پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر کنٹرول پر وگرام جلدلانچ ہوگا: کامران خان بنگش

  پاکستان کا پہلا بریسٹ کینسر کنٹرول پر وگرام جلدلانچ ہوگا: کامران خان بنگش

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و بلدیات کامران خان بنگش نے منگل کوسول سیکرٹریٹ میں محکمہ اطلاعات کے اطلاع سیل میں چھاتی سرطان آگاہی بارے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی نے چھاتی سرطان سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرکے اس کے تحت پاکستان کا پہلا کینسر پروگرام بنانے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن، خیبر پختونخوا اسمبلی اور حکومت خیبر پختونخوا کی جانب سے ترتیب شدہ اس آگاہی پریس کانفرنس میں ممبر صوبائی اسمبلی عائشہ بانو اور پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کی صدر ڈاکٹر صائمہ بھی موجودتھیں۔ پریس کانفرنس کے آغاز میں معاون خصوصی کامران خان بنگش کا کہنا تھا کہ آج ہمارے میڈیا کے دوست عارف یوسفزئی کے گھر ناقابل تلافی سانحہ پیش آیا، اللہ تعالی ان کو اور ان کے خاندان کو صبر وجمیل عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ میڈیانمائندگان سمیت تمام انسانیت کو ایسے سانحے کے وقوعہ سے بچائے۔ چھاتی سرطان جیسے جان لیوا مرض سے متعلق معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوااسمبلی نے چھاتی سرطان کے سد باب اور اس کی تشخیص بارے قرارداد پاس کئے جس کی روشنی میں خیبر پختونخوا ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے دو کمیٹیوں کو نامزد کردیا ہے۔جو صوبے میں اپنی نوعیت کے پہلے سرطان کنٹرول پروگرام کیلئے لائحہ عمل طے کریگی۔ پبلک ہیلتھ ایسو سی ایشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کامران خان بنگش کاکہنا تھا کہ بریسٹ کینسر کے تدارک کیلئے ہماری حکومت کی پوری حمایت پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن کے ساتھ ہے اور چھاتی سرطان سے متعلق آگاہی کیلئے محکمہ اطلاعات کی خدمات ہمیشہ دستیاب ہونگیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نشتر آباد میں بننے والا ہسپتال اصل میں انسٹیٹیوٹ آف ہیپٹالوجی اور بریسٹ کینسر ہے جس کی فعالی پر کرونا وبا کے بعد کام تیز کیا جائیگا۔صدر پبلک ہیلتھ ایسوسی ایشن ڈاکٹر صائمہ عابد نے چھاتی سرطان کے ممکنہ خطرا ت با رے آگاہ کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ یہ سرطان خواتین میں اموات واقع ہونیکی سب سے بڑی وجہ ہے لیکن اس کے سدباب کیلئے اسمبلی سے قرارداد کی منظوری لائق تحسین ہے۔ڈاکٹر صائمہ عابدکے مطابق پاکستان میں اس وقت دس ملین خواتین کو چھاتی کے سرطان کا خطرہ ہے اور ہرسال چالیس ہزار خواتین اس کینسر سے موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں۔خیبر پختونخوا میں ہر سال پندرہ ہزار خواتین میں چھاتی سرطان کی تشخیص ہوتی ہے جس سے زیادہ تر خواتین علاج نہ کرسکنے کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار جاتی ہیں۔چھاتی سرطان بارے ان کا کہنا تھا کہ اس کینسر کے فرسٹ اور سیکنڈ سٹیج سے ر یکوری ممکن ہے اور یہ صرف خواتین نہیں بلکہ مردوں میں بھی تشخیص ہوسکتا ہے اور ایک فیصد مردوں میں بھی اس کی تشخیص ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں پاکستان کا پہلابریسٹ کنٹرول پروگرام لانچ ہونے جارہا ہے۔ خواتین اس سرطان سے متعلق معلومات فراہم کرنے میں جھجک محسوس کرتی ہیں اور اس بارے بڑے پیمانے پرآگاہی کمپین چلانے کی اشد ضرورت ہے۔ کینسر کے اعداد و شمار سے متعلق بات کرتے ہوئے ڈاکٹر صائمہ عابد کا کہنا تھا کہ کینسر رجسٹری سرکاری سطح پر نہیں ہے، جو اب اس قرارداد کے تحت بنے گی اورکینسر کی تشخیص اور سدباب سے متعلق صحیح اعداد و شمار کی فراہمی ممکن ہوسکے گی۔ ان کے مطابق یہ بیماری موروثی بھی ہوسکتی ہے، شعاعوں سے بھی لگ سکتی ہے۔موٹاپا اور ہارمونل بد انتظامی بھی اس کا موجب ہوسکتی ہے جبکہ بچوں کو اپنادودھ پلانے سے اس کینسر سے کافی حد تک بچا جاسکتا ہے۔ قرارداد پیش کرنے والی ممبر صوبائی اسمبلی عائشہ بانو نے میڈیا کو بتایا کہ پبلک ہیلتھ ایسو سی ایشن نے اسمبلی کے مردوخواتین ممبران کو چھاتی کینسر بارے ترغیب دیاور تمام ممبران نے بغیر کسی اعتراض کے اس قرارداد کی منظوری دی۔ اس قراردادکے تحت صوبے میں بریسٹ کینسر کنٹرول پروگرام ترتیب دیا جارہا ہے جس سے صوبے کے ہسپتالوں میں بریسٹ کینسر کی تشخیص اور علاج کیلئے ٹیکنیکل کمیٹی پلان تر تیب دے گی جبکہ بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی اور ابتدائی سٹیج پر اس کی تشخیص بھی یقینی بنائی جائیگی۔ عائشہ بانو کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سات جولائی کو قرارداد پاس ہوچکی ہے جبکہ بیس دن کے اندر اندر دونوں کمیٹیوں کی نامزدگی بھی ہوچکی ہے جو کہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کریگی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -