معاشی افلاس اور ہماری ذہنی پسماندگی

معاشی افلاس اور ہماری ذہنی پسماندگی
معاشی افلاس اور ہماری ذہنی پسماندگی

  

پاکستان میں مون سون تباہی کا پیغام لے کر آتا ہے حالانکہ برسنے والا پانی آب حیات کا درجہ رکھتا ہے لیکن شرط ہے کہ ہم اسے آب حیات بنا سکیں یورپ نے سانپ کے زہر کو تریاق بنا کر سانپ کی ہلاکت خیزی کو حیات آفرینی میں تبدیل کر لیا ہے چینی قوم نے بچھو کو بھی ایسے ہی کارآمد بنا کر ہمارے جنگلات میں صحراؤں میں رینگنے والوں کو قیمتی بنا دیا ہے اطلاعات کے مطابق چینی چھوٹے بڑے بچھوؤں کو 20 ڈالر سے لے کر 200 ڈالر تک خریدتے ہیں۔ ہمارے گدھے بھی اپنی افادیت کے باعث چینی ڈالروں میں خریدتے رہے ہیں اصل بات شے کی اہمیت، اس کے استعمال کرنے والے کے ذوق اور فہم و فراست پر ہے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں انتہائی قیمتی قدرتی گیس کا عظیم الشان ذخیرہ دیا ہے ہم اس نعمت کو گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، بسوں اور گھر میں کھانا پکانے، گیزر چلانے اور آگ سینکنے میں برباد کر رہے ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک اس گیس سے کھادیں اور دیگر قیمتی کیمیائی پراڈکٹس بناتے ہیں اور دولت کماتے ہیں جبکہ ہم ابھی تک گیس کا پریشر ہی متوازن نہیں کر سکے، اسرائیل مشرق وسطیٰ میں ”پانی گھر“ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اس نے صحرائے نیگو میں سمندری پانی کو صاف کر کے پینے کے قابل بنانے کا دیو ہیکل پلانٹ لگا رکھا ہے سمندری پانی کو صاف کر کے ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ یہ ا نسانی فہم و فراست کا کمال ہے کہ ناکارہ اشیاء کو قابل استعمال بنایا جائے اور اس طرح قدرت کے خزانے سے استفادہ کیا جائے۔

پانی زندگی ہے زندگی پانی سے ہے انسانی تخلیق پانی سے ہے۔ مائع قطرے سے انسان کو پیدا کیا گیا ہے اس کے جسم میں پانی بنیادی حیثیت رکھتا ہے اس میں 3/4 حصے پانی پایا جاتا ہے اس سے بھی ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ کارخانہ قدرت میں پانی کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہمیں وہ خطہ ارض عطا کیا ہے جہاں چار موسم بھی ہیں مون سون کی بہاریں بھی ہیں۔ سورج کی روشنی بھی بے بہا ہے زرخیز زمین بھی ہے کہ ان سے کماحقہ فائدہ اٹھائیں۔ ہم غربت اور بے روز گاری کا شکار ہیں، افلاس ہمارا مقدر کیوں ہے ماہرین نے تجربات سے یہ بات ثابت کی ہے کہ غربت و افلاس اصل مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اور مسئلے کا نتیجہ ہوتا ہے اور وہ مسئلہ ذہنی افلاس ہے۔ پہلے ذہنی افلاس پیدا ہوتا ہے جو معاشی و سماجی غربت و افلاس کو جنم دیتا ہے ہم در اصل ذہنی افلاس کا شکار ہیں ہم نے یہ طے کر رکھا ہے کہ ہم نے غربت افلاس اور بے روز گاری سے لڑنا نہیں ہے ہم ہر شے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے بری ہو جاتے ہیں حکمران کون ہیں؟ ہمارے ہی بھائی بند ہیں۔ یہ سب کہاں سے آئے ہیں؟ ہم میں سے ہی ہیں ہمارا بحیثیت مجموعی، بحیثیت قوم رویہ افلاس پر مبنی ہے ہم خود ترسی کا شکار ہیں۔

ہم آبادی میں اضافے کو روکنے کے لئے کوشاں ہیں نصف صدی سے شرح آبادی پر قابو پانے کے لئے کوشاں ہیں۔ کبھی بہبود آبادی کا محکمہ بنا کر ہم سمجھتے ہیں کہ آبادی پر کنٹرول کر کے خوشحال ہو جائیں گے، آ ج کل آبادی روکنے کے لئے کمپنیاں بنانے کے تجربے کر رہے ہیں پنجاب پاپولیشن انووینشن فنڈ (PPIF) کی صورت میں ایک کمپنی قائم کی گئی ہے جس کے سربراہ چیف آپریٹنگ آفیسر جواں سال تجربہ کار افسر جواد قریشی ہیں یہ چیف سیکرٹری پنجاب جاوید قریشی کے صاحبزادے ہیں جاوید قریشی مرحوم ایک نیک نام اور کہنہ مشق بیورو کریٹ تھے باپ کی طرح جواد قریشی بھی ذہین اور کار آمد بیورو کریٹ ہیں 4 سال تک Tevta میں بطور چیف آپریٹنگ آفیسر خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں نتائج پیدا کرنے کے اعتبار سے نیک نام ہیں لیکن ”پیدائش کو روکنا“ ان کے بس کی بات نظر نہیں آتی۔ ویسے ہم اگر دیکھیں تو آبادی بھی ایک نعمت ہے چین کو دیکھ لیں انہوں نے آبادی کے بل بوتے پر بھی عظمت کی منازل طے کی ہیں۔ چینیوں کا کہنا ہے کہ اگر ایک انسان کھانے کے لئے ایک منہ لئے پیدا ہوتا ہے تو وہ کام کرنے کے دو ہاتھ بھی ساتھ لے کر آتا ہے چینیوں نے ایک کھانے والے منہ کو بند کرنے کی بجائے کام کرنے والے دو ہاتھوں کو استعمال کیا اور دنیا کی سپر پاور بننے کا ارادہ کیا وہ ذہنی مفلسی کا شکار نہیں ہوئے یہی وجہ ہے کہ عالمی اداروں کی تحقیقات کے مطابق وہ 2025ء میں دنیا کی سپریم معاشی طاقت بن جائیں گے، ہم آبادی پر قابو پانے کے چکر میں موجودہ آبادی کو بھی کارآمد نہیں بنا سکے۔ ہماری معیشت منفی گروتھ کی سطح پر جا چکی ہے جبکہ ہمارے ہم عصر ممالک تعمیر و ترقی کی منازل طے کرتے کرتے اعلیٰ مقام پر فائز ہو چلی ہیں۔

رب صرف ہمارا ہی نہیں، سب کا ہے وہ ”رب المسلمین“ نہیں بلکہ ”رب العالمین“ ہے ہر سال 25 لاکھ یا اس سے زیادہ حجاج اب کعبہ کے حضور پیش ہو کر ”یہودیوں کی توپوں میں کیڑے ڈالنے کی دعائیں کرتے ہیں لیکن یہودی چھا رہے ہیں دنیا کی فیصلہ سازی میں ان کا حتمی کردار ہے ہمارا قبلہ اول نہ صرف ان کے قبضے میں ہے بلکہ وہ اسے گرا کر اپنا ”تھرڈ ٹمپل“ تعمیر کرنے کا اعلان کر چکے ہیں حالات و احوال یہ بتا رہے ہیں کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں ہم صرف احتجاج اور بیان بازی تک محدود ہیں۔ قدرت کی لا محدود نعمتیں اور برکتیں اس کے بندوں کے لئے دستیاب ہیں جو بھی آگے بڑھ کر انہیں تھام لے۔

2010 ء میں تاریخی سیلاب نے ہمارے میدانی علاقوں کو تباہ و برباد کر دیا۔ کھڑی فصلیں برباد ہو گئیں کروڑوں ڈھور ڈنگر اور لائیو سٹاک تباہ ہو گیا۔ حد تو یہ ہے کہ آئندہ فصل کے لئے ذخیرہ کردہ بیج بھی سیلاب کی نذر ہو گئے ایسے لگتا تھا کہ ہم قحط سالی کا شکار ہو جائیں گے لیکن ہم نے ہمت باندھی، تھوڑی سی کاوشیں کیں، اللہ کا نام لے کر آگے بڑھے۔ اللہ رب العزت نے برکت ڈالی اگلے سال بمپر کراپ ہوئی۔ ہمارے ملک میں ایک دن کے لئے بھی دودھ، گوشت، انڈوں وغیرہ کی قلت نہیں ہوئی۔

سرکاری اعداد و شمار کا ریکارڈ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ سیلاب نے ایک طرف حقیقی تباہی مچائی لیکن ہماری کاوشوں میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے برکت ڈالی اور ہم نہ صرف مشکلات سے نکل آئے بلکہ خوشحالی کے حقدار قرار پائے اللہ رسول اور اللہ کے کسی مظہر کو نہ ماننے والی قوم (چینی) اگر ترقی کے اعلیٰ مناصب پر فائز ہو رہی ہے تو اس کا واحد باعث ان کی ”ذہنی امارت“ اور قوانین قدرت کی پابندی ہے۔ ہمارے بعد آزاد ہونے والی قوم نے طویل منصوبہ سازی پر عمل کر کے اپنے آپ کو قدرت کی نعمتوں کا حقدار بنایا ہے۔ یہودی جنہیں ہم اللہ کی نافرمان قوم سمجھتے ہیں اور وہ ہیں بھی فرمان الٰہی بھی ایسا ہی کہتا ہے کہ ان کی نافرمانیوں کے باعث انہیں راندہ درگاہ قرار دے دیا گیا ہے لیکن جب انہوں نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ سے رجوع کیا تو اللہ نے انکی 2500 سالہ جلا وطنی کو ختم کیا اور انہیں ایک ریاست اسرائیل عطا کی،آج ہم دیکھتے ہیں کہ چھوٹی سی ریاست اسرائیل عالمی معاملات میں حاکم کے درجے پر فائز ہو چکی ہے، ہم اپنی راہ کھوٹی کر چکے ہیں جس کے باعث ہم سب کچھ ہونے کے باوجود ذلت و نامرادی کا شکار ہیں ہمیں سب سے پہلے ”ذہنی پسماندگی“ اور ”سوچ کی غربت“ کو ختم کرنے کا بندوبست کرنا ہوگا۔ پھر ہمارے معاشی و معاشرتی مسائل کے خاتمے کے سفر کا آغاز ہوگا۔ وگرنہ مکمل تباہی و بربادی ہمارا مقدر بننے جا رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -