جعلی دوائیں اور جعلی دودھ

جعلی دوائیں اور جعلی دودھ
جعلی دوائیں اور جعلی دودھ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستان میں جعلی ادویات کی بھرمار ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ چند روز  پہلے سرکاری اہل کاروں نے بیرون لوہاری گیٹ لاہور میں مخبر کی اطلاع پر چھاپے مار کر لاکھوں کی جعلی ادویات پکڑیں اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کا اظہار کیا تو کمال کی سینہ زوری دکھاتے ہوئے ان لوگوں نے ہڑتال کر دی متعلقہ لوگوں کے خلاف جلوس نکالنے کی تیاری شروع ہو گئی اور مطالبہ کیا کہ چھاپے مارنے سے پہلے ان کو اعتماد میں لیا جائے تاکہ وہ جعلی دوائیں آگے پیچھے کر دیں۔ یعنی چھپالیں کیا یہ جعلی دوائیوں کو بنانا اور فروخت کرنے کا قانون پاس ہونا چاہئے؟ یہ بہت ظلم اور زیادتی ہے کہ پنجاب میں جعلی دوائیوں کا دھندہ بند نہیں ہو رہا،  بے حال عوام کو پہلے ہی سو مشکلات ہیں۔

اشیائے ضرورت بالخصوص دودھ میں ملاوٹ پہلے دودھ میں پانی ڈالتے تھے ظلم کی انتہا ہے کہ اب پانی میں کیمیکل ڈال کر دودھ تیار کرتے ہیں وہ کیمیکل انسانی صحت کے لئے بہت ہی خطرناک ہے اور کیمیکل سے دودھ تیار کر کے سپلائی کرنے والوں نے نئے نئے راستے تلاش کر لئے ہیں بڑے بڑے ٹرکوں کی بجائے چھوٹی چھوٹی گاڑیاں تیار کروالی ہیں پانی والا دودھ تو مدتوں سے سن رہے ہیں دیکھ رہے ہیں پی رہے ہیں لیکن عوام دشمن خود غرض لوگوں نے آمدن کا نیا اور سستا ذریعہ کیمیکل نکال لیا ہے ایک  روز ایک جگہ دودھ کا بڑا ٹرک کھڑا تھا اس کے نیچے دو آدمی چھوٹی چھوٹی شیشیاں نکال کر بڑے بڑے کینوں میں ڈال رہے تھے ان کینوں میں پانی پہلے ہی بھرا ہوا تھا اور یہی دودھ موٹر سائیکلوں والے لوگوں کو سپلائی کرنے کے لئے لے جا رہے تھے عصر حاضر میں جعلی اشیا کی تیاری کو فروغ ملا وجوہ کچھ بھی ہوں لیکن چند سالوں سے ایسے گھناؤنے کاروبار کرنے والے چند لوگوں نے ترقی کر لی ہے اب جبکہ عوام کی صحت سے کھیلنے والے ایسے دھندوں کی جڑیں معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل چکی ہیں اور اس کے خطرناک نتائج سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں تو ایوان اقتدار کے مکینوں کو بھی اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے لئے اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

چند روز  پہلے کسی اخبار یا ٹی وی کے رکن نے تقریباً ساڑھے تین ہزار فیکٹریوں کا حوالہ دیا بڑی تفصیل سے ان کے مالکوں کا ذکر کیا گیا کہ جعلی دوائیاں بنانے والے لوگوں کو کیوں سزائیں نہیں ملتیں اور وہ کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں جو فیکٹریاں جعلی دوائیاں بناتی ہیں ان کو ختم کرنا عوام کے مفاد میں  ہے۔ اس طرح جعلی دودھ تیار  یا فروخت کرنا ایک سنگین جرم ہے، ایسا گھناؤنا کاروبار کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دودھ یا دیگر ضروریات زندگی میں ملاوٹ کا کاروبار کوئی ایک جرم یا دو چار ہفتوں یا مہینوں میں نہیں ہو رہا اس میں کچھ سال لگے ہیں یہ بھی خیال آتا ہے کہ ارباب اختیار ارباب اقتدار سمیت اس طرح کے مکروہ دھندے کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے میں بری طرح ناکام رہے ہیں انہوں نے غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا،  ان کی باز پرس نہیں کی گئی۔  دودھ میں ملاوٹ کرنے والے مافیا کو جیلوں میں بند ہونا چاہیے، یہ مافیا جعلی دوائیاں بنانے والوں کی طرح اتنا طاقتور کیوں ہوا۔

ان کی حوصلہ افزائی کیونکر ہوئی، جب یہ مافیا طاقتور ہو رہا تھا تو اربابِ اقتدار نے آنکھیں کیوں بند رکھیں۔ اب جبکہ ملک میں عوام کی اکثریت بیمار ہو گئی ہے اب دو سال سے اللہ کی طرف سے دنیا میں کورونا کی وبا آئی ہے۔ تمام ملکوں نے اپنے اپنے عوام کے لئے بھرپور کوشش کرکے اس کا علاج تلاش کر لیا، لیکن اس وبا کے دوران بھی ان ظالم درندہ صفت لوگوں کو جعلی دوائیاں بند کرنے کا خیال نہیں آیا۔ چند روز پہلے ایک سروے میں تمام شہروں میں جعلی دوائیاں رکھنے والوں کا بتایا گیا مارکیٹوں کے نام لکھے گئے لیکن کیا مجال کہ اس مافیا نے توجہ دی ہو۔ اس حوالے سے کسی بھی قسمکا عذر، بدتر گناہ کے طور پر تسلیم کیا جائےّ اشیائے خور دو نوش میں ملاوٹ کے سدباب کے لئے مخصوص شعبے میں فوڈ انسپکٹروں کی فوج ظفر موجود ہے جن کی کارکردگی پر نظر رکھنا براہ راست حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اگر متعلقہ ذمہ دار لوگ، اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کرتے، عوام کے مفادات کا تحفظ نہیں کرتے تو پھر ان کو فارغ کرکے دوسرے لوگوں کو بھرتی کیا جائے۔

کوئی بھی عدالت جعلی اشیا بنانے والوں یا فروخت کرنے والوں کو ان کی سرپرستی کرنے والوں کو ریلیف نہیں دے گی۔ یہ کوئی سیاسی کیس نہیں، پاکستانی عوام کا کیس ہوگا۔ اس مکروہ دھندے کے خلاف سارے ملک کے عوام نے چیخ و پکار کی تو پھر ارباب اقتدار نے اس طرف توجہ دی ہے اور ڈرگ  ایکٹ میں سزاؤں جرمانوں وغیرہ کے لئے کوئی کام ہوا ہے، لیکن کوئی کیس بنے گا تو سزا اور جرمانے ہوں گے۔ اگر مافیا پہلے ہی دھونس سے جان چھڑا لے تو، لیکن افسوس ہے کہ پنجاب میں جعلی دوائیاں بنانے والی فیکٹریوں کی بھرمار ہے، پہلے لوگ  خیبر پختونخوا قبائلی علاقوں کا نام لیتے تھے۔ اب تو پنجاب میں یہ دھندہ عروج پر ہے اور دوائیاں اس قدر مہنگی کر دی گئی ہیں کہ شاید حکومت اپنے اقتدار کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔لال مرچ میں اینٹوں کا بورا شامل ہوتا ہے اکبری منڈی کے اردگرد چیک کر لیں۔ چائے میں چنوں کے چھلکے ڈال کر چائے کی پتی تیار ہوتی ہے صوبے میں تمام مشروب جعلی تیار ہوتے ہیں گلیوں میں محلوں میں چھوٹی چھوٹی مشینیں لگی ہوئی ہیں دیکھتے عوام ہیں، لیکن کسی کے پاس ٹائم نہیں ہے  جعلی اشیاء تیار کرنے والے گروپ ایک مافیا کی شکل اختیار کر چکے ہیں، شائد ہی کوئی کھانے پینے والی چیز ہو جو جعلی تیار نہ ہوتی ہو۔  لوگ گاڑیوں کا آئل جعلی تیار کر لیتے ہیں اور بازار میں دوکانوں پر فروخت ہوتا ہے چند ہفتے پہلے تربوز کا موسم تھا اس کو ٹیکہ لگا کر لال کر لیتے تھے دل تو کرتا ہے کہ ایک ایک چیز کے بارے میں لکھوں لیکن مضمون کی جگہ تھوڑی ہے ارباب اقتدار فوری توجہ دے کر جعلی اشیاء تیار کرنے والوں کو بڑی سے بڑی سزائیں دیں ایک فراڈ کا نیا دھندہ رینٹ اے کار  ہے کرائے پر گاڑی لو اور کسی کے پاس آدھی قیمت پر گروی رکھ دو اور غائب ہو جاؤ۔  مالک روتا رہے پولیس سے کارروائی کروانا کس قدر مشکل ترین مرحلہ ہے اس کے خلاف بھی حکومت کو فوری سخت سزا کا قانون بنانا ہوگا ورنہ یہ بھی ایک مافیا بن جائے گا۔

مزید :

رائے -کالم -