صوابی کی مرکزی بس سٹینڈ میں کرپشن عروج پر ہے،نورل خان

صوابی کی مرکزی بس سٹینڈ میں کرپشن عروج پر ہے،نورل خان

  

صوابی(بیورورپورٹ) اصلاحی جر گہ ضلع صوابی کے نائب صدر نور ل خان نے کہا ہے کہ ضلع صوابی کے مرکزی بس سٹینڈ واقع صوابی سٹی,میں اس وقت صوبہ خیبرپختونخواہ کی سطح پر مبینہ کرپشن ہو رہی ہے۔ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن صوابی کی ملی بھگت سے جنرل بس سٹینڈ صوابی کے ٹھیکہ دار ٹرانسپورٹرز سے شیڈول ریٹ کے برعکس تقریباً 300 گناہ زیادہ ناجائز ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ جنرل بس سٹینڈ کی اراضی، ایگریمنٹ کے مطابق نہیں، سرکاری دستاویزات میں جنرل بس سٹینڈ کی زمین زیادہ لکھی گئی ھے اور حقیقت میں بلدیہ صوابی کے پآس قبضہ کم ھے,اسی طرح جنرل بس سٹینڈ صوابی سے ملحقہ دکانوں,چابڑیوں اور ریڑھیوں سے کرایہ ٹی ایم اے صوابی کو وصول کرنا چاہئے۔ کیونکہ انہوں نے اراضی مالکان سے مذکورہ زمین لیز (اجارہ) پر لی ہے۔ اس لئے قانوناً ان ہی حق ہے کہ وہ کرایا وصول کریں اور سرکاری خزانے میں جمع کریں لیکن اراضی مالکان گزشتہ کئی سالوں سے ٹی ایم اے صوابی کی ملی بھگت سے یہ کرایا بھی ناجائز طور پر لیتے ہیں۔ اسی طرح جنرل بس سٹینڈ صوابی میں ٹرانسپورٹرز سے ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے مقرر کردہ اڈہ فیس کے بجائے 300,% زیادہ '' جگا '' ٹیکس وصول کیا جاتا ہے۔ ٹی ایم اے صوابی کی انتظامیہ جواز پیش کرتی ہے کہ مذکورہ شیڈول ریٹ سابقہ تحصیل اسمبلی صوابی نے پاس کیا تھا اس لئے وہ بہ امر مجبوری یہی ریٹ وصول کر رہے ہیں۔ جبکہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی خیبرپختونخواہ کا اس بارے میں مؤقف مختلف ہے۔ جنرل بس سٹینڈ صوابی کے ٹھکیدار،سٹینڈ میں موجود ٹرانسپورٹرز کو من پسند نمبر (ٹاپی) لاکھوں روپے پر فروخت کرتے ہیں۔ جو کہ قانوناً جرم ہے۔ اس کیلئے باقاعدہ ٹی ایم اے صوابی اجازت نامہ دیگی اور گاڑیوں کے آمدورفت کیلئے نظام بھی بلدیہ بنائے گی۔ اس سلسلے میں '' ٹی او آرز '' حکومت مرتب کرے گی,مذکورہ '' ٹاپی نمبر '' خالصتاً من مانی اور جنرل سٹینڈ صوابی کے ٹھیکیداروں کی جیب گرم کرنے کا ذریعہ ہے اور حکومتی خزانے کو سراسر نقصان پہچانے کا طریقہ ہے۔ٹی ایم اے صوابی کی انتظامیہ,جنرل بس سٹینڈ کے ٹھیکیداروں کی پشت پناہی کرتی ہے اور مسلسل گورنمنٹ ریونیو کم کرکے ادارے کا خسارہ کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسی جنرل بس سٹینڈ کے زیرِ نگرانی دیگر ٹرانسپورٹ,رکشہ,موٹر کار,لوڈر وغیرہ کا شیڈول بھی ٹی ایم اے صوابی کی ایڈمنسٹریشن کی غفلت اور مبینہ طور پر رشوت خوری کی وجہ سے جنرل بس سٹینڈ کے یہی کرپٹ ٹھیکیدار خود مرتب کرتے ہیں اور جس کو جسطرح چاہا '' حلال '' بھی کردیتے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز سے جب جنرل بس سٹینڈ کے بدمعاش ٹھیکیدار زیادتی کرتے ہیں۔تو پھر وہ عام مسافروں پر اس کا بوجھ ڈالتے ہیں اور ان سے زیادہ کرایا وصول کرتے ہیں اور اس طرح روزانہ,لڑائیاں ہو تی ہیں۔جنرل بس سٹینڈ صوابی میں مسافروں سمیت ٹرانسپورٹرز (ڈرائیورز) کیلئے کوئی مناسب بندوبست بھی نہیں,سٹینڈ میں '' ٹک شاپ '' سمیت لیٹرین اور معیاری انتظار گاہیں بھی موجود نہیں,کڑوڑوں روپے ٹیکس اور مذکورہ اڈہ کی سالانہ نیلامی کے باوجود جن کی وجہ سے جنرل بس سٹینڈ قائم ہے۔ ان کیلئے کسی قسم کا ریلیف نہیں,ٹی ایم اے صوابی اور جنرل بس سٹینڈ کے ٹھیکیدار برسوں سے یہی گیم کھیل رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن صوابی سمیت صوبائی حکومت نے بھی کھبی اس ضمن میں ایکش نہیں لیا, جنرل بس سٹینڈ صوابی کی اراضی ایسے افراد کی ملکیت ہے جو ہر حکومت کا حصہ ہو تے ہیں۔ اکثر یہ اراضی مالکان,جنرل بس سٹینڈ کا ٹھیکہ بھی لیتے ہیں۔ اور اگر کھبی وہ ناکام ھوجائیں تو پھر دوسرے ٹھیکیداروں کو صحیح کام نہیں کرنے دیتے, جنرل بس سٹینڈ صوابی کی تباہی کی اصل ذمہ دار درحقیقت صوبائی حکومت اور خصوصاً ٹی ایم اے صوابی ھے,بلدیہ صوابی میں جو بھی آفسر تعینات ھوتا ھے وہ جنرل بس سٹینڈ صوابی کے معاملے میں '' آپاہج '' ہو جاتا ہے۔ وہ بہتی گنگا میں ہاتھ دہوتا ہے۔کیونکہ سب کو پتہ ھے کہ جنرل بس سٹینڈ ایک مافیا کی صورتحال اختیار کرچکا ھے,ٹرانسپورٹرز (گاڑیوں کے مالکان) اگر احتجاج یا کسی فورم پر آواز بھی اٹھا لیں تو یہی مافیا ان کے خلاف ھوجاتا ہے۔ ان کی گاڑیوں کا داخلہ جنرل بس سٹینڈ میں بند ہو جاتا ہے۔ ڈرائیورز کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور حق حلال روزی کمانے سے روکا جاتا ہے۔ ضلع صوابی کی سماجی,سیاسی تنظیموں سمیت یہاں سے منتخب ممبران اسمبلی,سینٹرز اور میڈیا کے نمائیندے بھی اس ایشو پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی نے کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی,عام لوگ بھی شاید اس لئے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں۔ کہ ان کی کون سنے گا؟ ڈپٹی کمشنر صوابی,جو کہ اس ضلع کے چیف ایگزیکٹیو ہیں۔ان پر لازم ھے کہ وہ جنرل بس سٹینڈ صوابی میں ھونے والی سرعام کرپشن اور بد انتظامی کا فوری نوٹس لیں,اس سلسلے میں غیر جانبدار تحقیقات کریں اور ترجیحی بنیادوں پر ایکشن لیں

مزید :

پشاورصفحہ آخر -