نیب قوانین میں ترمیم پر ڈیڈ لاک برقرار، اپوزیشن کا مذاکرات ختم کرنے کا اعلان، حکومت کا اسمبلی میں بل پیش کرنے کا فیصلہ

  نیب قوانین میں ترمیم پر ڈیڈ لاک برقرار، اپوزیشن کا مذاکرات ختم کرنے کا ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) نیب قوانین میں ترمیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار ہے۔ تجاویز مسترد ہونے پر حزب اختلاف نے کمیٹی سے واک آؤٹ کر دیا۔اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ حکومت کی نیت خراب ہے، اب کمیٹی میں جانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وسیع تر قومی مفاد میں (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کا موقف ایک ہے۔حکومت نے نیب قانون میں اپوزیشن کی ترامیم کو مسترد کر دیا ہے۔۔ادھر نیب ترامیم پر تجاویز اور سفارشات کے اہم نکات بھی شامنے آ گئے ہیں۔ اپوزیشن نیب قانون میں بڑی تبدیلیوں اور اختیارات میں کمی کی خواہشمند ہے۔ حزب اختلاف نے کہا ہے کہ نیب کے موجودہ قانون میں اختیارات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔اپوزیشن کا موقف ہے کہ دیگر عدالتوں کی موجودگی میں احتساب عدالتوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ان تجاویز میں نیب عہدیداروں کے میڈیا پر بیان دینے پر پابندی کی سفارش کی گئی ہے۔اپوزیشن کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ سیاسی شخصیات کی کرپشن پر نااہلی 10 کے بجائے 5 سال جبکہ ایک ارب سے کم مالیت کی کرپشن نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہونی چاہیے۔تجویز میں کہا گیا ہے کہ 5 سال پرانی ٹرانزیکشنز نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں ہونی چاہیں۔ اپوزیشن نے مطالبات نہ ماننے پر حکومت کو قانون سازی میں تعاون نہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔دریں اثنا وفاقی حکومت نے نیب قانون پر ڈیڈ لاک پیدا ہونے کے بعد اپوزیشن کی رضامندی کے بغیر بل پارلیمنٹ میں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اس سلسلے میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی جانب سے جاری اہم بیان میں کہا گیا ہے کہ نیب قانون پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا۔ جو اپوزیشن کی خواہش ہے وہ ہم پوری نہیں کر سکتے۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے لیے بنائے گئے قوانین کو نیب سے جوڑنا چاہتی ہے۔ اپوزیشن چاہتی ہے کہ 2015ء سے پہلے کے کیسز اور 1985ء سے 1999ء تک ہونے والی کرپشن پر ہاتھ نہ ڈالا جائے۔بعد ازاں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے نیب آر ڈینس سمیت دیگر بلوں پر حکومت سے مذاکرات ختم کر نے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق نیب قوانین میں ترمیم پر راضی نہیں، ہم نے کمیٹی سے واک آؤٹ کر دیا ہے، اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی،سا، خواجہ آصف، رانا ثناء اللہ،پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان اور (ن) لیگ کے عطاء اللہ تارڑ نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ گزشتہ کچھ دنوں سے بات چل رہی تھی کہ حکومت اور اپوزیشن کی بل پر بات ہو رہی ہے، یہ بھی کہا گیا کہ معاملے پر پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے، حکومت نے کہا تھا چار بل دونوں ایوانوں سے پاس کرانا چاہتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ان بلوں میں یو این سکیورٹی کونسل اور نیب آرڈیننس میں ترمیم بھی شامل ہے، یہ اتفاق ہوا کہ چاروں بل اسی سیشن میں قومی اسمبلی سے پاس ہونگے،انسداد دہشت گردی بل کی ترمیم اتنی خطرناک تھی کہ ہم نے کہا اس کے بعد جمہوریت نہیں رہے گی۔انہوں نے کہاکہ نیب بل جو حکومت لائی تھی وہ وہی ہے جو پہلے لایا گیا، نیب بل میں ایک اضافہ تھا جو قانون شہادت کی نفی تھی۔سابق وزیر اعظم نے کہاکہ ہم نے کہا یہ بل پاس نہیں ہوسکتا، ہم نے کہا ایک نیا بل اتفاق رائے سے پاس کیا جائے گا، ہم نے سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق حکومت سے کہا کہ یہ ترامیم نیب بل میں ہونی چاہئیں، اب ہمیں بتایا گیا ہے کہ حکومت ان ترامیم سے راضی نہیں ہے،اب حکومت گْڈ فیٹھ میں اس پر بات نہیں کر رہی، اب حکومت بات نہیں کر رہی اس لئے کمیٹی سے واک آؤٹ کیا، اب ہماری مشاورت اے پی سی میں ہوگی۔شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہمارے فیصلے اب اے پی سی سے ہونگے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہاکہ پیپلز پارٹی بھی ن لیگ کی تجاویز سے اتفاق کرتی ہے، ہمیں امید ہے ابھی بھی ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس کے مطابق ترامیم ہوں، لیکن حکومت ہمیں مخلص نظر نہیں آرہی، یہ اپنے اختلافات مینیج نہیں کر پارہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ ہم نے حکومت سے یہ کہا کہ بتا دیں کون سی ترامیم آپ کو پسند نہیں۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اکنامک ٹیرارزم پر ایک خطرناک بل لیکر آئی ہے۔ شیری رحمن نے کہاکہ ایف اے ٹی ایف کی ریکوائرمنٹس ہمارے سامنے نہیں لائی گئیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حکومت کے ساتھ اب کوئی مذاکرات نہیں ہونگے

ڈیڈ لاک

ڈیڈ لاک

مزید :

صفحہ اول -