ایس بی سی اے کا کارنامہ، غیر قانونی عمارت کی دوبارہ تعمیر

  ایس بی سی اے کا کارنامہ، غیر قانونی عمارت کی دوبارہ تعمیر

  

کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)ایس بی سی اے افسران کے عجب کارنامے،اپنے ہی ہاتھوں عمارتوں کی معمولی توڑ پھوڑ کرکے پھر اس پر دوبارہ تعمیرات کرنے کی اجازت دے کر افسران بالا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے لے،تفصیلات کے مطابق پلاٹ نمبر AV 41 اور 42 انگارہ گوٹھ لیاقت آباد پر شاپس پلس میزنائن پلس فور کی غیر قانونی تعمیرات کی گئیں تھی جس پر شہری کی جانب سے ہائی کورٹ میں مقدمہ کیا گیا تھا مقدمے کے بعد ایس بی سی اے افسران نے تھرڈ اور فورتھ فلور پر نمائشی توڑ پھوڑ کی تھی جس کے بعد شہری نے مقدمہ واپس لے لیا تھا،مقدمہ واپس لینے کے کچھ دنوں بعد ہی افسران نے بھاری رشوت لے کر دوبارہ تعمیرات کی اجازت دے دی تھی جس کی خبر روزنامہ پاکستان نے 13 جنوری 2020 کو شائع کی تھی،خبر کی اشاعت کے بعد ایس بی سی اے نے دوبارہ تعمیرات کا کام رکوادیا تھا مگر لاک ڈاؤن کے دنوں میں ایس بی سی اے افسران نے دوبارہ بھاری نذرانے لے کر پلاٹ نمبر AV 41 اور 42 پر دوبارہ غیر قانونی تعمیرات کا کام شروع کروادیا،لاک ڈاون کے دوران بلڈر نے تعمیرات کا کام تیز کرتے ہوئے تیسری اور چوتھی منزل مکمل کرنا شروع کردی جو کہ اب تکمیل کے آخری مراحل میں ہے،اس ضمن میں شہریوں کا کہنا ہے کہ لیاقت آباد میں لاک ڈاؤن کے دوران ایس بی سی اے افسران درخواستوں پر یہ کہہ کر عمل نہیں کرتے تھے کہ کورونا کے باعث ہم گھر پر ہیں لیکن رشوت کے پیسے وصول کرنے کے لیے تمام ایس او پیز کو پس پشت ڈال دیا جاتا تھا،لیاقت آباد میں لاک ڈاؤن کے دوران سیکڑوں غیر قانونی تعمیرات قائم کی گئیں اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے ،شہریوں کی کی جانب سے دی جانے والی درخواستوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جاتا ہے،اہل علاقہ نے وزیر بلدیات،اور ڈی حی ایس بی سی اے سے اپیل کی ہے کہ پلاٹ نمبر AV 41 اور 42 پر غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس لیتے ہوئے اسے منہدم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں

مزید :

صفحہ آخر -