سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے ”ٹارچراینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ بل منظور کرلیا

سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی نے ”ٹارچراینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ بل منظور کرلیا

  

 اسلام آباد(آئی این پی) سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ”ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ (پریوینشن اینڈ پنشمنٹ)بل منظور کر لیا،بل کے مطابق دوران حراست تشدد کرنے پر تین سال تک قید اور بیس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا،تشدد روکنا جس کی ذمہ داری ہے، اگر وہ تشدد روکنے میں ناکام ہو تو اسے پانچ سال تک قید، دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا،دوران حراست موت یا جنسی زیادتی پر قانون کے مطابق سزا، تیس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا،خاتون کو کوئی مرد حراست میں نہیں رکھے گا،تشدد کے ذریعے لیا گیا بیان ناقابل قبول ہو گا۔کمیٹی نے بچوں کی گھریلو مشقت کو خطرناک مزدوری قرار دینے کا نوٹیفیکشن جاری نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے معاملے پر وزارت قانون اور سیکرٹری داخلہ کو طلب کر لیا۔منگل کو سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین کمیٹی مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں بچوں کی گھریلو مشقت کو خطرناک مزدوری قرار دینے سے متعلق معاملہ زیر غور آیا،بچوں کی گھریلو مشقت کو خطرناک مزدوری قرار دینے کا نوٹیفیکشن جاری نہ ہونے پر کمیٹی نے برہمی کا اظہار کیا، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا کہ بچوں سے گھریلو مشقت کو خطرناک مزدوری قرار دینا ہے،لیکن تاحال بچوں کی گھریلو مشقت کو خطرناک مزدوری قرار دینے کا نوٹیفیکشن جاری نہیں ہوا،اس نوٹیفیکیشن کے بعد 14 سال سے کم عمر بچے کو گھریلو مشقت کے لیئے ملازم نہیں رکھا جا سکے گا،یہ ایگزیکٹو کا فیصلہ ہے لیکن اس پر عملد درآمد نہیں ہو رہا۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ وزارت انسانی حقوق نے وزارت داخلہ کو بل کیبنٹ کے فیصلے کے ساتھ بھیجا مگر وزارت داخلہ نے کام نہیں کیا۔ یہ حکومت کا اچھا بل ہے جو ملک کے بچوں کی بہتری کیلئے ہے مگر بیوروکریسی کام کرنے کے بجائے حکومت کے اچھے کاموں کو متاثر کر رہی ہے۔ کمیٹی نے نوٹیفیکشن جاری نہ کرنے کے معاملے پر وزارت قانون اور سیکرٹری داخلہ کو (اج) کمیٹی اجلاس میں طلب کر لیا۔

بل منظور

مزید :

پشاورصفحہ آخر -