عمر اکمل کی سپا ٹ فکسنگ معاملے میں تین سالہ پابندی کی سزا کے خلاف اپیل پر عدالت نے تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

عمر اکمل کی سپا ٹ فکسنگ معاملے میں تین سالہ پابندی کی سزا کے خلاف اپیل پر ...
عمر اکمل کی سپا ٹ فکسنگ معاملے میں تین سالہ پابندی کی سزا کے خلاف اپیل پر عدالت نے تہلکہ خیز فیصلہ سنا دیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ایڈ جیو ڈیکٹر جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد نے عمر اکمل کی تین سالہ پابندی کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنا دیاہے ،کھلاڑی پر تین سالہ پابندی کو کم کرتے ہوئے ڈیڑھ سال کر دیا گیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق ایڈ جیو ڈیکٹر جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد نے عمر اکمل کی اپیل پر 13 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا جو کہ آج سنا دیا گیاہے ، عدالت نے عمر اکمل کی پابندی تین سال سے کم کرتے ہوئے ڈیڑھ سال کر دی ہے ، عمر اکمل کی سزا اگست 2021 میں مکمل ہو جائے گی تاہم اس دوران وہ کسی قسم کی کرکٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گے ۔

اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پرعمراکمل نے اپنی 3 سالہ پابندی کو چیلنج کیا تھا۔اپیل کے کیس کی ایک سماعت ہوئی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا۔عمر اکمل کو اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پرتین سال کی پابندی کی سزا سنائی گئی تھی۔

20 فروری کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعہ 4.7.1 کے تحت عمر اکمل کو فوری طور پر معطل کر دیا تھا اور اینٹی کرپشن یونٹ کی جانب سے جاری تحقیقات شروع کی گئی تھیں۔ اس معطلی کی وجہ سے عمر اکمل پاکستان سپر لیگ 5 میں بھی حصہ نہیں لے سکے تھے۔

بعد ازاں یہ خبریں سامنے آئیں کہ عمر اکمل کو بکی نے میچ فکسنگ کی پیشکش کی تاہم وہ اس کی اطلاع بروقت پی سی بی کو دینے میں ناکام رہے۔اس کے بعد عمر اکمل کے فون کا ڈیٹا پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے اینٹی کرپشن یونٹ نے اپنے پاس رکھ لیا اور عمر اکمل کو طلب کرکے ان کے دونوں فونز قبضے میں لے لیے۔

ریکارڈ کے مطابق پی ایس ایل 2020سے پہلے بکی نے عمر اکمل سے رابطہ کیا اور انہیں فکسنگ کی پیشکش کی۔ان ٹھوس شواہد کے ہاتھ لگنے کے بعد پی سی بی نے کارروائی کی اور پھر عمرل اکمل نے بھی بکی سے رابطہ ہونے کا اعتراف کرلیا تاہم پی سی بی یا ٹیم مینجمنٹ کو بروقت آگاہ نہ کرنے پر ان کی معطلی برقرار رکھی گئی۔20 مارچ کو کرکٹر عمر اکمل پر اینٹی کرپش کوڈ کی خلاف ورزی کی فردجرم عائد کی گئی اور عمر اکمل کو 31 مارچ تک جواب داخل کرنے کی مہلت دی گئی۔

ٹیسٹ کرکٹر کو اینٹی کرپشن کوڈ 4.2.2 کے تحت چارج کیا گیا اور ان پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے دو بار قانون کی خلاف ورزی کی۔پی سی بی انٹی کرپشن کوڈ کا آرٹیکل 4.2.2 کسی بھی فرد کی جانب سے کرپشن کی پیشکش کے بارے میں پی سی بی ویجیلنس اینڈ سیکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کو آگاہ نہ کرنا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -کھیل -