ریاست کا بوجھ؟

ریاست کا بوجھ؟
ریاست کا بوجھ؟

  

یہ جناب شہباز شریف خادم اعلیٰ کا زریں خیالات میں سے ایک خیال تھا کہ صوبہ کی انتظامی مشینری ٹھیکیداری نظام کے اصولوں پر چلائی جائے، ان کا خیال تھا کہ ریاست کو مستقل ملازمین کی ضرورت نہیں ہے،شاید اِس لئے کہ اگر کسی ملازم کو آئینی اور قانونی تحفظ حاصل ہو گا تو اسے یہ کہنے میں حکمران مشکل محسوس کریں گے کہ ہم ناں سننے کے عاد ی نہیں ہیں، جیسا کہ ایک اعلیٰ عہدیدار کو حمزہ شہباز نے باقاعدہ تحریری طور پر مطلع کر دیا تھا، اس کے باوجود وہ افسر اب تک نیب کا ظلم بھی سہہ رہا ہے۔ان دِنوں سابق گورنر سٹیٹ بنک عشرت حسین کے انتظامی امور کے حوالے سے سفارشات کا تذکرہ چل رہا ہے یہ سفارشات دراصل تنخواہوں اور پنشن کے بارے میں قائم کئے گئے ایک کمیشن کے حوالے سے زیر بحث ہیں، ان سفارشات میں ریٹائرمنٹ کی عمر55سال متعین کرنا بھی ہے۔ سرکاری ملا زم کو اب تک کی طے شدہ عمر سے پانچ سال قبل ریٹائر کرنا ہے۔ ریاست کا بوجھ دراصل چھوٹے درجے کے ملازمین کی تنخواہوں کو سمجھا جاتا ہے۔ اگر حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ پنشن اور تنخواہوں میں اضافہ کا مسئلہ دراصل اعلیٰ سول ملازمین کی سہولتوں اور آسائشوں پر اُٹھنے والے اخراجات کو عوام کی نظر سے اوجھل کرنے کی ایک کوشش ہے۔

ریاست کے بعض ادارے ہر قسم کے احتساب اور مالی جانچ سے آزاد تصور کئے جاتے ہیں اور وہ اسی ریاست پر اپنی اہمیت کے سبب خود اپنے آپ کو احتساب اور مالی ڈسپلن سے آزاد تصور کرتے ہیں۔ اعلیٰ سول ملازمین کی کارکردگی اگر بہتر ہوتی تو ریاست پر ملازمین کا بوجھ ہی محسوس نہ ہوتا۔ مثلاً اگر ایف بی آر کے اعلیٰ حکام اپنے محکمہ کی کرپشن کو ختم کرنے کا کام کرتے اور افسر رشوت کی بجائے ٹیکس اکٹھا کرنے کو ضروری خیال کرتے تو ٹیکس کی مد میں اتنی رقم اکٹھی کی جا سکتی ہے کہ ٹیکس کے اہداف پورے ہو سکیں۔ انتظامی مشینری نے گذشتہ برس سے صرف اپنی آسائشوں اور مراعات کو ریاست کے تمام امورپر ترجیح دی ہے۔یہ محض اتفاق بھی ہے کہ ہر وزیراعلیٰ، سرکاری ریاستی ملازمین کے معیارِ زندگی میں ہوش ربا تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔گاڑیوں کے نئے ماڈل اور ان کی رنگا رنگی ہر سال بدلتی رہتی ہے۔ کبھی صرف عام گاڑیاں سرکاری ملازمین کے استعمال میں تھیں، اب نہایت قیمتی پراڈو اور بڑی لیموزین استعمال ہوتی ہیں۔ کیا جنوبی ایشیا کے دوسرے ممالک میں سرکاری افسر ایسی پُرتعیش گاڑیوں اور طرزِ زندگی کا تصور بھی کر سکتے ہیں۔ ریاست کے اخراجات میں اضافہ ہو رہا ہے اور بدقسمتی سے یہ اضافہ انتظامی امور پر نہیں،بلکہ افسروں کی ذاتی زندگی میں مراعات سے ہے۔

اوقات کار کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، وہ اپنی مرضی سے جب چاہتے ہیں دفتر آتے ہیں، جب جی چاہتا ہے گھر سے احکامات جاری کر دیتے ہیں، چھوٹے ملازمین بھی اوقات کار کے پابند نہیں مگراُن کے حالات کار بھی مناسب نہیں ہیں۔ تیسرے افسروں کے لئے خدمت گار موجود ہیں اور اتنے خدمت گار کہ اگر وہ ریاستی اور سرکاری کام کے لئے استعمال کئے جائیں تو دفتری معاملات میں کئی گنا بہتری آ سکتی ہے۔دُنیا کے کسی ملک امریکہ، برطانیہ، بھارت، چین،اورروس میں سرکاری افسروں کے دفتروں اور گھروں میں خدمت گاروں کی اتنی بڑی تعداد موجود نہیں ہو گی، جس قدر خدمت گاروں کے عادی اس مقروض اور غریب ملک کے اعلیٰ افسرہیں، جبکہ ان کی کارکردگی اس حقیقت سے دیکھی جائے کہ پاکستان کے پہہلے دور میں سرکاری مشینری کی کس قدر فعا ل تھی اور اب کس قدر فعال ہے۔ ریاست میں حالات کار ہی بہتر گورننس کے مظہر ہوتے ہیں اور کارکردگی بھی اسی میں نظر آتی ہے۔ سرکاری دفتروں کا حال ہمارے سامنے ہے، کئی کئی برس تک ان میں سفیدی نہیں ہوتی، گندگی چاروں طرف نظر آتی ہے۔ ہال روڈ پر واقع ایجوکیشن دفتر کا چکر لگائیں، آپ کو ہر طرف ویرانی اور عمارت بھوت بنگلہ اور گندگی سے اٹی ہوئی ملے گی، لیکن افسروں کے کمرے آپ کو پُرآسائش نظر آئیں گے۔ اعلیٰ افسروں نے کبھی اس قدر تکلیف ہی گوارا نہیں کی کہ وہ خود اپنے دفتر کی عمارت کا چکر لگائیں اور دیکھ لیں کہ چھوٹے ملازمین کس حال میں کام کر رہے ہیں۔

محکمہ تعلیم کے دفتر کا محض حوالہ ہے، ہر سرکاری دفتر کا یہی حال ہے۔ اگر ریاست کے کام مطلوبہ معیار کے مطابق اور وقت کے ساتھ طے پاتے رہیں تو سرکاری ملازم ریاست پر بوجھ نہیں رہیں گے۔ پاکستان کی کسی بھی حکومت نے حتیٰ کہ سیاسی جماعتوں نے بھی ریاست کے انتظامی ڈھانچہ کو جمہوری بنانے کی کوشش نہیں کی،کسی بھی ملک میں جمہوریت کی بنیاد بلدیاتی ادارے ہوتے ہیں۔لندن کا میئر اور نیو یارک کا میئر اپنے علاقوں میں وزیراعظم برطانیہ اور امریکہ کے صدر سے زیادہ اختیارات کے حامل ہیں۔مقامی حکومتیں ریاستی مشینری پر کم اور منتخب عوامی نمائندوں کے اختیارات پر چلتی ہیں اور ان کی کوئی تنخواہ مقرر نہیں ہوتی۔ یہ ترقیاتی کاموں کے خود نگران ہوتے ہیں، وہاں کسی ڈپٹی کمشنر کو مالیاتی اختیارات حاصل نہیں ہوتے، اسے صرف انتظامی مشینری چلانی ہوتی اور اس پر وہ ضلعی شہری حکومت کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کی ریاستی مشینری کسی عوامی منتخب ادارے کے سامنے جوابدہ ہونا پسند نہیں کرتی۔

حقیقت میں بے چارے عوامی نمائندے ہی ریاست کے سامنے ہمیشہ جوابدہ ہوتے ہیں۔بجٹ سرکاری ملازم بناتے ہیں، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اسے پیش کرنے کا فرض عوامی نمائندے ادا کرتے ہیں۔کبھی کسی وزیر خزانہ نے بجٹ بنانے کا کام کیا ہے یا بجٹ کی تیاری کے دوران عوامی نمائندوں سے رائے لی جاتی ہے۔ پاکستان کی ریاست کے وسائل کی تقسیم پر ایک بار پھر بحث چل نکلی ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کا معاملہ بھی دراصل اسی بحث کا ایک حصہ ہے۔غریب سرکاری ملازم اور اس کی پنشن ریاست پر بوجھ نہیں ہے،ریاستی مشینری کی نااہلی اور عوامی مسائل سے مکمل چشم پوشی اور بری کارکردگی اس پر بوجھ ہے اور اس بوجھ کا خاتمہ صرف اور صرف عوامی نمائندوں کو بااختیار بنانے سے ممکن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -