مراد سعید نے ایک بار پھر اپوزیشن کی دم پر پاؤں رکھ دیا ،قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر کی دھواں دار تقریر نے حزب اختلاف کے چھکے چھڑا دیئے 

مراد سعید نے ایک بار پھر اپوزیشن کی دم پر پاؤں رکھ دیا ،قومی اسمبلی میں وفاقی ...
مراد سعید نے ایک بار پھر اپوزیشن کی دم پر پاؤں رکھ دیا ،قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر کی دھواں دار تقریر نے حزب اختلاف کے چھکے چھڑا دیئے 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے،اگر شاہ محمود جواب دینا چاہتے ہیں تو سننے کی ہمت کیوں نہیں؟ حقائق یہ ہیں کہ پاکستان انکی وجہ سے گرے لسٹ میں گیا،پاکستان اِن کی منی لانڈرنگ اور لوٹ کھسوٹ سے گرے لسٹ میں آیا، اِنہیں این آر او نہیں ملے گا، سارے کے سارے نیب زدہ ہیں،زرداری کے جے آئی ٹی کیس کو استثنیٰ نہیں دیں گے،جتنامرضی شور کرلیں کسی کوبھی این آر او نہیں ملے،کسی کو بھی معاف نہیں کریں گے،انشاء اللہ احتساب ضرور ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کا کہنا تھا کہ اپوزیشن پارلیمنٹ کو اپنی کرپشن چھپانے کے لیے استعمال کرتی ہے،رمضان شوگر مل اور انکے باقی کیسز نہیں معاف کریں گے، ریمنڈڈیوس کو این آر او کس نے دیا؟ یہ امریکہ سے ڈومور کی پرچی لے کر آتے تھے،آج وزیراعظم کشمیر کے سفیر ہیں،کہا گیا کہ رکن اسمبلی نے ملک کو لوٹا ہو تو معاف کردیں، ہم نہیں کریں گے،ہم پاکستان کے گرے سے وائٹ لسٹ میں لانیکی قانون سازی کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ شوگر انکوائری میں عمران خان اور شاہ محمود قریشی کا نہیں زردای اور شریف خاندان کا نام ہے، ہم شوگر چوروں کو این آر او نہیں دیں گے، یہ کہتے ہیں ہم نے چوری کی لیکن این آر او دے دیں۔مراد سعید نے کہا کہ بارشوں کی وجہ سے کراچی میں لوگوں کی اموات ہوئیں، کراچی پانی میں ڈوب چکا ہے،ایف اے ٹی ایف کے قانون منظور کرلئے قوم نے ان کا چہرہ دیکھ لیا،عوام نے دیکھ لیا یہ اپنے احتساب سے بچنے کے لئے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو پھنسانے کی کوشش کی۔وفاقی وزیر مراد سعید کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور سپیکر ڈائش کا گھیراؤ کیا۔مراد سعید کی تقریر کے بعدڈپٹی سپیکر نے ایم ایم اے کے مولنا اسعد محمود کو مائیک دیا اور حکومتی ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور ڈیزل ڈیزل کے نعرے لگائے،جس پر ڈپٹی سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا۔

مزید :

قومی -