وفاقی کابینہ، پٹرول بحران پر کمیشن بنانے کی منظوری،ایک ملین ٹن گندم درآمد کرنے کافیصلہ، چینی کا بحران برداشت نہیں چھاپے مارے جائیں: وزیراعظم

وفاقی کابینہ، پٹرول بحران پر کمیشن بنانے کی منظوری،ایک ملین ٹن گندم درآمد ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی کابینہ نے پٹرول بحران پر کمیشن قائم کرنے کی منظوری دیدی ہے جبکہ ایک ملین ٹن گندم درآمدکا فیصلہ کیا گیا ہے،اجلاس کے شرکاء نے چینی ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کر کے منطقی انجام تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ منگل کے روز وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا،متعدد وزراء نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس 13 نکاتی ایجنڈا پر غورو غوض کیا گیا اور بعد ازاں تمام ایجنڈہ آئٹمزکی منظوری دیدی۔وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،کابینہ اجلاس میں ملکی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی گئی جبکہ کابینہ ارکان کو معاشی اعشاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا گیا،ملکی موجودہ صورتحال اورکورونا وائرس کے باعث ہونے والے نقصان پر بھی بریفنگ دی گئی،میڈیا ہاؤسز کے واجبات کی ادائیگی پر بھی کابینہ کو تفصیلی آگاہ کیا گیا،کابینہ ارکان کو عید سے پہلے مارکیٹوں کی بندش پر اعتماد میں لیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے پیٹرول بحران میں ملوث افراد کو منطقی انجام تک پہنچانے کا اعادہ کیا۔ کابینہ نے پٹرول بحران پر کمیشن قائم کرنے کی منظوری دے دی جس کے مطابق کمیشن کے ممبران اور سربراہ کا تعین جلد کر لیا جائے گا،وفاقی کابینہ کوچینی کی دستیابی کے حوالے سے بریفنگ سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کوکنٹرول کرنے کے اقدامات کوسراہتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو آن لائن قربانی کو ترجیح دینا ہوگی،تدبر، احتیاط اور عوام کے تعاون سے کورونا کیسز میں کمی آئی ہے،کچھ دن مزید احتیاط کرنے سے سب محفوظ ہو جائیں گے،صور تحال بہتر ہونے پر کاروبار دوبارہ کھول دیے جائیں گے،وزیر اعظم نے کابینہ اراکین کوکورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ عید الاضحی اور محرم الحرام میں حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں، عید الاضحی کے دنوں میں عوام گھروں سے باہر ماسک کے استعمال کو یقینی بنائیں۔وزیر اعظم عمران خان نے چینی کے معاملے پرسخت ہدایات جاری کی ہیں،انہوں نے کہا کہ چینی بحران ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا،چینی ذخیرہ کرنے والوں کیخلاف جلد کارروائی کی جائے،ذخیرہ اندوزی کیخلاف چھاپے مارے جائیں گے۔اجلاس کے ب بعد بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا ہے کہ کورونا سے ابھی نکلے نہیں، اوپر سے کراچی کی حالت سب کے سامنے ہیں، بارش کے بعد کراچی کی صورتحال دیکھ کر لگا وہاں کوئی حکومت ہی نہیں لیکن ہم کراچی کے عوام کو سندھ حکومت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے،انکی ہر ممکن مدد کی جائے گی،جن کی سندھ میں اب تک حکومت ہے وہ جواب دیں فنڈز کہاں خرچ ہوئے، پارلیمنٹ میں اس پر بات ہوگی،سندھ حکومت کو اپنی نااہلی تسلیم کرلینی چاہئیے، کورونا کیخلاف اسمارٹ لاک ڈاؤن کی حکمت عملی کامیاب رہی اب عید کے موقع پر عوام ذمہ داری کا ثبوت دیں، اسمگلنگ کرنے والوں نے جان بوجھ کر آٹا اور چینی کو مسئلہ بنایاہے،ملک میں آٹے اور چینی کے ذخائر وافر مقدار میں موجود ہیں،کسی قسم کی کوئی قلت نہیں، وزیراعظم نے ذخیرہ اندوزوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی ہے، عید کے فوراً بعد میڈیا کے بقایاجات کامعاملہ مکمل حل کریں گے،کابینہ میں وزیراعظم نے زور دیا بقایاجات کی ادائیگی ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے،پی پی پی اور ن لیگ کے قول و فعل میں واضح تضاد ہے، ان کی بغل میں چھری اور منہ میں رام رام والی مثال ہے، ان کا کچھ بننا نہیں۔ شبلی فراز نے کہا کہ۔ سندھ میں اداروں اور انفراسٹرکچر پر پوری کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ لگتا ہے کہ جیسے کراچی میں سیوریج کا کوئی نظام ہی نہیں ہے، یہی سندھ حکومت کی بہت بڑی نااہلی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کی تکلیف کا فوری ازالہ کیا جائے۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اسمگلنگ کرنے والوں نے جان بوجھ کر آٹا اور چینی کو مسئلہ بنایاہے، گندم کی طلب میں ڈیڑھ ملین ٹن کی کمی کا سامنا تھا، ڈیڑھ ملین ٹن گندم کی کمی پوری کرنے کیلئے پرائیوٹ سیکٹرز کو اجازت دی گئی ہے سندھ نے سرحد بند کررکھی ہے اور گندم ریلیز نہیں کی جارہی، گندم کی سپلائی اور طلب کا کوئی مسئلہ نہیں ہے گندم اور چینی کے تمام صوبوں میں وافر ذخائر موجود ہیں انتظامیہ کوذخیرہ اندوزی کرنیوالوں سے سختی سے نمٹنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عید پر سختی سے ایس اوپیز پرعملدرآمد کریں، عوام نے اس عید پر بداحتیاطی کی تو اس سے بہت بڑا نقصان ہوسکتا ہے عوام ایس اوپیز پر عمل کریں تو مل کر اس وبا کوختم کرسکتے ہیں عید کے بعد محرم ہے، احتیاط کرنا عوام پر بہت اہم ذمہ داری ہے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ عید کے فوراً بعد میڈیا کے بقایاجات کامعاملہ مکمل حل کریں گے،دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے 9 اگست کو ٹائیگر فورس ڈے منانے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے کہا شجرکاری مہم میں ٹائیگر فورس کی مہم کا خود حصہ بنوں گا۔وزیراعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس کے نام اہم پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ارکان اسمبلی اور وزرائے اعلیٰ بھی مہم میں حصہ لیں گے، 2023 تک 10 ارب درخت لگانے ہیں، آلودگی کی وجہ سے لوگوں کی صحت پر اثر پڑ رہا ہے، گلوبل وارمنگ کے باعث پاکستان 10 متاثرہ ممالک میں شامل ہے، 9 اگست کو ملک بھر میں شجرکاری کریں گے)وزیرِ اعظم عمران خان نے تعلیم کے فروغ کے حوالے سے ٹیلی سکولنگ اور انٹرنیٹ کے ذریعے تعلیم کی فراہمی کے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوانوں کی صلاحیت کو برؤے کار لانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں تعلیم کے حصول میں آسانیاں فراہم کی جائیں،تعلیم جیسے ترجیحاتی شعبے کو یو ایس ایف کے دائرہ کار میں شامل کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات کو تیز کیا جائے۔ منگل کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک میں انٹرنیٹ کی وسیع اور بہتر کوریج کو یقینی بنانے اور ٹیلی کام شعبے سے متعلقہ ایشوز پر غور کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزراء شفقت محمود، محمد حماد اظہر، امین الحق، اسد عمر، مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، معاون خصوصی تانیہ ایدرس، سیکرٹری انفارمیش ٹیکنالوجی ڈویژن، چیئرمین پی ٹی اے، سی ای او یونیورسل سروس فنڈ و دیگر حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں ملک میں انٹرنیٹ کی وسیع اور بہتر کوریج کو یقینی بنانے اور ٹیلی کام سیکٹر کے حوالے سے متعلقہ ایشوزکے حل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ طالب علموں تک انٹرنیٹ کی آسان رسائی اور سستے پیکیج کی فراہمی کے حوالے سے بھی اقدامات اور ملک کے پس ماندہ علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ کی کوریج کو یقینی بنانے کے حوالے سے یونیورسل سروس فنڈ (یو ایس ایف) کے مختلف منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی کابینہ

مزید :

صفحہ اول -