق ا ن بکروں کے چال چلن سے رہا ہو گا۔اتنے میں پیچھے کھڑے جدید وضع قطع کے ایک بکرے نے باقی بکروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

بھائیوخبردار یہ آپ ہی کی گردن پر چھری چلا نے کی بات ہو رہی ہے۔ بکروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور ٹولی میں ایک بے چینی سی پھیل گئی۔ صورتحال خراب ہوتے دیکھ کے سامنے کھڑے بکرے نے آواز بلند کرتے ہوئے شر پسند بکرے کی مذمت کی اور جہنم کی وعید کے ساتھ ساتھ کھڑے کھڑے چھری پھیرنے کا اعلان کیا تو امن عامہ کی صورتحال ایک دم سے درست ہوگئی۔ سب بکرے پہلے کی طرح سر ہلانے لگے۔

تھوڑا آگے بڑھے تو بکروں کی ایک ٹولی زمین پر دراز دیکھی۔ان میں ہم نے ایک خاص طرح کی بے چینی نوٹ کی۔ سب بکرے ایک دوسرے سے ہلکی آواز میں باتیں کررہے تھے۔ ان میں لیڈر کوئی نہیں تھا۔ ہم نے قریب ہو کر سننے کی کوشش کی لیکن آواز اتنی مدھم تھی کہ کچھ بھی نہ سن سکے۔اس پر قریب سے کوئی گزرتا تو آواز کو اور بھی نیچا کر لیتے۔ کہیں کہیں سے کوئی آواز سر اٹھاتی تو بس اتنا سنائی دیتا ’میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا۔‘ ہم نے حضرت صاحب سے دریافت کیا کہ کون ہیں تو فرمایا وہی جو بنے بنائے رستوں کی بجائے صرف اپنی آواز کے پیچھے چلتے ہیں۔

ہم نے کہا تبھی تو ان میں اسقدر انتشار ہے۔حضرت صاحب فرمانے لگے اس انتشار کو دنیا تنوّع(Diversity) یا آزادیء خیال کہتی ہے اور اس کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ہمیں کفیوژ دیکھ کر کہا بہت کام کے بکرے ہیں ان میں سے کوئی پسند کر لیں۔حضرت صاحب کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہم نے ان کی توجہ سو گز دور چبوترے پر کھڑے ایک تنو مند لیکن سمارٹ اور خوبصورت بکرے کی طرف دلائی۔یہ رہا کام کا بکرا حضرت صاحب!قریب پہنچے تو شان و شوکت اور جاہ و حشمت دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گئے۔ستواں ناک پر رکھی عینک نے حسن کو چار چانداور رعب کو دبدبے کا تڑکا لگا رکھا تھا۔ دانت چیک کروانا تو دور کی بات وہ تو ہماری طرف دیکھنے کے بھی روادار نہیں تھے۔ حضرت صاحب نے روزنامہ چیخ کا جعلسازی سے بنوایا ہوا اپنا صحافتی کارڈ دکھایا تو گفتگو پر مائل ہوئے لیکن دوران گفتگو مسلسل شک اور حقارت کی نگاہ سے دیکھتے رہے۔ پاس کھڑے شخص سے ہمت جُٹا کر قیمت پوچھی تو اس نے ہمیں پھر بکرے اور پھردوبارہ ہمیں غور سے دیکھا۔

اس کے تاثرات ہمیں واٹس ایپ کا سب سے بری شکل والا ایموجیکی یاد دلا گئے۔ ہم نے بکرے کی عینک کے اندر سے دیکھا تو حضرت صاحب ہمیں بہت چھوٹے سے نظر آئے۔ حضرت صاحب دیکھتے تو ہم انہیں اس سے بھی چھوٹے دکھائی دیتے۔ان کا خیال ہے کہ وہ گریڈ بائیس کا بکرا تھا۔ لیکن مجھے تو وہ گریڈوں سے بالاتر لگا۔ابھی سوچ ہی رہے تھے ایک قریبی ٹولی میں سے شور اٹھتا سنائی دیا۔ قریب گئے تو دیکھا کہ ایک ٹولی میں پچاس ساٹھ بکرے زمین پر تقریباً نیم دراز ہیں اور ایک نحیف سا بکرا ایک نسبتاً اونچی جگہ پر بیٹھا لہک لہک کر کچھ پڑھ رہا ہے اور باقی کے بکرے بڑھ بڑھ کے داد دے رہے ہیں۔ وہی غم جاناں اور غم روزگار کے قصے! انہوں نے نظم ’محبت میں مینگنی‘ میں محبوب کی ستم کاریوں کا وہ نقشہ کھینچا کہ بکرے آبدیدہ ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انکے بعدہفتوں سے فاقہ کش ایک منحنی سے بکرے نے اپنی تازہ نظم ’میرے’چارا‘ گر کو خبر کرو‘ ترنم سے سنائی تو انقلاب کے بگل بجتے سنائی دینے لگے۔

انقلاب ابھی آنے کو ہی تھا کہ شاعر کی نظر پاس سے گزرتی ہوئی ایک چارے کی ریڑھی پر پڑی تو وہیں سے چھلانگ لگائی اورلٹکتے ہوئے ٹانڈے کھینچ کھینچ کر چبانے لگے۔ بعدازاں ایک لحیم شحیم بکرا سٹیج پر آیا اور خمریات سے وہ ماحول باندھا کہ عبدالحمید عدم کی یاد تازہ ہو گئی۔سنا ہے اس کے بعد خمریات پر پابند ی عا ید کر دی گئی کہ بکرے کہیں اخلاق وحواس باختہ لطف اندوزیوں میں ملوث ہوکر چار روزہ زندگی کو انجوائے نہ کر جائیں۔مختصر یہ کہ بکرا توجو خریدنا تھا خرید لیا لیکن اس سے بڑھ کر بکروں کی دنیا سے جوتعارف ہوا اس کا جواب نہیں۔ ان کے نظریات و خیالات، اندازو اطوار،عشوے و غمزے دیکھ کر یہ کہنا پڑا ’یہ بکرے تو بہت حضرت نکلے ہم یونہی ان کو اللہ میاں کی گائے سمجھتے رہے!‘

ہیں بکرے کچھ نظر آتے ہیں کچھ

دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

مزید :

رائے -کالم -