ایک کروڑ نوکریاں دینے والو ہمیں 2 کروڑ گالیاں۔۔۔راجہ پرویز اشرف نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم عمران خان کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

ایک کروڑ نوکریاں دینے والو ہمیں 2 کروڑ گالیاں۔۔۔راجہ پرویز اشرف نے ایسی بات ...
ایک کروڑ نوکریاں دینے والو ہمیں 2 کروڑ گالیاں۔۔۔راجہ پرویز اشرف نے ایسی بات کہہ دی کہ وزیراعظم عمران خان کی پریشانی کی کوئی حد نہ رہے گی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہےکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ بات ظاہر کرنے کی کوشش کی حکومت میں بیٹھے لوگ ایماندار اور اپوزیشن میں بیٹھے لوگ کرپٹ ہیں،ہم کہتے ہیں احتساب ہر شخص کا ہونا چاہیے اس کی ایک شرط ہے کہ وہ سب کا ہو ، سیاست کو گالی بنا دیا گیا ہے، حکومت کا کام تماشا لگانے کی بجائے عوام کو ڈلیور کرنا ہوتا ہے، ایک کروڑ نوکریاں دینے والو ہمیں 2 کروڑ گالیاں دیدو مگر کچھ نہیں تو 10 ہزار نوکریاں تو دے دو۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ وزیر خارجہ نے کل ڈیڑھ گھنٹہ تقریر کی ہم نے خاموشی سے ان کی تقریر سنی،میں ذمہ داری سے بات کر رہا ہوں کہ ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر کا لبِ لباب  یہ تھا کہ اپوزیشن کرپٹ ہے اور اپوزیشن چاہتی ہے کہ نیب قانون تبدیل ہو جائے،وزیر خارجہ نے یہ بات ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حکومت میں بیٹھے لوگ ایماندار اور اپوزیشن میں بیٹھے لوگ کرپٹ ہیں،ہم کہتے ہیں احتساب ہر شخص کا ہونا چاہیے اس کی ایک شرط ہے کہ وہ سب کا ہو۔انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف قومی مسئلہ بن چکا ہے،وزیر خارجہ نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اپوزیشن کی ایف اے ٹی ایف میں کوئی دلچسپی نہیں، اپوزیشن کی دلچسپی صرف نیب قانون ہے، بہتان بازی اور الزام تراشی کا ہماری سیاست میں چلن رہا ہے،بدقسمتی سے یہ وطیرہ بن چکا ہے،و زیر خارجہ بتائیں کہ ایف اے ٹی ایف کا بل کس وقت کمیٹی میں آیا؟6 ماہ کا وقت گزر چکا ہے ،اس بل پر بات اس لئے نہیں ہوئی کہ حکومت نے ہر بار کہا کہ مشیر خزانہ دستیاب نہیں،6 ماہ سے اس بل پر کارروائی نہیں ہوئی، آج ہمیں طعنہ دیا جا رہا ہے، اس مشیر کا ملک سے کوئی لینا دینا نہیں ، ملک ایف اے ٹی ایف میں رہے یا نہ رہے ،اس غیر منتخب شخص کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ  بہت ہو گیا آپ نے اپوزیشن کو 2سال مسلسل چور کہا، اگر یہ وطیرہ جاری رہتا ہے ایک ڈھنڈورار پیٹتے ہوئے کہ آپ ایماندار ہم کرپٹ مگر خدا کی قسم پاکستان کی عوام اور اعلیٰ ترین عدالت اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں، نیب قانون کی سب سے پہلے زد پیپلز پارٹی پر پڑی،میری قائد بے نظیر بھٹو نے بھی یہ بھگتا ہے،کل مسلم لیگ(ن)کہتی تھی کہ ہمارا کوئی سکینڈل نہیں، آج کتنے سکینڈل ہیں کل حکومت کی باری ہے،سپریم کورٹ نے حکومت کے بارے میں لکھا کہ نااہل اور بونے لوگوں کومسلط کیا جاتا ہے،اگر حکومت کو اس فیصلے سے مسئلہ ہے تو سپریم کورٹ جا کر احتجاج کریں اور اس جملے کو خذف کروائیں،اعلیٰ عدالت نے کہا کہ نیب سیاسی پوائنٹ سکورننگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت جس راستے پر چل رہی ہے میں دیوار میں لکھا پڑھ رہا ہوں، ان کی بولتی بند ہونے والی ہے،حکومت ہمیں جس بل سے گزارنا چاہتی ہے گزارے ہم تیار ہیں،حکومت بتائے اس نے اپوزیشن کو چور چور کہنے کے علاوہ عوام کی بہتری کیلئے کیا کیا ہے؟حکومت کی گالیاں کیا 22 کروڑ عوام کو نوکریاں، آٹا اور پٹرول دے رہی ہیں،ایک کروڑ نوکریاں دینے والو ہمیں 2 کروڑ  گالیاں دیدو مگر کچھ نہیں تو عوام کو  10 ہزار نوکریاں تو دے دو، حکومت کے پاس کوئی ایجنڈا نہیں، اِنہوں نے سیاست کو گالی بنا دیاہے، حکومت کا کام تماشا لگانے کی بجائے عوام کو ڈیلیور کرنا ہوتا ہے۔

مزید :

قومی -