سٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے ہدایات جاری کر دیں

سٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے ہدایات جاری کر دیں
سٹیٹ بینک نے اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے ہدایات جاری کر دیں

  

کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بینک دولت پاکستان نے شریعت سے ہم آہنگ خدمات کی رسائی اور حصہ بڑھانے اور مالی شمولیت میں اضافے میں اسلامی بینکاری ونڈوز (آئی بی ڈبلیو) کے نمایاں امکانات کے پیش نظر اسلامی بینکاری ونڈوز کے کام کا دائرہ وسیع کرنے کے لیے آج بینکوں کو نظر ثانی شدہ ہدایات جاری کی ہیں۔

اسلامی بینکاری ونڈوز اب اپنے صارفین کو کارپوریٹ، ایس ایم ایز، زراعت، ہاؤسنگ ، اور صارفین سمیت ہر قسم کی فنانسنگ پراڈکٹس پیش کر سکتی ہیں۔ تاہم یہ سہولت اس امر سے مشروط ہے کہ متعلقہ اسلامی بینکاری ونڈو برانچ کو تین سال کی مدت کے اندر مکمل اسلامی بینکاری برانچ میں تبدیل کردیا جائے گا،فی الحال سٹیٹ بینک سےمنظوری،لائسنس ملنےکےبعدمکمل اسلامی بینک،روایتی بینکوں کےاسلامی بینکاری ذیلی ادارے اوراسلامی بینکاری برانچیں اسلامی بینکاری مصنوعات اور خدمات پیش کررہی ہیں۔ روایتی بینک سٹیٹ بینک کی اجازت سے اسلامی بینکاری ونڈوز کھول سکتے ہیں، جو روایتی برانچوں میں مخصوص کاؤنٹر ہوتے ہیں تاہم انہیں فنانسنگ کی کوئی مصنوعات آفر کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس وقت ملک میں کام کرنے والے 11 بینکوں کی 1400 اسلامی بینکاری ونڈوز کے ساتھ ان کی فنانس تک رسائی میں بہتری لانے کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔

مزید برا ں، آبادی کی اکثریت کو شریعت سے ہم آہنگ فنانسنگ سہولتوں کی فراہمی کے ذریعے مالی شمولیت بڑھانے میں بھی مدد ملے گی،نظرثانی شدہ ہدایات میں موجودہ قواعد و ضوابط میں مختلف ترامیم یا اضافے بھی شامل کیے گئے ہیں جن میں بینکاری ونڈوز پر پالیسی سازی، اسلامی بینکاری ونڈوز میں سالانہ توسیع کے منصوبے جمع کروانا، اسلامی بینکاری ونڈوز کے لیے فزیکل سیٹ اپ اور ڈسپلے کے تقاضے، اسلامی بینکاری ونڈوز کھلنا اور بند ہونا، ان کی فیس کے ڈھانچہ اور رپورٹنگ کی شرائط میں ترامیم شامل ہیں۔ یہ نظر ثانی شدہ ہدایات سٹیٹ بینک کی جانب سے اسلامی بینکاری ونڈوز کے متعلق وقتاً فوقتا جاری کی گئی تمام سابقہ ہدایات کی جگہ لے لیں گی۔توقع ہے کہ اس نئے پالیسی اقدام سے اسلامی بینکاری کے لییقومی مالی شمولیت حکمت عملی کے تحت طے شدہ اہداف کے حصول میں مدد ملے گی جن میں 2023ء کے اختتام تک بینکاری صنعت کے مجموعی اثاثوں اور ڈپازٹس میں ان کا حصہ25 فیصد کرنے اور برانچ کے مجموعی نیٹ ورک میں 30 فیصد حصہ حاصل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

مزید :

بزنس -