دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور

دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار ملزم کی ضمانت منظور

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاور ہائیکورٹ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے تعلق اور دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام میں گرفتار جمرود کے رہائشی ملزم صہیب خان کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کر دیئے پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور نے کیس کی سماعت کی ملزم کی جانب سے کیس کی پیروی دانیال اسد چمکنی ایڈوکیٹ نے کی استغاثہ کے مطابق ملزم پر الزام تھا کہ حیات آباد میں پولیس نے 13 مئی 2020 میں اسے ہینڈ گرینیڈ رکھنے اور مبینہ طور پر کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے تعلق کے الزام میں گرفتار کیا اور اسکے خلاف دھماکہ خیز مواد رکھنے اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ملزم کی ضمانت درخواست انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے خارج کردی دوران سماعت ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اس کا موکل اس کیس میں بے گناہ ہے اور اس کے موکل کو اپریل 2020 میں اس کے گاؤں جمرود سے وردی میں ملبوس سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اٹھا کرلے گئے اور بعد میں اسے اس مقدمہ میں گرفتار ظاہر کردیا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے پولیس نے ایف ایس ایل رپورٹ نہیں بھیجی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ابھی تک پولیس کو ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ثابت ہو کہ ملزم تحریک طالبان کے نام پر رقم لیتا تھا یا اس کیلئے کام کرتا تھا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ ایک لاپتہ افراد کا کیس ہے اور صرف ملزم کے کیس میں خود کو بچانے کیلئے پولیس نے اس کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ابھی تک پولیس کو کسی قسم کی یہ شکایت نہیں ملی کی ملزم نے کسی سے بھتہ لیا ہو یا اس کے خلاف دیگر کوئی ٹھوس شواہد موجود ہے جو گرینیڈ اس سے برامد ہوا ہے اس سے متعلق ایف ایس ایل کی رپورٹ بھی موجود نہیں کہ آیا یہ کارآمد بھی تھا یا نہیں دوسری جانب سرکار کے وکیل نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کی استدعا مسترد کرنے کے حق میں دلائل دیئے اور موقف اختیار کیا کہ ملزم کالعدم تنظیم کے نام پر لوگوں سے بھتہ وصول کرتا تھا اور دھماکہ خیز مواد بھی ملزم سے برامد ہوا ہے عدالت نے ملزم کی ضمانت پر رہائی کے احکامات جاری کر دیئے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -