تحفظ بنیاد اسلام بل کے تحفظات پر مشاورتی عمل شروع ہو چکا،پیغام پاکستان کو قانونی شکل دی جائے:علامہ طاہر اشرفی

تحفظ بنیاد اسلام بل کے تحفظات پر مشاورتی عمل شروع ہو چکا،پیغام پاکستان کو ...
تحفظ بنیاد اسلام بل کے تحفظات پر مشاورتی عمل شروع ہو چکا،پیغام پاکستان کو قانونی شکل دی جائے:علامہ طاہر اشرفی

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن )عوام الناس قربانی کے عمل میں احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کریں ، 5 اگست مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف یوم استحصال کشمیر کے طور پر منایا جائے گا،ملک میں فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی سازشوں کو ناکام بنائیں گے،اصحاب رسولؐ و اہل بیت ؓ ، خلفاء راشدین ؓ، ازواج مطہراتؓ کی توہین و تنقیص و تکفیر کرنے والوں کے خلاف حکومت کو سخت کاروائی کرنی ہو گی، تمام مکاتب فکر کے علماء اصحاب رسول ﷺ و اہل بیت ؓ کی توہین ، تنقیص و تکفیر کو حرام قرار دے چکے ہیں،پیغام پاکستان کو قانونی شکل دی جائے ، پیغام پاکستان تمام مکاتب فکر کی مشترکہ دستاویز ہے جس کو قانونی شکل دینا وقت کی ضرورت ہے،31 جولائی کو جمعۃ المبارک کو یوم ناموس رسالتﷺ اصحاب رسول ؐو اہل بیت ؓپر خطبات جمعہ ہوں گے،ملک میں انتشار کے خاتمے اور رواداری کیلئے تمام مکاتب فکر اپنا کردار ادا کریں گے،تحفظ بنیاد اسلام بل پر پیدا ہونے والے تحفظات پر مشاورتی عمل شروع ہو چکا ہے،اسلامی نظریاتی کونسل،متحدہ علماء بورڈ سے بھی مشاورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔

یہ بات چیئرمین پاکستان علماء کونسل و صدر دارالافتاء پاکستان حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ، اس موقع پر مولانا نعمان حاشر ، مولانا محمد خان لغاری ، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری ، مولانا پیرمحمد ایوب صفدر، مولانا قاسم قاسمی ، مولانا طاہر عقیل اعوان ، مولانا حفیظ الرحمن ، مولانا ابو بکر صابری ، مولانا محمد اشفاق پتافی ، علامہ زاہد حسین اور دیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کورونا کی وباء میں کمی آئی ہے ، عوام الناس سے گذارش ہے کہ قربانی کے عمل میں مکمل احتیاطی تدابیر اختیار کریں ، 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کے خلاف یوم سیاہ یوم استحصال کشمیر کے طور پر منایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران ملک میں فرقہ وارانہ انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، تمام آسمانی مذاہب اور مکاتب فکر کی تعلیمات ، مقدسات کے احترام کا درس دیتی ہیں،ملی یکجہتی کونسل اور متحدہ علماء بورڈ کا ضابط اخلاق واضح ہے اور تمام مکاتب فکر کے علماء و خطباء، ذاکرین ، واعظین کو اس پر عمل کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ تحفظ بنیاد اسلام بل پر تحفظات دور کرنے کیلئے مشاورتی عمل درست سمت قدم ہے ۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور متحدہ علماء بورڈ سے بھی اس پر مشاورت کی جا سکتی ہے ، متحدہ علماء بورڈ نے 103 سے زائد کتابوں اور تحریروں کے حوالے سے فیصلے کیے ہیں۔توہین ناموس رسالت و اصحاب رسول ؐ و اہل بیت ؓ کا الزام بہت حساس ہے ، متحدہ علماء بورڈ کسی کی خواہشات پر فیصلہ نہیں کرتا ۔ قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت کا حج کو محدود کرنے کا فیصلہ درست سمت قدم ہے،حجاج و زائرین کیلئے سعودی عرب کی حکومت نے ہمیشہ بہتر سے بہتر انتظامات کیے ہیں،کورونا کی وبا کے باوجود ان شاء اللہ حج ہو گا ،عرفات کے میدان میں لبیک کی صدا کے نتیجہ میں اللہ کی رحمت نازل ہو گی، تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ نے خطباء آئمہ ، علماء و مشائخ سے اپیل کی ہے کہ 31 جولائی کے جمعۃ المبارک میں ناموس رسالتﷺ اصحاب رسول  و اہل بیت ؓپر عوام الناس کو رہنمائی دیں ا ور ملک میں رواداری ، بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب مکالمہ کی ضرورت اور اہمیت کو بیان کریں۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -