فٹیف پر تعاون مانگا، اپوزیشن نے نیب قوانین پر 35مطالبات رکھ دیئے: شاہ محمود قریشی

  فٹیف پر تعاون مانگا، اپوزیشن نے نیب قوانین پر 35مطالبات رکھ دیئے: شاہ محمود ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ملک کی خاطر اپوزیشن سے تعاون مانگا مگر انہوں نے نیب قوانین پر 35 مطالبات رکھ دیئے،کرپشن پر عمران خان کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرتے، گرے لسٹ سے نکالنے کے لیے چار ترامیم فوری ناگزیر ہیں، اپوزیشن تنگ نظری نہ کرے ملکی مفاد کا سوچے میری اپیل ہے،ن لیگ،پی پی کو بتادیا وہ جو ترامیم چاہتے ہیں وہ نہیں ہو سکتیں اور اگر یہ ترامیم کر دی گئیں تو نیب کے ادارے کی افادیت ختم ہو جائے گی،یہ چیئرمین نیب کے اختیارات کم کرنا چاہتے ہیں اورچیئرمین نیب ن لیگ اورپی پی نے لگایا،اپوزیشن کی تجاویز کے تحت 14 سال ہی انکوائری کے نکالے جا سکتے ہیں،اپوزیشن نیب ترامیم سے ایف اے ٹی ایف میں پھنسنے کا خدشہ ہے،ایف اے ٹی ایف میں تو منی لانڈرنگ ٹرر فنانسنگ اہم جز ہیں،ایک ارب کی کرپشن پر نیب کو کیس بھیجنے کی تجویز ہے،اگر کسی نے ننانوے کروڑ روپے کرپشن کی تو کیا ہوگا،اپوزیشن کی ترامیم شائد پاکستان کے مفاد میں نہ ہوں،ہم اپوزیشن ترامیم کی حمایت نہیں کر سکتے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اپوزیشن اپنی ترامیم پر نظرثانی کرے،اپوزیشن ترمیم کے مطابق پبلک آفس ہولڈر پر جرم ثابت ہوتا ہے توسزا دس نہیں پانچ سال کریں۔منگل کو قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں آ چکا ہے۔بھارت پاکستان کو گرے سے بلیک لسٹ میں دھکیلنا چاہتا تھا۔ایف اے ٹی ایف سفارشات کے حوالے سے قانون سازی کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے 11 بل پیش کئے گئے ہیں۔ 4 بلز پر فوری قانون سازی کرنا ہے جس کی رپورٹ ایف اے ٹی ایف پلینری کو بھیجی جائیں گی۔ایف اے ٹی ایف یہ سفارشات اپنے اکتوبر میں ہونے والے اجلاس میں پیش کریگی،جس کے بعد پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا نہ نکالنے کا فیصلہ کیا جائیگا۔ہم ایف اے ٹی ایف پر اپوزیشن سے پاکستان کے لئے تعاون چاہتے ہیں۔ اپوزیشن سے تعاون حکومت کے لیے نہیں پاکستان کے لیے مانگا ہے۔حیران کن بات ہے کہ اپوزیشن نے کہا کہ ہم ایف اے ٹی ایف کے ساتھ نیب آرڈیننس پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں۔اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ نیب قوانین پر بھی ساتھ ہی بات کریں،اپوزیشن نے کہا پیکیج ڈیل ہوگی،اپوزیشن نے کہا بات نیب قانون کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی،جس کے پیش نظرن لیگ اور پی پی نے نیب قوانین پر مشترکہ مسودہ پیش کیا۔شاہ محمود نے کہا کہ ا پوزیشن چاہتی ہے کہ نیب قانون کا اطلاق 16نومبر 1999سے ہو جبکہ 14 سالہ دور کی کرپشن کا احتساب نہ کیا جائے اور اسے چھوڑ دیا جائے،چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں بھی کمی کی جائے۔ ان کے ڈرافٹ میں منی لانڈرنگ کو اس قانون سے نکال دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اگر ایسا ہوجائے تو پھر ایف اے ٹی ایف کے مطالبات تو بے معنی ہوجا ئیں گے۔شاہ محمود نے کہا کہ جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی ملک آگے نہیں بڑھے گا،اورعمران خان کرپشن پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔اپوزیشن کہتی ہے بینک قرضے کے ڈیفالٹرز کو نیب قانون سے نکال دیا جائے۔ اگر ہم اپوزیشن کی 35ترامیم مان لیتے ہیں تو ایف اے ٹی ایف سے ملنے والی سہولت نہیں لے پائیں گے۔ایک مرتبہ پھر اپوزیشن کو پاکستان کو گرے لسٹ سے آزادی کے لئے تعاون کرنے کی اپیل کرتا ہوں اور اپوزیشن تنگ نظری کامظاہرہ نہ کرے یہ ملک کا مسئلہ ہے۔دریں اثناء قومی اسمبلی اجلاس میں حکومت نے سزائے موت کے خلاف اپیل کی مدت بڑھانے کے بل کی حمایت کردی اور مذکورہ بل کو قانون انصاف کمیٹی کے سپر د کر دیا گیا۔جبکہ نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کا بل قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا۔

شاہ محمود قریش

مزید :

صفحہ اول -